27/08/2026
مرد کی غیرت ۔۔۔ 🌹🌿
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ غیرتِ مرد کی داستانیں کیسی انوکھی رہی ہیں۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک بدو نے اس گھوڑے کو اپنے ہاتھوں سے مار ڈالا، جس کی پیٹھ پر سوار ہو کر اس کی بیوی اس کے گھر آئی تھی۔ اس کا کہنا تھا:
"مجھے یہ گوارہ نہیں کہ میری بیوی کے اُترنے کے فوراً بعد کوئی اور اس (گھوڑے) کی گرمی کو محسوس کرے!"
ایک اور ایمان افروز واقعہ ۔۔۔ 🌿
ایک بار ایک عورت نے اپنے ہی شوہر پر حقِ مہر کی ادائیگی کا مقدمہ دائر کر دیا۔ دورانِ سماعت جب معزز قاضی صاحب نے فیصلہ کرنے کے لیے عورت کو چہرہ دکھانے یعنی نقاب اتارنے کا حکم دیا، تو شوہر کی غیرت تڑپ اٹھی۔
وہ فوراً بول اٹھا:
"قاضی صاحب! میں پورا حقِ مہر تسلیم کرتا ہوں اور خوشی سے ادا کرتا ہوں، بس میری بیوی کو حکم دیں کہ وہ اپنا نقاب نہ اتارے!"
شوہر کی اس والہانہ غیرت اور محبت کو دیکھ کر بیوی کا دل بھی موم ہو گیا اور اس نے اسی لمحے اپنا حقِ مہر معاف کر دیا۔
اس خوبصورت منظر کو دیکھ کر قاضی صاحب نے اس مقدمے کی فائل پر جو نام لکھا، وہ تاریخ کا حصہ بن گیا:
👉 "مرد کی غیرت"
علامہ صاحب کیا خوب فرما گئے ہیں:
> "جس دل میں غیرت نہیں، اس میں محبت نہیں؛ اور محبت کے بغیر ایمان ادھورا ہے۔"
افسوس! آج کے اس دور کا المیہ یہی ہے کہ ہم نے غیرت کے اس حقیقی تصور کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے ✍️💅🌿🦋💯