Azmat nama

Azmat nama عظمت نامہ بنیادی طور پر میری پروفائل ویب سائٹ www.azmatnama.com

گھر سے آفس کیلئے نکلا تو اسسٹنٹ کمشنر ٹھنڈے کمرے سے نکل کر ٹھنڈی گاڑی میں بیٹھ کر عین اس وقت جب صدر میں ٹریفک جام ہونا ش...
24/08/2026

گھر سے آفس کیلئے نکلا تو اسسٹنٹ کمشنر ٹھنڈے کمرے سے نکل کر ٹھنڈی گاڑی میں بیٹھ کر عین اس وقت جب صدر میں ٹریفک جام ہونا شروع ہوتا ہے ۔ یعنی 4 بجے بجے بعد ، اس وقت وہ تجاوزات کے خاتمے اور اپنی تجاوزات کے بڑھانے کے آپریشن پر نکلے ہوئے تھے ۔

سیدھا یا الٹا دونوں کام دیکھ کر ہم صحافی رک تو جاتے ہی ہیں ، ہم نے اسسٹنٹ کمشنر صدر غضنفر علی سے سوال کیا صاحب اچھی بات ہے کہ تجاوزات کا خاتمہ ہو رہا ہے لیکن اپنے خالی پلاٹ پر لگی بلیو شیڈ تو ہٹائی جا رہی ہے جس کا عوام سے کوئی لینا دینا نہیں ۔ یہ خالص سرکار کے فائدے کا سین ہے ۔
مگر
یہ سیدھے اور الٹے دونوں ہاتھوں پر عوام کی گزر گاہیں بھی خالی کرا دیں ، اصل تجاوزات تو وہ ہیں ۔ سرکار فرمانے لگے آپ درخواست دیں ہم کارروائی کریں گے ۔ میں نے درخواست اور پیسوں کا آپسی پرانی دوستی ہے ۔ ہم درخواست نہیں دیتے خبر دیتے ہیں ۔ وہ ہم نے آپ کے حصے کی دے دی ہے اور عوام کے حصے کی اس کو دے دیں گے ۔

#نیوز

22/08/2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کا نیا سلیکشن بورڈ

22/08/2026

پاکستان میں کل افغان باشندوں کی تعداد کیا ہے ؟

معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت وزارت داخلہ سے حاصل کردہ معلومات

شکریہ جیو نیوز اینڈ شکریہ ٹاک شاک

13/07/2026

پاک آسٹریا کے PD ناصر علی خان عہدے سے ہٹا دیئے گئے

مالی بدعنوانی کی NAB اور 5 برس قبل عہدے سے ہٹائے جانے کی سمری گم کرنے انکوائئری HED میں جاری ہے ۔

゚

گومل یونیورسٹی: احتسابی عمل کو روکنے کیلئے VC کا پشاور ہائی کورٹ سے رجوع، کمشنر کی انکوائری کمیٹی نے بیانات ریکارڈ کرنا ...
01/07/2026

گومل یونیورسٹی: احتسابی عمل کو روکنے کیلئے VC کا پشاور ہائی کورٹ سے رجوع، کمشنر کی انکوائری کمیٹی نے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کیے

ڈیرہ اسماعیل خان : گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال نے اپنی 90 روزہ جبری رخصت اور جاری انکوائری کو معطل کرانے کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ ناقدین اس اقدام کو احتسابی عمل کو ناکام بنانے کی کوش قرار دے رہے ہیں۔

منیٹ مرر کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، صوبائی حکومت نے کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان عبد الود خان کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی میں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر بطور رکن اور بنوں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے رجسٹرار بطور رکن/سیکریٹری شامل ہیں۔

کمیٹی نے منگل کے روز گومل یونیورسٹی کا دورہ کیا، مالی بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور گریڈ 16 سے 21 تک تقریباً 100 بھرتیوں اور 127 ملازمین کی ترقیوں کے الزامات پر ریکارڈ کا جائزہ لیا، متعلقہ حکام کے بیانات قلمبند کیے اور ڈاکٹر ظفر اقبال کا مؤقف بھی سنا۔

عین اسی وقت ڈاکٹر ظفر اقبال نے پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی۔ پشاور ہائی کورٹ کا ایک رکنی بینچ بدھ کے روز اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

یہ یونیورسٹی میں تحقیقات کا پہلا معاملہ نہیں۔ اس سے قبل محکمہ اعلیٰ تعلیم کی دو رکنی کمیٹی نے یونیورسٹی ہاسٹلز سے منشیات برآمدگی، احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکار کی فائرنگ سے طالب علم کے زخمی ہونے اور 117 بھرتیوں کی تحقیقات کیں۔ کمیٹی نے رپورٹ کیا کہ وی سی کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ نہ ملنے پر غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن نہیں، اور انہیں جبری رخصت پر بھیجنے کی سفارش کی۔

پی پی رکن اسمبلی احمد کنڈی کی جانب سے اسمبلی میں معاملہ اٹھائے جانے کے بعد قائمہ کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم نے بھی وی سی کو جبری رخصت پر بھیجنے کی سفارش کی، جس پر وزیراعلیٰ نے منظوری دی۔

اس سے قبل ڈاکٹر عثمان غنی کی سربراہی میں قائم ایک اور انکوائری کمیٹی نے سلیکشن بورڈ کی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنی تھیں، لیکن ڈاکٹر ظفر اقبال نے پشاور ہائی کورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا۔ بعد میں جمع ہونے والی رپورٹ میں نہ ذمہ داری طے کی گئی اور نہ کوئی سفارش سامنے آئی۔

صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے صحافی نعیم جبران کی شکایت پر گومل یونیورسٹی میں مبینہ مالی، انتظامی اور تعلیمی بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ جبران کا کہنا ہے کہ یہ انکوائری بھی وی سی کے اثر و رسوخ کے باعث مؤثر نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق اُس وقت کے رجسٹرار ظاہر شاہ کے حامیوں نے ان کے دفتر پر حملہ کیا اور قتل کی کوش کی گئی، جس کی شکایت سٹی پولیس اسٹیشن میں زیرِ التوا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی کے قیام کے بعد سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور کچھ ٹی وی پلیٹ فارمز پر انکوائری کے خلاف منظم مہم جاری ہے، جو ماضی میں بھی صوبائی حکومت پر تنقید کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر اقبال کے خلاف کرپشن کے الزامات پر ہونے والی متعدد تحقیقات اب تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ نظام کو الجھانے اور احتسابی عمل کو مؤثر ہونے سے روکنے کے طریقوں سے بخوبی واقف ہیں۔

゚viralシfypシ゚

25/06/2026

گومل یونیورسٹی میں 228 من پسند بھرتیاں وائس چانسلر کیلئے وبال بن گئیں

゚viralシ

ہری پور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وسیم احمد کا تیسرا “پیٹنٹ” اپنے نام کر لیا ہری پور یونیورسٹی کے آرٹیکلچر ڈیپار...
24/06/2026

ہری پور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وسیم احمد کا تیسرا “پیٹنٹ” اپنے نام کر لیا

ہری پور یونیورسٹی کے آرٹیکلچر ڈیپارٹمنٹ (شعبہ باغبانی) کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وسیم احمد نے تیسرا پیٹنٹ اپنے نام کر لیا ، دو پیٹنٹ IPO میں فائل کرائے ہیں جن میں ایک 2025 اور دوسرا 2026 میں رجسٹرڈ کرایا ہے اور تین پیٹنٹ اس وقت IPO میں ریویو میں ہیں ۔ جامعہ ہری پور کی تاریخ میں آج تک کسی بھی پروفیسر نہ اتنے پیٹنٹ حاصل کیئے ہیں اور نہ ہی رجسٹرڈ کرائے ہیں ۔

معلوم رہے کہ کوئی بھی اسکالر جب نئی تحقیق دریافت کرتا ہے تو اس کے بعد اس کو انٹلکچول پراپرٹی آرگنائزیشن (IPO) میں اپنے نام سے رجسٹرڈ کرا لیتا ہے تاکہ اس نئی تحقیق سے معاشرے کو فائدہ حاصل ہو سکے ۔ رجسٹریشن کے بعد یہ تحقیق جب بھی کوئی ادارہ اسعتمال کرے گا تو اسکالر سے تحقیقی حقوق (کاپی رائٹ) لیئے جائیں گے ۔ اور اگر انڈسٹری یا کاروباری افراد اس تحقیقسے فائدہ اٹھائیں گے تو اس صورت میں تحقیق کار کو بھی معاوضہ دیا جائے گا ۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر وسم احمد کی اس تحقیق سے زراعت کے شعبہ میں مختلف کھادیں بنانا ، استعمال کرنا اور پودوں کی پیداوار میں اضافے کا سبب بنے گی ۔ اس کے علاوہ دوسری تحقیق میں مقامی ہری پور کی زمین میں سبزیاں ، پھل اور دیگر اجناس کی کاشت کی پیداوار میں اضافے کا سبب بنے گی ۔ ایک اور تحقیق پودوں سے آیوڈین نکالنے کے آسان حل کے طریقے پر مبنی ہے ۔ اجناس کی پیدوار کی بڑھانے کیلئے نئی تحقیق کی گئی ہے ۔

ڈاکٹر وسیم احمد کا تعلق ہری پور کے علاقے جولیاں سے ہے اور انہوں نے میٹرک پنوں عاقل ، انٹرمیڈیٹ پشاور سے اور بی ایس سی اور ایم ایس سی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا اور ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا ۔

وہ مختلف یونیورسٹیوں میں بطور ایڈجرنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے ہیں ۔ 2015 سے اب تک ہری پور یونیورسٹی بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے سب سے زیادہ پٹینٹ رکھنے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وسیم احمد کو ایسوسی ایٹ اور پروفیسر شپ نہیں ہونے دی ۔ جن کا تحقیق و ریسرچ میں 20 سال کا تجربہ ہے ۔ اور ان کے ایک سو سے زائد ریسرچ آرٹیکل اور ایچ ای سی کے دو کامیاب پروجیکٹ کے علاوہ باہر ممالک کے پروجیکٹ بھی مکمل کیئے ہیں ۔

ان کے علاوہ ہری پور یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر ڈاکٹر سید عاصمہ بانو کو صرف ایک پیٹنٹ ایوارڈ ہوا ہے ۔

゚

23/06/2026

کوہاٹ یونیورسٹی میں کیا ہو رہا ہے ۔ سن لیجیئے

Address

G-6/3, Street 88
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azmat nama posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Azmat nama:

Shortcuts

Share