07/08/2026
پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا سہ فریقی دفاعی اتحاد قائم ہونے جا رہا ہے۔ خلیجی ممالک ایران سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ حالیہ تنازعہ میں یہ پہلو بھی کھُل کر سامنے آ گیا کہ امریکا ان کے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے خود کو سینٹر پوزیشن کیا۔ ایران سے بھی تعلقات استوار کیے اور عرب ممالک سے بھی تعلقات رکھتا ہے۔ کویت، سعودیہ اور دیگر خلیجی ممالک کو پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ ضرورت صرف ملٹری مائٹ کی نہیں بلکہ سفارتکاری کی بھی ہے۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ اور دوست بھی ہے اور خطے میں اس کا توڑ بھی ہے۔
ہماری ایٹمی صلاحیت ایک طرف، ہمارا میزائل پروگرام اس خطے میں سب سے جدید اور بہترین صلاحیتوں کا حامل ہے۔ ایران نے اپنے میزائلز سے سب کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں۔ اس کے مقابل ہمارا پروگرام کئی گنا بہتر ہے۔تین سال قبل ایران نے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائک کی تھی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے وہ میزائل ایران پر داغا کہ اس کے بعد پاسداران کو بھی چین مل گیا تھا۔ علاوہ ازیں اس خطے میں پاکستان بہترین فضائی صلاحیت کا حامل ملک بھی ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کی فضائیہ خود جنگی طیارے بناتی ہے۔ ملٹری ہارڈوئیر میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا شعبہ باکمال ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر پاکستان اپنی پوزیشن کو سفارتکاری میں کیش کرانا بھی بخوبی جانتا ہے۔
پاکستان حتی الممکن کوششیں کرتا آیا ہے کہ ایران اور دنیا کے مابین تعلقات نارمل ہوں۔ کوئی بھی انتہائی پوزیشن پر نہ جائے اور نہ ہی پاکستان ایران کے خلاف جانا چاہتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن کا مفصل ذکر کئی بار اپنی تحریروں میں کر چکا ہوں۔ اب بھی یہ سہ فریقی اتحاد ایران کے خلاف نہیں البتہ ایران کو اشارہ ضرور ہے کہ امن شانتی میں سب کی بھلائی ہے۔کوئی ایڈونچر کرنے کی ضرورت نہیں، وہ مہنگا پڑتا ہے۔ ہمارا مفاد اسی میں ہے کہ ایران والے معاملات حتمی طور پر سیٹل ہوں۔ ایران آگے بڑھے، اس پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہو اور پاکستان اس سے گیس و پٹرولیم سمیت تجارت کر پائے۔
یہ سب خوش آئند ہے۔ایسے اتحاد وقت کی ضرورت ہیں۔ اس کے مثبت اثرات ہوتے ہیں۔لیکن پاکستانی معاشی آسودگی کے خواہاں ہیں۔ خالی پیٹ کچھ نہیں بھاتا۔ گورننس کے مسائل ہیں۔ نظام ڈلیور نہیں کر رہا۔ایس آئی ایف سی ناکام رہی ہے۔ مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام کے ساتھ معاشی استحکام اور آئین و قانون پر عملداری نہیں ہو گی بیرونی محاذ پر جو مرضی کر لیں اس کا اثر عوام نہیں لیں گے۔ ہمارے زمینی حقائق تلخ ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ خارجہ محاذ پر کامیابیاں اس وقت تک عوامی کامیابی نہیں بنتیں جب تک ان کا عکس گھریلو معیشت میں نظر نہ آئے۔ ایک عام پاکستانی کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ بجلی کا بل کتنا آیا، آٹے کی قیمت کیا ہے، روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں یا نہیں، اور ریاست کی خدمات اس کی دہلیز تک پہنچ رہی ہیں یا نہیں۔ اگر اندرونی گورننس کمزور ہو، معیشت دباؤ کا شکار ہو اور سیاسی کشیدگی معمول بن جائے تو عالمی سطح پر حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی عوام کے لیے محض سرخیاں رہ جاتی ہیں۔
مرکزی و پنجاب حکومت پر فارم سینتالیس کی چھاپ ہے۔ سندھ سرکار دہائیوں سے ڈلیوری میں جمود کا شکار ہے۔ بلوچستان ہمیشہ سے چند ایلیٹ سرداروں کے مرہون منت چلتا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کا ایک ہی مشن ہے اپنے قائد کی رہائی۔ گلگت بلتستان میں کنگز پارٹی (استحکام پاکستان پارٹی) کو کنگ میکر بنا دیا گیا ہے اور کشمیر میں ڈنڈا راج ہے۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں سیاسی اختلافات، گورننس کے چیلنجز اور باہمی عدم اعتماد اپنی جگہ موجود ہیں۔ ان مسائل کا حل الزام تراشی سے نہیں بلکہ مکالمے سے نکلے گا۔ مقتدرہ اور سیاسی جماعتوں یعنی تمام اسٹیک ہولڈرز کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ داخلی استحکام اب صرف سیاسی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی کا تقاضا بھی بن چکا ہے۔ اگر آئینی، قانونی یا انتظامی اصلاحات درکار ہیں تو ان پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے کیونکہ مضبوط خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ مضبوط داخلی نظام ہوتا ہے۔
دنیا تیزی سے غیر یقینی دور میں داخل ہو رہی ہے۔ نئی صف بندیاں بن رہی ہیں، جنگوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور معاشی مفادات ہی سفارت کاری کی سمت متعین کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی کامیابی صرف یہ نہیں ہوگی کہ وہ کسی نئے اتحاد کا حصہ بنے بلکہ یہ ہوگی کہ وہ اپنے اندر سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔ کیونکہ مضبوط فوج کسی بھی ریاست کا سرمایہ ضرور ہوتی ہے مگر مضبوط معیشت، سیاسی استحکام اور عوام کا اعتماد ہی اس سرمائے کو دیرپا طاقت میں بدلتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھیں۔ اصلاحاتی پیکج پر غور و فکر کریں۔ آئین میں ضروری ترامیم کرنا درکار ہوں تو کریں۔ کسی کو رہا کرنا ہو تو کریں۔ سیاسی افراتفری کا ہر صورت اور ہر قیمت پر خاتمہ کریں۔ نظام کو ہنگامی بنیادوں پر درستگی کی جانب لے کر جائیں۔ تمام سٹیک ہولڈرز آپسی ذاتی رنجشیں ختم کریں گے تو ملک کے لیے بہتر ہو گا۔ورنہ قانون قدرت ہے۔ وقت گزر جاتا ہے اور پیچھے پچھتاوا چھوڑ جاتا ہے۔