ULM اردو

ULM  اردو Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ULM اردو, Digital creator, Islamabad.

یہ پیج ان لوگوں کے لیے ہے جو علم سے محبت رکھتے ہیں۔ یہاں آپ کو سائنس، تاریخ، مذہب، انسانیت، کائنات اور زندگی کے متعلق دلچسپ، معلوماتی پوسٹس ملیں گی۔ مقصد سیکھنا، اور مثبت ذہنوں کو ایک جگہ جمع کرناہے۔اگر آپ بھی علم کوپسندکرتے ہیں تواس کارواں کاحصہ بن جائیں

ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے تحت سعودی عرب کی سرزمین پر امریکی تعاون سے یورینیم افزودگ...
23/07/2026

ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے تحت سعودی عرب کی سرزمین پر امریکی تعاون سے یورینیم افزودگی (Uranium Enrichment) کی مشینری نصب کی جا سکتی ہے۔ اسی سال امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کی، جس کا اعلان کردہ مقصد اسی صلاحیت کو تباہ کرنا تھا۔

یہ معاہدہ 30 سال کے لیے ہے، اس میں امریکی کمپنیاں شامل ہوں گی، اور ایک مشترکہ مطالعے کے بعد سعودی
عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیب ممکن ہو سکتی ہے۔

اصل اہمیت اسی لفظ "افزودگی" (Enrichment) کی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ افزودہ یورینیم ایٹمی ہتھیار کا بنیادی خام مال ہے، اور زیادہ تر وہ ممالک جو صرف سول (پرامن) مقاصد کے لیے جوہری ری ایکٹر چلاتے ہیں، خود یورینیم افزودہ نہیں کرتے۔ وہ بین الاقوامی نگرانی میں بند پیکجوں کی صورت میں ایندھن خریدتے ہیں، کیونکہ سینٹری فیوجز چلا کر خود یورینیم افزودہ کرنا ایٹمی ہتھیار بنانے کے مشکل ترین مراحل میں سے ایک ہے۔ ری ایکٹر چلانے کے لیے یہ لازمی نہیں، لیکن ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے یہ بنیادی صلاحیت ہے۔

سعودی عرب کے ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات نے اس حوالے سے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے امریکی تعاون سے جوہری بجلی گھر تو بنایا، مگر یورینیم افزودگی کے حق سے مکمل طور پر دستبردار ہو گیا۔ اس ماڈل کو اسلحہ کنٹرول کے ماہرین "گولڈ اسٹینڈرڈ" قرار دیتے ہیں۔

لیکن ریاض کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ اس "گولڈ اسٹینڈرڈ" پر پورا نہیں اترتا، بلکہ اس سے بھی آگے جاتا ہے۔
اس معاہدے میں سعودی عرب کے لیے Additional Protocol قبول کرنا لازمی نہیں، جو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (IAEA) کی جانب سے سخت اور اضافی معائنوں کا نظام ہے۔ نگرانی صرف امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان طے شدہ شرائط کے مطابق ہوگی۔ گویا بین الاقوامی ریفری کو میدان سے باہر کر دیا گیا ہے۔
اور جس شخصیت کو یہ صلاحیت دی جا رہی ہے، اس نے اپنے ارادے پہلے ہی ظاہر کر رکھے ہیں۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا۔

اب دونوں پالیسیوں کو ساتھ رکھ کر دیکھیے۔ امریکہ نے کہا کہ ایران پر حملے کی وجہ یورینیم افزودگی تھی، جبکہ اسی دوران سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا مرکزی نکتہ بھی یورینیم افزودگی ہے۔

تہران کے حکام اس سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مسئلہ صرف افزودگی نہیں تھا، بلکہ امریکہ کی نظر میں اصل فرق اطاعت اور نافرمانی کا تھا۔ اس تاثر کے مطابق، اگر کوئی ملک امریکہ کا قریبی اتحادی ہو، امریکی مفادات کا خیال رکھے، تو وہی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے جس پر دوسروں کو سزا دی جاتی ہے۔

اگر مقصد ایران کو یہ یقین دلانا تھا کہ اسے ایٹمی ہتھیار کی ضرورت نہیں، تو اس معاہدے سے الٹا پیغام جا سکتا ہے۔ ایران کے حریفوں کو قانونی طور پر یہ ٹیکنالوجی مل رہی ہے، جبکہ ایران کو فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی مذاکرات کار کے لیے ایران کو تحمل کی تلقین کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

تحریر کے مطابق، سعودی عرب صرف امریکی تعاون پر ہی انحصار نہیں کر رہا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد سعودی عرب نے ایٹمی طاقت رکھنے والے پاکستان کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، اور پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان کا جوہری پروگرام سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوگا۔

آخر میں مصنف یہ تقابل کرتا ہے کہ ایران نے برسوں تک یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کی یورینیم افزودگی پرامن مقاصد کے لیے ہے، مگر اسے پھر بھی بمباری کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری طرف، سعودی عرب نے یہ کہا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کیے تو وہ بھی ایسا کرے گا، اور اس کے باوجود اسے امریکی تعاون سے افزودگی کی صلاحیت دی جا رہی ہے۔

مصنف کے مطابق، دنیا کی حکومتیں اس پوری صورتحال سے ایک خاص سبق اخذ کر رہی ہیں، اور وہ سبق "غیر مسلح ہونا" نہیں ہے۔

22/07/2026

سورۂ طٰہٰ کی ایک بات نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بار بار تسلی دی اور فرمایا:

﴿لَا تَخَفْ﴾ "ڈرو مت۔"

اور اس سے بھی زیادہ میرے دل کو یہ بات لگی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کے سامنے اپنی گھبراہٹ اور خوف نہیں چھپایا، بلکہ نہایت عاجزی سے عرض کیا:

﴿رَبِّ إِنِّي أَخَافُ﴾ "اے میرے رب! میں ڈرتا ہوں۔"

انہوں نے اپنی انسانی کمزوری اپنے خالق سے نہیں چھپائی۔
اس سے بھی زیادہ خوبصورت بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار ان کا حوصلہ بڑھایا اور ان کے دل کو مضبوط کیا:

﴿قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ﴾ "فرمایا: اسے (سانپ کو) پکڑ لو، اور ڈرو مت۔"

﴿قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى﴾ "فرمایا: تم دونوں ڈرو مت، بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔"

﴿قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ الْأَعْلَى﴾ "ہم نے فرمایا: ڈرو مت، یقیناً غالب تم ہی رہو گے۔"

﴿لَا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَى﴾ "تمہیں نہ دشمن کے آ لینے کا خوف ہوگا اور نہ کسی اور چیز کا ڈر۔"

ہمارے لیے سبق:
مؤمن کے دل میں خوف آ جانا کمزوری نہیں، بلکہ اصل کمزوری یہ ہے کہ وہ اللہ سے دور ہو جائے۔
جب بندہ اپنا خوف، اپنی پریشانی اور اپنی ضرورت اپنے رب کے سامنے رکھ دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اطمینان عطا فرماتا ہے، اسے ہمت دیتا ہے اور ثابت قدم رکھتا ہے۔

15/07/2026
🐦 9 کروڑ 90 لاکھ سال پرانا ننھا پرندہ آج بھی ایسے محفوظ ہے جیسے وقت اس کے لیے رک گیا ہو۔تقریباً 9 کروڑ 90 لاکھ سال پہلے،...
03/07/2026

🐦 9 کروڑ 90 لاکھ سال پرانا ننھا پرندہ آج بھی ایسے محفوظ ہے جیسے وقت اس کے لیے رک گیا ہو۔

تقریباً 9 کروڑ 90 لاکھ سال پہلے، موجودہ میانمار کے سرسبز مخروطی جنگلات میں ایک ننھا پرندہ پہلی بار اپنے گھونسلے سے باہر نکلا۔

لیکن وہ کبھی واپس نہ لوٹ سکا۔

رپورٹس کے مطابق، وہ درخت سے بہنے والی چپچپی رال (Tree Resin) میں پھنس گیا، جو لاکھوں برس بعد عنبر (Amber) میں تبدیل ہو گئی اور اس ننھے پرندے کو حیرت انگیز انداز میں محفوظ کر گئی۔

یہ فوسل ابتدائی پرندوں کے اب تک دریافت ہونے والے سب سے مکمل نمونوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس میں پرندے کا سر، گردن، پروں، دم اور پنجے محفوظ ہیں، جبکہ اس کی پلکیں، کانوں کے سوراخ، پروں کا رنگ اور جسم کی نہایت باریک ساخت بھی آج تک دیکھی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ پرندہ Enantiornithes نامی قدیم گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔

اگرچہ یہ شکل میں آج کے پرندوں سے کافی مشابہ تھا، لیکن اس کے دانت موجود تھے اور اس کے پروں پر پنجے بھی تھے، جو آج کے کسی بھی زندہ پرندے میں نہیں پائے جاتے۔

تقریباً 3 انچ لمبے اس بچے کے پروں کا رنگ گہرے سرمئی سے بھورا تھا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں میں ہی تھا اور پہلی بار پر بدلنے کے مرحلے سے گزر رہا تھا، مگر اس کے مضبوط پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ پیدائش کے چند دن بعد ہی اڑنے اور درختوں پر رہنے کے قابل ہو چکا تھا۔

یہ نادر عنبر 2014 میں میانمار سے حاصل کیا گیا۔

ابتدا میں لوگوں نے سمجھا کہ اس کے اندر کسی چھپکلی کا پنجہ ہے، لیکن بعد میں محقق لیڈا شِنگ (Lida Xing) نے تحقیق کے بعد ثابت کیا کہ یہ دراصل ایک قدیم پرندے کا پنجہ تھا۔

Enantiornithes نامی یہ پرندے تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے ڈائنوسارز کے ساتھ ہونے والی عظیم معدومی میں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔

لیکن اس ننھے پرندے نے اپنی مختصر زندگی کے چند دن، عنبر کے اندر اس طرح محفوظ کر دیے کہ آج بھی سائنسدان اس سے کروڑوں سال پرانی دنیا کے راز جان رہے ہیں۔

👇 اگر آپ کو ایسا نادر فوسل مل جائے، تو کیا آپ اسے میوزیم کے حوالے کریں گے یا اپنے پاس محفوظ رکھیں گے؟

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ULM اردو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share