20/06/2026
عنوان 🫣
ماموں کے #آم
قصہ کچھ یوں ہے کہ
میرے ایک ہی ماموں ہیں 🥰 حافظ فرام
میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے لے کر آج تک کوئی سال ایسا نہیں گزرا جب ہمیں گھر بیٹھے ام نہ پہنچیں ہوں
شرط یہ ہے کہ ماموں جان #پاکستان میں موجود ہوں 😊
وہ اپنی ہر بہن کے گھر باقاعدہ ہر سال ام بھجواتے ہیں #ماشاءاللہ
آج بھی ان کا خلوص بھرا تحفہ موصول ہوا ہمیشہ کی طرح #الحمدللہ
ام ہر جگہ سے ملتے ہیں بہت زیادہ اقسام کے ہوتے ہیں
لے بھی سکتے ہیں لیتے بھی رہتے ہیں شکر ہے اللہ کا
لیکن ایشو یہ ہے کہ جو ام میرے ماموں بھجواتے ہیں
ان کا ذائقہ بہت زیادہ با کمال ہوتا ہے
اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ مفت کے ہوتے ہیں
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان اموں کو مصالحہ یا فروٹ کو جلدی پکانے والی دوائی نہیں لگائی جاتی
وہ بالکل اپنے نیچرل پروسیس سے تیار ہوتے ہیں
اور
اتنے زیادہ لذیذ اور مزیدار ہوتے ہیں کہ سارا سال ان جیسا ذائقہ اور کہیں نہیں ملتا 🥰
جہاں سے بھی خرید لیں یا کسی دوست کو کہ کر منگوا لیں پارسل
وہ ذائقہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا 😞
کیونکہ کہ ماموں کے اتنی زیادہ گرمی ہونے کے باوجود ام بہت زیادہ محنت اور لگن کے ساتھ باغ میں خود جا کر خون پسینہ ایک کر کے پیٹیوں میں چن چن کر رکھوائے جاتے ہیں 😍
بہرحال
قصہ مختصر یہ ہے کہ
مانگنے سے پرہیز کریں 🫣🙄
پہلے وہ بار بار بہت زیادہ بھجوایا کرتے تھے
اب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں ان سے اتنی زیادہ محنت اور مشقت نہیں ہوتی 🙏
اللہ تبارک تعالٰی میرے اکلوتے ماموں جان کو سلامت رکھے
اللہ تبارک تعالٰی ان کے رزق میں عمر میں برکتیں عطا فرمائیں 🙏
یہ تھا کہانی کا ایک رخ 😉
اس کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے اگر آپ دوستوں نے دلچسپی ظاہر کی تو کسی وقت آپ کو وہ کہانی بھی سناؤں گا
انشاءاللہ
کیونکہ میں اپنے دوستوں کو ایک دفعہ اپنے باغ میں لے گیا تھا
رحیم یار خان
وہ اتنے سال گزرنے کے باوجود آج تک جب بھی ملتے ہیں ایک ہی بات کہتے ہیں بھائی ہمیں دوبارہ لے چلیں باغ میں پلیز 🙏
وہ کہانی بھی بہت مزیدار ہے سناؤں گا کسی دن انشاءاللہ
دعاؤں کی درخواست 🤲
Copyright ©️ Umair 🥰