07/11/2025
بسم اللہ الرحمن الرحیم 🌙
ایّامِ فاطمیہ – دن 3
عنوان: بی بی فاطمہؑ کی شادی – سادگی اور روحانیت کی مثال
اسلام کی تاریخ میں اگر کسی شادی کو کامل ترین کہا جائے تو وہ ہے حضرت فاطمہ زہراؑ اور حضرت علیؑ کا نکاح۔ یہ نکاح صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو نوروں کا ملاپ تھا۔ ایک طرف نبیؐ کی لختِ جگر، فاطمہؑ، اور دوسری طرف شیرِ خدا علیؑ — دونوں کا رشتہ آسمانوں پر طے ہوا۔
جب رسولِ خدا ﷺ نے بی بیؑ سے فرمایا کہ علیؑ تمہارا رشتہ مانگنے آئے ہیں، تو بی بیؑ نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔ یہی خاموشی اُن کی رضا اور شرم و حیا کی علامت بنی۔ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
> “اے فاطمہ! اللہ نے تمہارا نکاح علیؑ سے آسمانوں پر کر دیا ہے۔”
یہ شادی دنیا کو سکھاتی ہے کہ ایک کامیاب ازدواجی زندگی کا راز دولت میں نہیں، بلکہ تقویٰ، محبت، اور ایمان میں ہے۔ فاطمہؑ کا جہیز چند معمولی چیزوں پر مشتمل تھا، مگر اس گھرانے کی روحانیت نے پوری اُمت کو متاثر کیا۔
حضرت علیؑ محنت کرتے، بی بیؑ گھر کی خدمت کرتیں، اور دونوں مل کر خدا کی عبادت میں زندگی گزارتے۔
یہ وہ گھر تھا جہاں سے حسنؑ و حسینؑ جیسے امام پیدا ہوئے۔ یعنی اگر بنیاد تقویٰ پر ہو تو نسلیں نور بن کر نکلتی ہیں۔
بی بیؑ کی شادی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم اپنی زندگیاں simplicity اور رضائے الٰہی کے ساتھ گزاریں تو ہمارے گھروں میں بھی سکون اور برکت پیدا ہوگی۔
ایّامِ فاطمیہ کے تیسرے دن کا پیغام یہی ہے کہ محبت کو مقصد بناؤ، دکھاوے کو نہیں۔
کیونکہ حقیقی خوشی سادگی میں چھپی ہے۔ 🌸