17/10/2025
کراچی کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے ایک مقدمے میں بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کا 'مال آف اسلام آباد' ضبط کرنے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کو تحریری اجازت دے دی ہے۔ نیب نے عدالت میں درخواست دی تھی کہ ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کی دفعہ 8 کے تحت ریفرنس زیر سماعت ہے اور تفتیش کے دوران انہیں منی لانڈرنگ کے شواہد ملے ہیں۔
نیب نے عدالت کو بتایا کہ مال آف اسلام آباد (جو سیکٹر ایف-7، بلیو ایریا، پلاٹ 65-این پر واقع ہے) کا پلاٹ 2014ء میں ایاز خان اور وقار رفعت نے خریدا تھا، لیکن 385 ملین روپے مالیت کی یہ پراپرٹی دراصل ملک ریاض کی فرنٹ کمپنیوں کی ملکیت ہے۔ درخواست میں مزید بتایا گیا کہ 'ویکی ٹریڈنگ کمپنی' ملک ریاض کے بھائی فرحت حسین اور بھتیجے وسیم رفعت کی ہے، اور نیب نے 27 مارچ کو اس پراپرٹی کو ضبط کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔
واضح رہے کہ نیب عدالت پہلے بھی اس کیس میں ملک ریاض اور ان کے بیٹوں سمیت 9 ملزمان کی گرفتاری کے احکامات کئی بار جاری کر چکی ہے۔ عدالت کا یہ حکم نیب کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں مطلوب ملزمان کے اثاثوں کی ضبطی کے لیے مزید قانونی کارروائی کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔