23/07/2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے تحت سعودی عرب کی سرزمین پر امریکی تعاون سے یورینیم افزودگی (Uranium Enrichment) کی مشینری نصب کی جا سکتی ہے۔ اسی سال امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ کی، جس کا اعلان کردہ مقصد اسی صلاحیت کو تباہ کرنا تھا۔
یہ معاہدہ 30 سال کے لیے ہے، اس میں امریکی کمپنیاں شامل ہوں گی، اور ایک مشترکہ مطالعے کے بعد سعودی
عرب میں یورینیم افزودگی کی تنصیب ممکن ہو سکتی ہے۔
اصل اہمیت اسی لفظ "افزودگی" (Enrichment) کی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ افزودہ یورینیم ایٹمی ہتھیار کا بنیادی خام مال ہے، اور زیادہ تر وہ ممالک جو صرف سول (پرامن) مقاصد کے لیے جوہری ری ایکٹر چلاتے ہیں، خود یورینیم افزودہ نہیں کرتے۔ وہ بین الاقوامی نگرانی میں بند پیکجوں کی صورت میں ایندھن خریدتے ہیں، کیونکہ سینٹری فیوجز چلا کر خود یورینیم افزودہ کرنا ایٹمی ہتھیار بنانے کے مشکل ترین مراحل میں سے ایک ہے۔ ری ایکٹر چلانے کے لیے یہ لازمی نہیں، لیکن ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے یہ بنیادی صلاحیت ہے۔
سعودی عرب کے ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات نے اس حوالے سے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ اس نے امریکی تعاون سے جوہری بجلی گھر تو بنایا، مگر یورینیم افزودگی کے حق سے مکمل طور پر دستبردار ہو گیا۔ اس ماڈل کو اسلحہ کنٹرول کے ماہرین "گولڈ اسٹینڈرڈ" قرار دیتے ہیں۔
لیکن ریاض کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ اس "گولڈ اسٹینڈرڈ" پر پورا نہیں اترتا، بلکہ اس سے بھی آگے جاتا ہے۔
اس معاہدے میں سعودی عرب کے لیے Additional Protocol قبول کرنا لازمی نہیں، جو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (IAEA) کی جانب سے سخت اور اضافی معائنوں کا نظام ہے۔ نگرانی صرف امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان طے شدہ شرائط کے مطابق ہوگی۔ گویا بین الاقوامی ریفری کو میدان سے باہر کر دیا گیا ہے۔
اور جس شخصیت کو یہ صلاحیت دی جا رہی ہے، اس نے اپنے ارادے پہلے ہی ظاہر کر رکھے ہیں۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا۔
اب دونوں پالیسیوں کو ساتھ رکھ کر دیکھیے۔ امریکہ نے کہا کہ ایران پر حملے کی وجہ یورینیم افزودگی تھی، جبکہ اسی دوران سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا مرکزی نکتہ بھی یورینیم افزودگی ہے۔
تہران کے حکام اس سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مسئلہ صرف افزودگی نہیں تھا، بلکہ امریکہ کی نظر میں اصل فرق اطاعت اور نافرمانی کا تھا۔ اس تاثر کے مطابق، اگر کوئی ملک امریکہ کا قریبی اتحادی ہو، امریکی مفادات کا خیال رکھے، تو وہی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے جس پر دوسروں کو سزا دی جاتی ہے۔
اگر مقصد ایران کو یہ یقین دلانا تھا کہ اسے ایٹمی ہتھیار کی ضرورت نہیں، تو اس معاہدے سے الٹا پیغام جا سکتا ہے۔ ایران کے حریفوں کو قانونی طور پر یہ ٹیکنالوجی مل رہی ہے، جبکہ ایران کو فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی مذاکرات کار کے لیے ایران کو تحمل کی تلقین کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
تحریر کے مطابق، سعودی عرب صرف امریکی تعاون پر ہی انحصار نہیں کر رہا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد سعودی عرب نے ایٹمی طاقت رکھنے والے پاکستان کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، اور پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان کا جوہری پروگرام سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوگا۔
آخر میں مصنف یہ تقابل کرتا ہے کہ ایران نے برسوں تک یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کی یورینیم افزودگی پرامن مقاصد کے لیے ہے، مگر اسے پھر بھی بمباری کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری طرف، سعودی عرب نے یہ کہا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کیے تو وہ بھی ایسا کرے گا، اور اس کے باوجود اسے امریکی تعاون سے افزودگی کی صلاحیت دی جا رہی ہے۔
مصنف کے مطابق، دنیا کی حکومتیں اس پوری صورتحال سے ایک خاص سبق اخذ کر رہی ہیں، اور وہ سبق "غیر مسلح ہونا" نہیں ہے۔