16/05/2026
.
کچھ لوگ اسے دیکھ کر کہتے ہیں یار یہ بندوق ہے یا ہالی ووڈ کی کسی سائنس فکشن فلم کا کھلونا؟ لیکن جب یہ چلتی ہے تو اچھے اچھوں کا فیوز اڑا دیتی ہے۔
اس رائفل کا نام Steyr AUG ہے اور یہ Bullpup Assault Rifle ہے اس رائفل کو آسٹریا میں 1977 میں Steyr Arms کمپنی نے متعارف کرایا یہ رائفل کیلیبر 5.56×45mm NATO کا ایمونیشن استعمال کرتی ہے اور میگزین فیڈنگ کرتی ہے اسکے میگزین میں 30 یا 42 راؤنڈز آتے ہیں اور اسکا میگزین سی تھرو یعنی گولیاں باہر سے نظر آتی ہیں۔
اس رائفل کا وزن تقریباً 3.6 کلو تک ہوتا ہے پلاسٹک/پولیمر باڈی کی وجہ سے ہلکی پھلکی ہے اسکی کارگر رینج 500 میٹر تک ہے اس رائل میں کئی کلاسک ورژنز میں 1.5x اسکوپ پہلے سے نصب ہوتا ہے لیکن موسٹلی بلٹ ان اپکٹک سائٹ ہی لگاتے ہیں یہ رائفل دنیا کی کامیاب ترین اور خوبصورت ترین Bullpup رائفلز میں شمار ہوتی ہے۔
اس کا جادو یہ ہے کہ اس کا میگزین اور فائرنگ ایکشن (Action) ٹرگر کے پیچھے ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ رائفل کا سائز روایتی بندوقوں سے بہت چھوٹا ہو جاتا ہے، لیکن بیرل پوری لمبی رہتی ہے۔
مطلب کہ سائز چھوٹا، رینج پوری گاڑیوں سے آپریٹ کرنے کے لیے بہترین آپشن اس رائفل کوآسٹریا کی اپنی فوج کے علاوہ آسٹریلیا آئرلینڈ، نیوزی لینڈ اور دنیا بھر کی کئی اسپیشل فورسز استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان آرمی اسپیشل فورسز، SSG کے پاس یہ رائفل موجود ہے، لیکن اسے مخصوص اور حساس آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ پاکستان آرمی کی بنیادی اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی اسالٹ رائفلز میں G3 اور M4/Gittler (اور اب جدید رائفلز) شامل ہیں، اس لیے Steyr AUG کو پوری فوج کے بجائے صرف مخصوص ٹاسک فورسز اور اسپیشل کمانڈوز تک محدود رکھا گیا ہے۔