Podcast with Sajjad H. Abbasi

Call Website Contact the business

Podcast with Sajjad H. Abbasi . Professional: 🎙️ Welcome to Sajjad H. Abbasi Podcast
Where stories, ideas & real conversations come alive.

Subscribe and join the journey. ✨
🎙️ سجاد حیدر عباسی پوڈکاسٹ
حقیقی باتیں، دلچسپ گفتگو اور نئی سوچ کا سفر۔
سنیں، سیکھیں اور جڑیں۔ ✨.

01/07/2026

راولپنڈی میں پانی کا بحران۔۔۔
ذمہ وار کو۔۔۔۔۔

والدین سے گزارش ہے اپنے بچوں کو کبھی بھی گھر سے اکیلا کسی دکان، سکول یا مدرسے نہ بھیجیں..باہر انسان نہیں ہوس کے پجاری گد...
24/06/2026

والدین سے گزارش ہے اپنے بچوں کو کبھی بھی گھر سے اکیلا کسی دکان، سکول یا مدرسے نہ بھیجیں..
باہر انسان نہیں ہوس کے پجاری گدھ گھوم رہے ہیں جو آپکے بچوں کو کبھی بھی نوچ کر مار سکتے ہیں.

23/06/2026

منتہا کی انتہا….!
منتہا نے شاید اس صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔ چائے پک رہی تھی۔ چینی لانے کے لیے ماں نے اسے قریبی اسٹور بھیج دیا۔ یہ روزمرہ زندگی کا ایک معمولی سا کام تھا۔ نہ ماں کے دل میں کوئی اندیشہ تھا، نہ باپ کے ذہن میں کوئی خوف۔ کون جانتا تھا کہ چند قدموں کا یہ سفر ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن جائے گا۔ کسے پتہ تھا کہ گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے والے یہ ننھے قدم موت کی ایسی تاریک وادی کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔
وقت گزرتا گیا مگر منتہا واپس نہ آئی۔ پہلے انتظار ہوا، پھر بے چینی، پھر خوف۔ اہلِ خانہ نے گلیاں چھان ماریں، پڑوسیوں سے پوچھا، رشتہ داروں کو فون کیے، مگر ننھی بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی تو منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی، لیکن باہر نکلتی دکھائی نہ دی۔
پھر وہ خبر آئی جس نے پورے سرگودھا کو سوگوار کر دیا۔ ایک معصوم بچی، جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ سمجھ سکی تھی، درندگی اور سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ وہ ننھی کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی خواب دیکھنا شروع بھی نہیں کیے تھے، اسے بے رحمی سے مسل دیا گیا۔
یہ ایک بچی کی موت ہی نہیں، بلکہ اک ماں کی خوشیوں کا جنازہ ہے، ایک باپ کے خوابوں کا قتل ہے، ایک گھر کی رونق کے اجڑ جانے کا نام ہے۔ جب بھی کوئی معصوم بچہ ظلم کا شکار ہوتا ہے تو صرف ایک خاندان نہیں روتا، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
دل بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جن کے دل ایک معصوم بچی کی چیخوں پر بھی نہیں پگھلتے؟ وہ کون سی انسانیت ہے جو ایک ننھے وجود پر ظلم کرتے وقت مر جاتی ہے؟ ایسے واقعات صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
آج منتہا کے جیون کی انتہا ہوگئی، مگر وہ اپنے پیچھے ایک درد، ایک آہ اور ایک سوال چھوڑ گئی ہے: کیا ہماری بیٹیاں واقعی محفوظ ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور اپنے بچوں کے تحفظ کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ذمہ داری بنانا ہوگا۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس معصوم فرشتہ صفت بچی کو اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اس کے دکھی والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس ظلم کے مرتکب افراد کو ایسا عبرت ناک انجام دے کہ آئندہ کوئی درندہ کسی اور منتہا کی زندگی چھیننے کی جرأت نہ کر سکے۔
منتہا تو چلی گئی، مگر اس کا نام اب ہر اُس معصوم بچی کی علامت بن گیا ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کے کندھوں پر ہے۔
سجاد حیدر عباسی

منتہا کی انتہا….!منتہا نے شاید اس صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔ چائے پک رہی تھی۔ چینی لانے کے لیے ماں نے اسے قریبی اسٹور ...
23/06/2026

منتہا کی انتہا….!
منتہا نے شاید اس صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔ چائے پک رہی تھی۔ چینی لانے کے لیے ماں نے اسے قریبی اسٹور بھیج دیا۔ یہ روزمرہ زندگی کا ایک معمولی سا کام تھا۔ نہ ماں کے دل میں کوئی اندیشہ تھا، نہ باپ کے ذہن میں کوئی خوف۔ کون جانتا تھا کہ چند قدموں کا یہ سفر ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن جائے گا۔ کسے پتہ تھا کہ گھر کی دہلیز سے باہر نکلنے والے یہ ننھے قدم موت کی ایسی تاریک وادی کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔
وقت گزرتا گیا مگر منتہا واپس نہ آئی۔ پہلے انتظار ہوا، پھر بے چینی، پھر خوف۔ اہلِ خانہ نے گلیاں چھان ماریں، پڑوسیوں سے پوچھا، رشتہ داروں کو فون کیے، مگر ننھی بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ جب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دیکھی گئی تو منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی، لیکن باہر نکلتی دکھائی نہ دی۔
پھر وہ خبر آئی جس نے پورے سرگودھا کو سوگوار کر دیا۔ ایک معصوم بچی، جو ابھی زندگی کے معنی بھی نہ سمجھ سکی تھی، درندگی اور سفاکیت کا نشانہ بن گئی۔ وہ ننھی کلی جسے ابھی کھلنا تھا، جس نے ابھی خواب دیکھنا شروع بھی نہیں کیے تھے، اسے بے رحمی سے مسل دیا گیا۔
یہ ایک بچی کی موت ہی نہیں، بلکہ اک ماں کی خوشیوں کا جنازہ ہے، ایک باپ کے خوابوں کا قتل ہے، ایک گھر کی رونق کے اجڑ جانے کا نام ہے۔ جب بھی کوئی معصوم بچہ ظلم کا شکار ہوتا ہے تو صرف ایک خاندان نہیں روتا، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
دل بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جن کے دل ایک معصوم بچی کی چیخوں پر بھی نہیں پگھلتے؟ وہ کون سی انسانیت ہے جو ایک ننھے وجود پر ظلم کرتے وقت مر جاتی ہے؟ ایسے واقعات صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نہیں بلکہ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
آج منتہا کے جیون کی انتہا ہوگئی، مگر وہ اپنے پیچھے ایک درد، ایک آہ اور ایک سوال چھوڑ گئی ہے: کیا ہماری بیٹیاں واقعی محفوظ ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور اپنے بچوں کے تحفظ کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ذمہ داری بنانا ہوگا۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس معصوم فرشتہ صفت بچی کو اپنی بے پایاں رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اس کے دکھی والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اس ظلم کے مرتکب افراد کو ایسا عبرت ناک انجام دے کہ آئندہ کوئی درندہ کسی اور منتہا کی زندگی چھیننے کی جرأت نہ کر سکے۔
منتہا تو چلی گئی، مگر اس کا نام اب ہر اُس معصوم بچی کی علامت بن گیا ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کے کندھوں پر ہے۔
ضیاء الرحمن

20/06/2026

سالانہ 45 ہزار طلاق اور خلح کے مقدمات کا عدالتوں میں اندراج۔۔۔
ہر گھنٹے میں 38 نئے مقدمات کا اندراج۔۔۔۔
لحمہ فکریہ ہم سب کے لئے اللہ ہم سب پر رحم کرے

18/06/2026

ائیرپورٹ ہاوسنگ سوسائٹی راولپنڈی اور محکمہ جنگلات کا زمین کی ملکیت پر تنازعہ۔۔۔۔
سوسائٹی ممبران کو محکمہ جنگلات کی طرف سے نوٹسز۔۔۔۔
ممبران پریشان
موجودہ منیجمنٹ کمیٹی کے بروقت اقدام۔۔۔

گرین پراپرٹی فارم کس طرح کا ہو گا اس کے فوائد یہ ڈیجیٹل فرد کی طرح ہے کچھ چیزیں مزید وضاحت کے ساتھ اندراج کر دی گئی ہیں ...
16/06/2026

گرین پراپرٹی فارم کس طرح کا ہو گا اس کے فوائد
یہ ڈیجیٹل فرد کی طرح ہے کچھ چیزیں مزید وضاحت کے ساتھ اندراج کر دی گئی ہیں جس میں۔ پراپرٹی کی گوگل سے تصویر اور کے اس علاؤہ پراپرٹی اور مالک کی تمام تفصیل وضاحت کے ساتھ درج ہے جس سے دونمبری کے چانس صفر ہو جائیں گے کیونکہ یہ ایک ایسا صاف شفاف حکومتی سرٹیفیکیٹ ہو گا جیسے پٹواری سسٹم سے نجات مل جاے گی یہ صرف رجسٹری انتقال تک محدود نہیں بلکہ پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی بھی تمام تر تفصیل دے کر سرٹیفیکیٹ دینے کی پابند ہو ں گی

ریڈ لائن کے اندر بحریہ ٹاؤن کا ایریا ہے جس پر ڈی ایچ اے  نے اپنی چاردیواری لگائی
16/06/2026

ریڈ لائن کے اندر بحریہ ٹاؤن کا ایریا ہے جس پر ڈی ایچ اے نے اپنی چاردیواری لگائی

16/06/2026

DHA and Bahria Town Land Latigation
آخر کون ہے اس زمین کا مالک

Address

Office No 13, First Floor Gulberg Business Center Gulberg Civic Center Gulberg Greens
Islamabad
46200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Podcast with Sajjad H. Abbasi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Podcast with Sajjad H. Abbasi:

Shortcuts

Share

Category