09/07/2026
خیبر پختونخوا: معدنی لیزوں میں بے ضابطگیوں پر قائمہ کمیٹی کا اظہارِ تشویش، ذیلی کمیٹی تشکیل
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے معدنیات نے صوبے میں معدنی لیزوں کے اجرا، منسوخی اور ان سے متعلق ریکارڈ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی مزید جانچ کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
بدھ کو صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہونے والے اجلاس کی صدارت قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی اکرام اللہ غازی نے کی۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین، سیکرٹری معدنیات، محکمہ معدنیات، جنگلات، ریونیو، قانون، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں محکمہ معدنیات نے گزشتہ اجلاس کی ہدایات پر عمل درآمد اور محکمے کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران رکن اسمبلی احمد کریم کنڈی نے معدنی لیزوں، گزارہ، ریزرو اور پروٹیکٹڈ ایریاز سے متعلق سوالات اٹھائے، جس پر کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوئی۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی اکرام اللہ غازی نے بتایا کہ صوبے میں تقریباً چار ہزار معدنی لیزیں جاری کی گئی ہیں، تاہم ان میں سے صرف دو ہزار فعال ہیں، جبکہ منسوخ شدہ لیزوں کی تعداد 765 ہے۔ انہوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ سے وضاحت طلب کی۔
محکمہ معدنیات کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض لیزوں کی منسوخی امن و امان کی صورتحال، مائننگ کے دوران دھماکوں سے متعلق مسائل اور جنگلاتی علاقوں سے جڑی قانونی پیچیدگیوں کے باعث ہوئی، تاہم کمیٹی نے ان وضاحتوں کو ناکافی قرار دیا۔
رکن کمیٹی زبیر خان نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ بعض معاملات میں زمین کی ملکیت ایک شخص کی ہوتی ہے جبکہ مائننگ لیز کسی دوسرے فرد کے نام جاری کر دی جاتی ہے۔ اس نکتے پر کمیٹی نے تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
ذیلی کمیٹی کی سربراہی زبیر خان کریں گے جبکہ محمد یامین خان اور ثوبیہ شاہد اس کے ارکان ہوں گے۔ کمیٹی محکمہ جنگلات اور محکمہ معدنیات کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ جاری اور منسوخ شدہ معدنی لیزوں، ان کے اجرا کے طریقہ کار اور متاثرہ کمپنیوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا بھی جائزہ لے گی۔ کمیٹی اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کرے گی۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ معدنیات اور محکمہ جنگلات کو ہدایت کی کہ معدنیات سے متعلق قوانین مرتب کرتے وقت زمین کے مالکان کی رائے کو بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو آئندہ اجلاس میں مکمل ریکارڈ اور درست اعداد و شمار کے ساتھ شرکت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔