Babar Hanif

Babar Hanif چاند راتوں میں ترے ساتھ نکلنا ہے مجھے
ہاتھ ڈالے ترے ہاتھوں میں ٹہلنا ہے مجھے
بابر حنیف

جو کِیا تم نے اُس کی معافی نہیںدرگزر کر دیا ، کیا یہ کافی نہیں؟بابر حنیف
13/09/2026

جو کِیا تم نے اُس کی معافی نہیں
درگزر کر دیا ، کیا یہ کافی نہیں؟
بابر حنیف

نظم:- ایک بارایک بار ہم اگر ایک ہی وقت میں گھر سے نکلیں سبھی جاں ہتھیلی پہ رکھے یہ ٹھان کر “ظلم رہے گا یا ہم رہیں گے”خدا...
10/09/2026

نظم:- ایک بار

ایک بار ہم اگر
ایک ہی وقت میں
گھر سے نکلیں سبھی
جاں ہتھیلی پہ رکھے
یہ ٹھان کر
“ظلم رہے گا یا ہم رہیں گے”
خدا کی قسم
ظلم مٹ جاۓ گا
ظلم مٹ جاۓ گا
بابر حنیف

جنہیں گلے ہوں وہ آئیں اور آ کے بات کریںدلوں کی میز پہ بیٹھیں مذاکرات کریںنیلوفر افضل
06/09/2026

جنہیں گلے ہوں وہ آئیں اور آ کے بات کریں
دلوں کی میز پہ بیٹھیں مذاکرات کریں

نیلوفر افضل

02/09/2026

اے اسیرانِ ظلمستاں!
وردیوں میں ملبوس
اسلحے سے لیس
خودساخته محافظوں کی انا کو
زمیں بوس کرتی ہے
بس تمہاری ایک مسکراہٹ
بابر حنیف

30 اگست  جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دنجو بولا تھا حق اور سچ کے لیے کلاسے رات آدھی اٹھایا غلط ہےبابر حنیف         ...
30/08/2026

30 اگست جبری گمشدگیوں کے متاثرین کا عالمی دن

جو بولا تھا حق اور سچ کے لیے کل
اسے رات آدھی اٹھایا غلط ہے
بابر حنیف

یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے ڈاکڑ فخر عباس انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ پاک جنت میں جگہ دے - آمین
29/08/2026

یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے
ڈاکڑ فخر عباس

انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ پاک جنت میں جگہ دے - آمین

27/08/2026

جان بخشی ہو تو میں جرات اظہار کروں
میں بتاؤں تمہیں ہم دونوں میں رکھنا کیا ہے
بعد اس عشق کے تعلق میں دراڑیں کیسی
اپنے لوگوں کا محافظ سے الجھنا کیا ہے
تم کہیں بھول گںٔے مجھ سے تمہارا رشتہ
ہم نے یہ نی تو سبھی کے لیے رکھواںٔی تھی
میرے ابا تیرے ابا کے لہو سے مل کر
خواب آزادی کے غنچوں میں نمو پاںٔی تھی
مجھ کو طاقت کے اشاروں سے ڈرایا نہ کرو
میں نے پہلے بھی گوارہ یہ اذیت کی ہے
تم کو ہر دور میں محبوب بنا کر رکھنا
تیرے پیکر سے بہت ہم نے محبت کی ہے
بس اسی بات پہ کچھ بات بنا لو ہم سے
ہم پہ کیا عشق اترتا تھا تمہاری خاطر
اپنی بندوق ہٹاؤ میرے سینے سے حضور
اس میں اک دل ہے جو دھڑکتا تھا تمہاری خاطر

خلیل الرحمان قمر #

اک دل ہے جو ٹوٹتا ہے روز کسی سانحے پر، آہ
26/08/2026

اک دل ہے جو ٹوٹتا ہے روز کسی سانحے پر، آہ

26/08/2026

وزیر صحت استعفیٰ دو۔

آج 25 اگست 'میرے پسندیدہ شاعر  احمد فراز صاحب  کی برسی ہےاحمد فراز ایک ایسی عہد ساز شخصیت ہیں جن کے بغیر اردو ادب ادھورا...
25/08/2026

آج 25 اگست 'میرے پسندیدہ شاعر احمد فراز صاحب کی برسی ہے

احمد فراز ایک ایسی عہد ساز شخصیت ہیں جن کے بغیر اردو ادب ادھورا ہے
آپ اردو ادب کے فلک پہ چمکتا ہوا ایسا سورج ہیں جو کبھی غروب نہیں ہو سکتا

حق تعالیٰ بلندی درجات عطا فرمائے
آمـــــــــــــــــــــین

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دِن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اُس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اُس کی
سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اُسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اُس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے
سو اُس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ اِلزام دھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی
جو سادہ دل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جب سے حمائل ہیں اُس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
پلنگ زاویئے اُس کی کمر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

وہ سرو قد ہے مگر بے گلِ مراد نہیں
کہ اُس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں

بس اک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا
سو رہروانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کسے نصیب کہ بے پیرہن اُسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

اب اُس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز



Address

Bagh Azad Kashmir
Islamabad
12510

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Babar Hanif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share