Jamia tul Anwar ISB

Jamia tul Anwar ISB جامعۃ الانور، مین ڈبل روڈ، ایچ بلاک، سواں گارڈن، اسلام آباد
JAMIA TUL ANWAR, H-BLOCK EXTENSION, SOAN GARDEN, ISLAMABAD

10/07/2026
19/06/2026

الحمدللہ اچھا پروگرام رہا۔۔۔۔ #

**دعوت نامہ** السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ**متحدہ علماء فورم** سواں گارڈن کے زیر اہتمام ایک نہایت اہم، علمی اور اتحاد...
19/06/2026

**دعوت نامہ**

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

**متحدہ علماء فورم** سواں گارڈن کے زیر اہتمام ایک نہایت اہم، علمی اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے خصوصی پروگرام:

# **عظمتِ صحابہ** **و اہلِ بیتؓ سیمینار**

منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں سواں گارڈن كی تمام مساجد كے ممتاز خطبائے عظام اور علماء کرام خطاب فرمائیں گے۔

یہ محض ایک سیمینار نہیں بلکہ:
🌿 قرآن و سنت کی روشنی میں تربیتِ امت کا پیغام،
🌿 صحابۂ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ سے محبت و عقیدت کے اظہار کا موقعہ،
🌿 باہمی احترام، اخوت، اعتدال اور وحدتِ امت کی عملی دعوت،
اور
🌿 نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا ایک مؤثر ذریعہ ہوگا۔

ہم سواں گارڈن كے معزز رہائشیوں سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ اس مشترکہ علمی و دعوتی پروگرام میں بھرپور شرکت فرما کر اتحاد، محبت اور بھائی چارے کے اس پیغام کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

**آئیے!**
اختلاف نہیں، احترام کو فروغ دیں۔
نفرت نہیں، محبت کو عام کریں۔
تقسیم نہیں، وحدتِ امت کو مضبوط بنائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی سچی محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور امتِ مسلمہ میں اخوت و اتحاد کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تشریف لائیے، اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور احباب کو بھی ساتھ لائیے، اور اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ آگے پہنچائیے۔

*والسلام علیكم ورحمة اللہ*

**مفتی منصور احمد**

خطیب جامع مسجد دار التوحید

(میزبان پروگرام)

برائے رابطہ وتفصیلات

مفتی غلام اللہ

03151517104

Jamia Tul Anwar, Islamabad is a well-rounded educational institute that aims to educate the younger generation in both I...
15/06/2026

Jamia Tul Anwar, Islamabad

is a well-rounded educational institute that aims to educate the younger generation in both Islamic and modern subjects. Our goal is not only to provide knowledge but also to build strong character and good manners in our students.

The roots of this institution go back to **Masjid Nabawi and Suffa**, the first madrasa of Islam. It was the center of Islamic learning where the Prophet Muhammad (peace be upon him) taught and spread Islam in every aspect of life. Following this great example, Jamia Tul Anwar strives to provide an education that develops both the mind and the soul.

At Jamia Tul Anwar, students learn the Holy Qur'an, Hadith, and Islamic studies alongside modern education. We believe that true success comes when religious knowledge and worldly education go hand in hand.

The institute also focuses on building high moral values such as honesty, respect, discipline, kindness, and responsibility. It aims to raise the new generation from the darkness of confusion and moral decline to the heights of knowledge, faith, and good character.

In Islam, the seekers of knowledge have a very high status. It is said that the angels spread their wings beneath the feet of the students of knowledge out of respect for them. Inspired by this noble teaching, Jamia Tul Anwar works to create an environment where students can grow spiritually, academically, and morally.

Jamia Tul Anwar, Islamabad, is not just a madrasa; it is a place where minds are educated, hearts are purified, and future leaders are prepared to serve Islam and humanity.

*مظلوم شہر مدینہ....!!* حیا کے پیکر، سخاوت کے سمندر، عاشق قران، دوہرا دامادِ نبی،سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی ...
04/06/2026

*مظلوم شہر مدینہ....!!*

حیا کے پیکر، سخاوت کے سمندر، عاشق قران، دوہرا دامادِ نبی،
سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر ایک نظر:

تحریر: ابو عبیدہ
جامع مسجد دارالتوحید،جامعۃ الأنور اسلام اباد

کبھی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیے...
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صرف پڑھا نہیں جاتا، بلکہ ان کے ذکر سے دل جھک جاتے ہیں، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور روح ادب سے کھڑی ہوجاتی ہے۔ ان ہی عظیم شخصیات میں ایک نام سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا ہے۔

وہ شخص جس سے فرشتے حیا کرتے تھے... وہ شخص جس نے اپنے مال کے دروازے اسلام کے لیے کھول دیے... وہ شخص جس نے قرآن کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا کہ قیامت تک امت اس کے احسان سے سبکدوش نہیں ہوسکتی... اور وہ شخص جو اپنے ہی گھر میں قرآن پڑھتے ہوئے شہید کردیا گیا۔

آج جب دنیا دولت مندوں کو ان کے محلات سے پہچانتی ہے، عثمانِ غنیؓ کو ان کی سخاوت سے پہچانا جاتا ہے؛ جب دنیا طاقتوروں کو ان کے لشکروں سے یاد کرتی ہے، عثمانؓ کو ان کی حیا سے یاد کیا جاتا ہے؛ اور جب دنیا حکمرانوں کو ان کے اقتدار سے جانتی ہے، عثمانؓ کو ان کی مظلومانہ شہادت سے جانا جاتا ہے۔

*نسب و پیدائش...!!*
آپ کا نام عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ القرشی الاموی ہے۔
آپ کی ولادت واقعۂ فیل کے تقریباً چھ سال بعد 576ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ قریش کے معزز، خوش حال اور باوقار خاندان بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جاہلیت کے دور میں بھی آپ پاکیزہ کردار، سچائی، امانت اور شرافت کے سبب ممتاز تھے۔
آپ خود فرمایا کرتے تھے:
"میں نے نہ زمانۂ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ کبھی شراب پی۔"
(البدایہ والنہایہ)

*قبولِ اسلام...!!*
جب اسلام کی پہلی کرنیں مکہ کی فضاؤں میں پھیل رہی تھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر عثمانؓ نے اسلام قبول کیا۔
آپ ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل ہیں۔
اسلام قبول کرنے پر خاندان اور قبیلے کی طرف سے شدید اذیتیں برداشت کیں، لیکن ایمان کی دولت کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

*ذوالنورین کا اعزاز...!!*
اسلامی تاریخ میں یہ اعزاز صرف سیدنا عثمانؓ کو حاصل ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں کا نکاح یکے بعد دیگرے آپ سے فرمایا۔
پہلے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا آپ کے نکاح میں آئیں، ان کے انتقال کے بعد سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے ہوا۔
اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین یعنی "دو نوروں والے" کہا جاتا ہے۔

*حیا کا وہ مقام...!!*
جہاں فرشتے بھی جھک گئے:
سیدنا عثمانؓ کی سب سے نمایاں صفت حیا تھی۔
رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ تشریف فرما تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ آئے، پھر سیدنا عمرؓ آئے، آپ ﷺ اسی حالت میں رہے، لیکن جب عثمانؓ آنے لگے تو آپ ﷺ نے اپنے کپڑے درست فرمائے۔
بعد میں ارشاد فرمایا:
"کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟"
( مسلم شریف)
*سوچیے!*
ایک طرف انسان... دوسری طرف فرشتے...
اور فرشتے بھی جس شخصیت سے حیا کریں، اس کے مقام کا اندازہ کون کرسکتا ہے؟

*سخاوت کی ایسی مثال...!!*
جس کی نظیر مشکل ہے:
اسلامی تاریخ میں جب بھی سخاوت کا ذکر ہوگا، عثمانؓ کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
*بئر رومہ کی خریداری!*
مدینہ میں پانی کی شدید قلت تھی۔
ایک یہودی کا کنواں "بئر رومہ" تھا جس سے لوگ قیمت دے کر پانی لیتے تھے۔
عثمانؓ نے وہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔
*غزوۂ تبوک!*
جب تبوک کا موقع آیا تو اسلامی لشکر مالی تنگی کا شکار تھا۔
عثمانؓ نے:
تین سو اونٹ
ستر گھوڑے
اور ہزاروں دینار
اللہ کی راہ میں پیش کردیئے۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں، انہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔"
(ترمذی)

*خلافت اور عظیم کارنامے...!!*
24 ہجری میں سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد آپ خلیفۂ ثالث منتخب ہوئے۔
آپ کی خلافت تقریباً بارہ سال جاری رہی۔
اس دوران:
اسلامی سلطنت وسیع ہوئی۔
شمالی افریقہ تک فتوحات ہوئیں۔
بحری بیڑے کی بنیاد رکھی گئی۔
مساجد کی توسیع ہوئی۔
اور سب سے بڑھ کر قرآن کریم کو ایک رسم الخط اور ایک مصحف پر جمع کرکے امت کو اختلاف سے بچایا گیا۔
آج دنیا بھر میں جو مصحفِ قرآن موجود ہے، وہ اسی عظیم خدمت کا نتیجہ ہے۔

*روایتِ حدیث میں مقام...!!*
سیدنا عثمانؓ محدث صحابی بھی تھے۔
آپ سے تقریباً 146 احادیث مروی ہیں۔
ان میں سے متعدد احادیث کو امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی صحیحین میں روایت کیا ہے۔
آپ کی روایات عبادات، طہارت، اخلاق، معاملات اور سیرتِ نبویؐ کے اہم ابواب پر مشتمل ہیں۔

*مظلومِ مدینہ...!!*
پھر وہ وقت آیا جب فتنہ سر اٹھانے لگا۔
جھوٹے پروپیگنڈے کیے گئے۔ الزامات لگائے گئے۔ باغیوں نے مدینہ کا محاصرہ کرلیا۔
صحابۂ کرامؓ لڑنے کے لیے تیار تھے، مگر عثمانؓ نے مسلمانوں کا خون بہنے سے روک دیا۔
وہ چاہتے تو ہزاروں جان نثار ان کی حفاظت کرتے، لیکن انہوں نے امت کی وحدت کو اپنی جان پر ترجیح دی۔

*شہادت کا دل سوز منظر...!!*
18 ذوالحجہ 35 ہجری...
82 سالہ بوڑھا خلیفہ...
روزے کی حالت...
گھر محاصرے میں...
ہاتھ میں قرآن مجید...
زبان پر تلاوت...
اور اچانک باغی اندر داخل ہوگئے۔
تلواریں چلیں... خون بہا...
اور قرآن کے اوراق پر عثمانؓ کا خون ٹپکنے لگا۔
یوں اسلام کا یہ عظیم محسن قرآن پڑھتے ہوئے شہید ہوگیا۔
روایات میں آتا ہے کہ جس آیت پر خون گرا وہ یہ تھی:
﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾
"عنقریب اللہ آپ کو ان کے مقابلے میں کافی ہوگا، اور وہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔"
(البقرۃ)

*امتِ مسلمہ کے نام...!!*
سیدنا عثمانِ غنیؓ کی شہادت کا پیغام:
آج عثمانؓ کی شہادت امت کو ایک بہت بڑا سبق دے رہی ہے...
جب کردار کی جگہ افواہیں لے لیں... جب تحقیق کی جگہ پروپیگنڈا لے لے... جب احترام کی جگہ بدزبانی لے لے... جب اصلاح کی جگہ بغاوت لے لے... اور جب اختلاف، دشمنی میں بدل جائے...
تو پھر عثمان غنی، حیا کے پیکر، سخاوت کے سمندر، قرآن کے عاشق، دامادِ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم جیسےلوگ بھی محفوظ نہیں رہتے۔
آج سوشل میڈیا کی دنیا میں کتنے عثمانؓ روز قتل ہورہے ہیں...
کسی کی عزت کو قتل کیا جا رہا ہے... کسی کی ساکھ کو قتل کیا جا رہا ہے... کسی کی نیت کو قتل کیا جا رہا ہے...
اور قتل کرنے والے خود کو حق کا علمبردار سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

*اے امتِ محمد ﷺ!*
عثمانؓ کی شہادت پر صرف آنسو نہ بہاؤ...
بلکہ اپنے دلوں کا جائزہ لو...
کہیں ہم بھی تو کردار کشی کے مجرم نہیں؟ کہیں ہم بھی تو جھوٹی باتیں آگے بڑھانے والوں میں شامل نہیں؟ کہیں ہم بھی تو مسلمانوں کے درمیان نفرتوں کی آگ بھڑکانے والوں میں شامل نہیں؟

*ابوعبیدہ کہتا ہے...!!*
عثمانؓ کا خون آج بھی مدینہ کی فضاؤں میں ایک سوال بن کر گونج رہا ہے...
کیا امت نے اپنے محسنوں کی قدر کرنا سیکھ لیا ہے؟
کیا ہم نے افواہوں پر یقین کرنے سے پہلے تحقیق کرنا سیکھ لیا ہے؟
کیا ہم نے اختلاف کے باوجود احترام کا دامن تھامنا سیکھ لیا ہے؟
یا ہم آج بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں جس راستے نے امت سے عثمانؓ جیسا گوہر چھین لیا تھا؟
*یاد رکھئے!*
عثمانؓ کی شہادت صرف ایک خلیفہ کی شہادت نہیں تھی، بلکہ یہ امت کو قیامت تک کے لیے ایک تنبیہ تھی کہ جب زبانیں بے لگام ہوجائیں، کردار کشی عبادت سمجھ لی جائے، اور فتنہ اصلاح کا نام اختیار کرلے، تو پھر تاریخ کے سب سے پاکیزہ انسان بھی الزامات کی زد سے محفوظ نہیں رہتے۔
*آج اگر...*
ہم عثمانؓ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں ان کے قاتلوں کی تلواروں سے نہیں، ان کے اسباب سے نفرت کرنا ہوگی...
جھوٹ سے...
بہتان سے...
بدگمانی سے...
نفرت سے...
اور امت کو تقسیم کرنے والے ہر فتنے سے...
*اے امتِ محمد ﷺ!*
عثمانؓ کی قبر سے اٹھنے والی خاموش صدا آج بھی یہی کہتی ہے:
"قرآن سے جڑ جاؤ تو محفوظ رہو گے..."
"حیا کو اپنا لو تو عزت پاؤ گے..."
"اتحاد کو تھام لو تو قوت پاؤ گے..."
"اور فتنوں کے پیچھے چل پڑے تو اپنا ہی نقصان کرو گے..."
آج...
بھی جنت البقیع کی خاموش مٹی گواہی دیتی ہے کہ یہاں ایک ایسا انسان سو رہا ہے جس سے فرشتے حیا کرتے تھے، جس نے اپنے مال سے اسلام کو طاقت دی، اپنے کردار سے حیا کو زندگی دی، اور اپنے خون سے امت کو یہ سبق دے گیا کہ:

قوموں کو دشمنوں کی تلواریں کم، اپنے لوگوں کی بدگمانیاں زیادہ تباہ کرتی ہیں۔
رضي الله عن عثمان بن عفان، وجمعنا الله به في الفردوس الأعلى. آمين۔... *صدائےدل*....

وہ جن کے قدموں...!!  سے مدارس آباد ہیں: (اربابِ مدارس سے ایک درد بھری فریاد)تحریر! ابوعبیدہ عید کا دن…ہر گھر میں خوشیوں ...
28/05/2026

وہ جن کے قدموں...!!
سے مدارس آباد ہیں:

(اربابِ مدارس سے ایک درد بھری فریاد)
تحریر! ابوعبیدہ

عید کا دن…
ہر گھر میں خوشیوں کے چراغ روشن ہوتے ہیں…
ماں اپنے بچوں کو نئے کپڑے پہنا رہی ہوتی ہے…
باپ مسکراتے ہوئے اپنے بیٹوں کو سینے سے لگا رہا ہوتا ہے…
ہر طرف خوشبوئیں، قہقہے اور محبتوں کی بہار ہوتی ہے…
مگر...!
انہی خوشیوں کے درمیان کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی عید… عید نہیں ہوتی…!
یہ مدارس کے وہ طلباء ہوتے ہیں…
جو اپنے گھروں کی محبت، ماں کی دعائیں، باپ کی شفقت اور بہن بھائیوں کی مسکراہٹیں چھوڑ کر مدرسے کی بقا کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں…
کوئی دھوپ میں کھڑا ہے…
کوئی گلیوں میں آوازیں لگا رہا ہے…
کوئی کندھوں پر بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے…
اور کوئی لوگوں کے سخت جملے سن کر بھی خاموشی سے آگے بڑھ جاتا ہے…
ان کے کپڑے اور جسم خون میں لت پت ہوتے ہیں…
کسی مارکیٹ اور قصاب خانے کے مزدور لگ رہے ہوتے ہیں...
جسم تھکن سے چور اور چہرے زرد ہو جاتے ہیں…
مگر ان کے دلوں میں ایک ہی فکر زندہ رہتی ہے:
“کہیں میرے مدرسے کا چراغ بجھ نہ جائے…”

اہلِ علم کے اقوال...!!
طلباء کرام کی عظمت:
یہی وہ مقام ہے جہاں اہلِ علم نے طلباء کی قدر کو عبادت قرار دیا ہے:
امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
“طلبۂ علم کی خدمت دراصل دین کی خدمت ہے، کیونکہ علم انہی کے ذریعے محفوظ رہتا ہے۔”
امام مالکؒ فرماتے ہیں:
“علم کی عزت یہ ہے کہ اس کے حاملین (طلبہ) کی عزت کی جائے۔”
امام احمد بن حنبلؒ سے منقول ہے:
“طالبِ علم کے ساتھ نرمی کرو، کیونکہ وہ دین کے چراغوں کو روشن کرنے والا ہے۔”
امام غزالیؒ لکھتے ہیں:
“طالبِ علم کی پرورش دراصل امت کی تعمیر ہے، کیونکہ یہی لوگ دین کے وارث بنتے ہیں۔”
حضرت علیؓ کا ارشاد ہے:
“مجھے دو قسم کے لوگ محبوب ہیں: عالم اور طالبِ علم، کیونکہ یہ دونوں ہدایت کے راستے کے مسافر ہیں۔”

اربابِ مدارس…!!
خدارا…
ان تھکے ہوئے چہروں کو صرف “عام بچے” نہ سمجھیے…!
یہ وہ بچے ہیں جو اپنی جوانی دینِ اسلام کی خدمت پر قربان کر رہے ہیں…
یہ وہ خاموش سپاہی ہیں جن کے دم سے آج بھی مدارس میں “قال اللہ” اور “قال الرسول ﷺ” کی صدائیں گونج رہی ہیں…
انہیں ڈانٹ سے زیادہ محبت کی ضرورت ہے…
انہیں حکم سے زیادہ شفقت چاہیے…
انہیں روٹی سے زیادہ عزت درکار ہے…
کیونکہ بعض اوقات ایک سخت جملہ برسوں کے حوصلے توڑ دیتا ہے…

ابوعبیدہ کہتا ہے…!!
جو طالبِ علم آج گرمی، تھکن، لوگوں کے رویّوں اور محرومیوں کو برداشت کرکے مدرسے کے لیے نکلتا ہے…
تصویر میں نظر آنے والے کوئی قصاب اور ذبح خانے کے مزدور نہیں
بلکہ...
یہ وہ ہیں جو کل کو محراب کا چراغ بنیں گے ، منبر کی صدا اور امت کا سہارا بنیں گے…
خدارا…
ان کے جذبوں کو مت توڑیے…
ان کے دلوں میں مدارس کی محبت کو زندہ رکھیے…
ان کی قدر کیجیے… یہ مدارس کی بقا اور دین کا سرمایہ ہیں…
کیونکہ...
جب ایک طالبِ علم اندر سے ٹوٹ جاتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں ٹوٹتا…
بلکہ ایک عالم، ایک خطیب، ایک داعی… اور پوری امت کا مستقبل بکھر جاتا ہے…

اللہ تعالیٰ ہمارے مدارس، اساتذہ اور طلباءِ کرام کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں ان کی صحیح قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے موقع پر مدیرِ جامعہ کا طلبہ سے الوداعی بیان
22/05/2026

عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے موقع پر مدیرِ جامعہ کا طلبہ سے الوداعی بیان

21/05/2026

مسابقہ حمد و نعت میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم حامد شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ضرورت برائے خادم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
19/05/2026

ضرورت برائے خادم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

Address

Street#28 H Block Extension Soan Garden
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923151517104

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia tul Anwar ISB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Jamia tul Anwar ISB:

Shortcuts

Share

Category