15/07/2026
فلسفۂ شہادت کی تضحیک — مولانا فضل الرحمان کو معافی مانگنی چاہئے۔
شہادت اسلام کا ایک عظیم اور مقدس تصور ہے۔ یہ صرف کسی جنگ میں جان قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ حق، وطن، دین اور انسانیت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کا بلند ترین مقام ہے۔ قرآن کریم نے شہداء کو مردہ نہیں بلکہ زندہ قرار دیا ہے، جبکہ احادیث مبارکہ میں شہادت کی فضیلت کو بارہا بیان کیا گیا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کے نزدیک شہداء کا احترام محض ایک قومی یا سماجی روایت نہیں بلکہ دینی ذمہ داری بھی ہے۔
پاکستان کی تاریخ شہداء کی قربانیوں سے عبارت ہے۔ ہماری مسلح افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان قربانیوں کی بدولت آج ملک میں امن و استحکام کی فضا قائم ہوئی۔ ان شہداء کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ سینے میں لیے ہوئے ہیں، لیکن انہیں اس بات پر فخر بھی ہے کہ ان کے عزیزوں نے وطن کی خاطر اپنی جان قربان کی۔
ایسے میں اگر کوئی بااثر سیاسی رہنما اپنے الفاظ یا بیانات سے شہادت کے تصور کو متنازع بنائے یا ایسے جملے کہے جن سے شہداء کی قربانیوں کی اہمیت کم ہوتی محسوس ہو، تو اس پر عوامی ردعمل فطری ہے۔ قومی شخصیات کے الفاظ صرف ان کی ذاتی رائے نہیں سمجھے جاتے بلکہ ان کے وسیع اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے انہیں گفتگو میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان ملک کی ایک بڑی مذہبی و سیاسی شخصیت ہیں۔ ان کے الفاظ لاکھوں لوگ سنتے اور ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔ اگر ان کے کسی بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ فلسفۂ شہادت کی توہین یا تضحیک ہوئی ہے، یا شہداء کے اہلِ خانہ کی دل آزاری ہوئی ہے، تو بہتر یہی ہوگا کہ وہ وضاحت کریں اور اگر واقعی ان کے الفاظ سے غلط تاثر پیدا ہوا ہے تو کھلے دل سے معذرت کریں۔ معافی مانگنا کمزوری نہیں بلکہ بڑے ظرف، ذمہ داری اور اخلاقی جرات کی علامت ہے۔
جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن اختلاف کی بنیاد پر ایسے الفاظ استعمال نہیں ہونے چاہییں جن سے قومی وحدت یا مقدس اقدار متاثر ہوں۔ شہداء کا احترام کسی ایک جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ اس معاملے پر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی بیان سے شہادت کے عظیم فلسفے کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوا ہے تو اس کی بروقت وضاحت اور معذرت نہ صرف عوامی جذبات کا احترام ہوگی بلکہ یہ قومی یکجہتی اور باہمی اعتماد کو بھی مضبوط کرے گی۔ ایک ذمہ دار رہنما کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے کا کردار ادا کرے۔