Hansla Times

Hansla Times Hansla Times News (HTN) is an independent News Media, advertising platform against injustice, cru Hansla Times welcomes to all readers & writers.

Hansla Times is a Media, Platform against injustice, cruelty n corruption. Hansla Times invites you all to share your views and news of your areas. We encourage to everyone who are highlighting exposing the evils of the society. you can also write for Hansla Times we'll encourage & publish your material on Hansla Times website page as well. Material should be related to the our society.

اسلام آباد:پولیس کی بھاری نفری شاہرہ دستور پر ٹوئن ٹاور کو خالی کروانے پہنچ گئی   ٹاور میں رہائیشی افراد کو اتوار کی شام...
01/05/2026

اسلام آباد:پولیس کی بھاری نفری شاہرہ دستور پر ٹوئن ٹاور کو خالی کروانے پہنچ گئی


ٹاور میں رہائیشی افراد کو اتوار کی شام تک فلیٹس خالی کرنے کے احکامات

ضلع بھر سے پولیس نفری کو کونشن سینٹر طلب کیا گیا تھا

کنوشن سینٹر سے پولیس کو ٹوئن ٹاور خالی کروانے کے احکامات جاری کیئے گئے زرائع

ریڈ زون میں واقع کثیر المنزلہ کانسٹیٹیوشن ون بلڈنگ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست خارج ہوئی تھی

سی ڈی اے نے کانسٹیٹیوشن ون بلڈنگ کی لیز منسوخ کر دی تھی

بی این پی کمپنی نے لیز منسوخی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا.

معروف قاری سید صداقت علی کو حکومت پاکستان نے ایک انٹرویو کے بعد گرفتار کرلیا ہے اور الزام یہ ہے کہ اس انٹرویو کو نشر نہی...
08/04/2026

معروف قاری سید صداقت علی کو حکومت پاکستان نے ایک انٹرویو کے بعد گرفتار کرلیا ہے اور الزام یہ ہے کہ اس انٹرویو کو نشر نہیں کرنا تھا۔ دی نیوز کی خبر ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ معروف قاری سید صداقت علی کو ایک انٹرویو کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ وجہ؟ انہوں نے ایک ایسی ویب سائٹ کا راز کھول دیا جو چند ہفتوں میں ہزاروں کو لاکھوں میں بدل دیتی ہے۔ اگر اعداد و شمار دیکھیں تو 72 ہزار روپے 12 سے 15 ہفتوں میں 8 لاکھ بن جاتے ہیں۔

سننے میں چونکا دینے والا لگتا ہے۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہیں سے شروع ہوتی ہے۔

اصل کھیل کہاں ہے؟

جب آپ اس پوسٹ کو غور سے دیکھتے ہیں تو ایک اہم چیز سامنے آتی ہے: یہ عام پوسٹ نہیں بلکہ سپانسرڈ پوسٹ ہوتی ہے۔ یعنی کسی نے پیسے دے کر اسے آپ کی ٹائم لائن تک پہنچایا۔

آپ جیسے ہی اس پر کلک کرتے ہیں، آپ کو ایک ویب سائٹ پر لے جایا جاتا ہے جو بظاہر کسی بڑے اخبار، جیسے "دی نیوز"، جیسی لگتی ہے۔ لوگ یہاں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔

لیکن اگر آپ ایک لمحہ رک کر جانچ کریں تو تصویر بدل جاتی ہے۔

سچ کیسے پکڑا جا سکتا ہے؟

اگر آپ اس پوسٹ کرنے والے پیج پر جائیں تو وہاں کچھ عجیب نظر آتا ہے۔ نہ کوئی مکمل تاریخ، نہ باقاعدہ پوسٹس، اور نہ ہی وہ لنک جو شیئر کیا گیا۔ بس ایک خالی سا پیج۔

پھر جب آپ اس جعلی خبر والی ویب سائٹ کا مین پیج کھولنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔ اس خبر والے پیج پہ آپ کو ایک ہی چیز ملے گی وہ ہے اس جعلی کمپنی کی لنک جس کے عقب میں اکثر ہمسایہ ملک کے نوسرباز ہوتے ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں ایک عام صارف اور ایک باشعور صارف میں فرق پیدا ہوتا ہے۔

پرانی کہانی، نیا چہرہ

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی اسی طرز پر سابق گورنر سندھ زبیر عمر کے نام سے ایسی ہی کہانی پھیلائی گئی۔ اس وقت بھی ایک معروف اخبار یعنی ڈان کا نام استعمال کیا گیا تاکہ خبر لوگوں کو سچ لگ سکے

نام بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، مگر طریقہ وہی رہتا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہوئے صرف موبائل استعمال کرنا کافی نہیں، سمجھ کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔ یہی ڈیجیٹل لٹریسی ہے۔

کیا کرنا چاہیے؟

ہر صارف کو چند سادہ عادتیں اپنانی ہوں گی:

کسی بھی چونکا دینے والی خبر پر فوراً یقین نہ کریں
لنک پر کلک کرنے سے پہلے پیج اور سورس کو چیک کریں
ویب سائٹ کا اصل ایڈریس دیکھیں
اگر خبر بڑی ہو تو دوسرے معتبر ذرائع سے تصدیق کریں
آخری بات

فراڈ کرنے والا ہمیشہ ایک چیز پر بھروسہ کرتا ہے: انسانی لالچ اور جلد بازی۔

جب تک یہ دونوں زندہ ہیں، وہ بھی زندہ رہے گا۔

سوچ کر کلک کریں۔ کیونکہ ایک کلک آپ کو خبر نہیں، نقصان تک لے جا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک خبر نہیں، یہ ایک جال ہے اور آپ اس کے اگلے شکار ہو سکتے ہیں۔

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hansla Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hansla Times:

Shortcuts

Share