NaziaMustafa

NaziaMustafa journalist/ Anchor, Analyst,columnist. Entrepreneur: rankfuture.com (A digital marketing company )

05/06/2026

بدخواہوں نے ہمیشہ آگ لگانے کی کوشش کی لیکن خطے میں جنگ کے بادل چھٹے تویہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہوا، نازیہ مصطفےٰ

#

05/06/2026

یہاں بھارت اور افغانستان جبکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل جیسے ملک امن نہیں چاہتے، لیکن پاکستان ہر جگہ امن کا علم بردار بن کر ابھرا، نازیہ مصطفےٰ

#

03/06/2026

اگرامن، سیکورٹی اور بنیادی سہولیات فراہم کردی جائیں تو گلگت بلتستان میں اربوں ڈالر کی سیاحت کی صنعت فروغ پاسکتی ہے، نازیہ مصطفےٰ کا پی ٹی وی کے ٹاک شو میں اظہار خیال

03/06/2026

میاں نواز شریف نے جی بی کے انتخابی جلسے میں عوامی مسائل کے حل کی بات کی، گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں، وہ انتخابات میں بہترین فیصلہ کریں گے، نازیہ مصطفےٰ کا اظہار خیال

01/06/2026

صدر ٹرمپ جس دلدل میں پھنس چکے ہیں، انہیں کہیں سے مدد نہیں مل رہی، پاکستان خطے میں امن کیلئے کردار ادا کررہا ہے، نازیہ مصطفےٰ کا اظہار خیال

01/06/2026

صدر ٹرمپ جلد ڈیل چاہتے ہیں، لیکن امریکہ کی داخلی سیاست، پارٹی کا دباؤ اور اسرائیل سمیت کئی فیکٹرز صدر ٹرمپ کو روکے ہوئے ہیں، نازیہ مصطفےٰ کا اظہار خیال

ماسکو کی نئی افغان پالیسی، ایک خطرناک جوانازیہ مصطفےٰافغانستان ایک بار پھر عالمی اور علاقائی سیاست کے مرکز میں ہے، لیکن ...
01/06/2026

ماسکو کی نئی افغان پالیسی، ایک خطرناک جوا
نازیہ مصطفےٰ

افغانستان ایک بار پھر عالمی اور علاقائی سیاست کے مرکز میں ہے، لیکن اس بار بحث کا محور صرف طالبان کی حکومت نہیں بلکہ ان کے ساتھ بڑی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں روس اور طالبان کے درمیان روابط میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خصوصاً دفاعی اور سکیورٹی شعبوں میں۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے ماسکو کے دورے اور دونوں فریقوں کی جانب سے فوجی و تکنیکی تعاون کے اعلانات نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا روس ایک ایسے نظام کو مضبوط بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے اور ان کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں؟
بین الاقوامی سیاست میں ریاستیں اکثر اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ روس بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ ماسکو کی نظر میں طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھانا وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے، مغربی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور افغانستان میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات قلیل مدتی جغرافیائی فوائد طویل مدتی سکیورٹی خطرات کو جنم دیتے ہیں۔ افغانستان کے معاملے میں بھی یہی خدشہ نمایاں نظر آتا ہے۔
حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کے اعلانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خود روسی سکیورٹی ادارے افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر مسلسل تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ روسی فیڈرل سکیورٹی سروس کے سربراہ الیگزینڈر بورتنیکوف نے خبردار کیا ہے کہ داعش خراسان وسطی ایشیائی ریاستوں اور روسی تارکین وطن میں بھرتیاں بڑھا رہی ہے۔ اسی طرح روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان میں ہزاروں دہشت گردوں کی موجودگی اور شدت پسند نیٹ ورکس کے پھیلاؤ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اگر روس کے اپنے ادارے افغانستان کو ایک بڑھتے ہوئے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں تو پھر اسی ماحول پر حکمرانی کرنے والی حکومت کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کی منطق سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اصل مسئلہ صرف طالبان حکومت نہیں بلکہ وہ مجموعی سکیورٹی ماحول ہے جو افغانستان میں موجود ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور علاقائی جائزوں میں یہ بات بارہا سامنے آ چکی ہے کہ افغانستان میں متعدد شدت پسند تنظیمیں مختلف سطحوں پر سرگرم ہیں۔ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر گروہوں کے بارے میں متعدد ممالک اور بین الاقوامی ادارے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ چاہے ان گروہوں کی سرگرمیوں کی شدت اور نوعیت پر مختلف آراء موجود ہوں، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ افغانستان اب بھی ایک ایسا جغرافیائی خطہ ہے جہاں کئی شدت پسند نیٹ ورکس موجود ہیں اور ان کی سرگرمیوں کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
روس کے لیے سب سے بڑا تضاد یہی ہے۔ ایک طرف وہ دہشت گردی کے خطرات سے خبردار کر رہا ہے اور دوسری طرف اسی ماحول میں موجود حکمران ڈھانچے کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے شخص سے مشابہ ہے جو آگ لگنے کے خطرے سے پریشان بھی ہو اور اسی وقت ایندھن بھی فراہم کر رہا ہو۔ اگر طالبان کو جدید تکنیکی معاونت، فوجی تربیت یا دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ حاصل ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف افغانستان تک محدود نہیں رہیں گے۔
افغانستان کی تاریخ اس حوالے سے سبق آموز ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اس ملک میں مختلف طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحت مختلف گروہوں کی حمایت کی۔ ہر مرحلے پر یہ تصور پیش کیا گیا کہ مخصوص اتحاد وقتی استحکام یا اسٹریٹجک فائدہ فراہم کرے گا، مگر نتیجہ اکثر اس کے برعکس نکلا۔ 1980 کی دہائی کی مسلح سیاست سے لے کر بعد کے ادوار تک، افغانستان بارہا اس حقیقت کا ثبوت بن چکا ہے کہ عسکری طاقت کے ذریعے مختصر المدتی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے طویل المدتی نتائج پورے خطے کو متاثر کرتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو عسکری سازوسامان اور دفاعی صلاحیتوں کا پھیلاؤ ہے۔ طالبان پہلے ہی سابق افغان حکومت کے خاتمے کے بعد بڑی مقدار میں عسکری سامان تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض ہتھیار اور فوجی آلات غیر ریاستی عناصر تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اگر ایسے ماحول میں مزید دفاعی تعاون، تربیت یا تکنیکی صلاحیتوں کا اضافہ ہوتا ہے تو اس کے غیر ارادی نتائج کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تنازعات سے بھرپور علاقوں میں فراہم کی جانے والی عسکری صلاحیتیں ہمیشہ صرف اصل وصول کنندگان تک محدود نہیں رہتیں۔
اس صورتحال کے علاقائی اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کئی برسوں سے سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستیں بھی افغانستان سے درپیش خطرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔ تاجکستان، ازبکستان اور دیگر ممالک نے اپنی سرحدی نگرانی اور سکیورٹی اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ چین بھی اپنے مغربی علاقوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ جب خطے کے تقریباً تمام اہم ممالک افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کا ذکر کر رہے ہوں تو ایسی صورتحال میں طالبان کے ساتھ دفاعی تعاون کے فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
روس ممکنہ طور پر یہ سمجھتا ہے کہ طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات اسے افغانستان کے اندر اثر و رسوخ فراہم کریں گے اور یوں وہ خطرات کو بہتر طریقے سے منظم کر سکے گا۔ یہ دلیل بظاہر معقول محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اس میں ایک بنیادی کمزوری موجود ہے۔ اثر و رسوخ اور انحصار میں فرق ہوتا ہے۔ اگر ایک فریق کو سیاسی قبولیت، سفارتی جواز اور دفاعی تعاون ملتا رہے جبکہ دوسری جانب دہشت گردی سے متعلق بنیادی خدشات برقرار رہیں تو طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں طالبان کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ گنجائش اور اعتماد حاصل ہوگا، جبکہ خطے کے دیگر ممالک کے خدشات کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتے ہیں۔
طالبان کے ساتھ ماسکو کے بڑھتے ہوئے تعلقات ایک علامتی پیغام بھی دیتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں علامتوں کی اہمیت بعض اوقات عملی اقدامات سے کم نہیں ہوتی۔ جب کوئی بڑی طاقت کسی متنازع حکومت کے ساتھ دفاعی روابط استوار کرتی ہے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ سکیورٹی اور طرز حکمرانی سے متعلق خدشات ثانوی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔ اس قسم کے اشارے دیگر علاقائی اور غیر ریاستی عناصر کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو صرف ایک ملک کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ جدید شدت پسند نیٹ ورکس سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ ان کی مالی معاونت، افرادی قوت، نظریاتی پروپیگنڈا اور آپریشنل روابط کئی ممالک تک پھیلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی ایک ملک میں ایسا ماحول موجود ہو جہاں یہ نیٹ ورکس نسبتاً آسانی سے زندہ رہ سکیں تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے افغانستان کی صورتحال صرف افغان مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی سکیورٹی کا مسئلہ بھی ہے۔
روس کی موجودہ حکمت عملی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ماسکو طالبان کے ساتھ تعلقات بڑھاتے ہوئے ان سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح، قابل تصدیق اور مؤثر اقدامات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو یہ پالیسی ایک خطرناک جوا ثابت ہو سکتی ہے۔ وقتی سفارتی فوائد اور جغرافیائی اثر و رسوخ شاید حاصل ہو جائیں لیکن اگر شدت پسند نیٹ ورکس بدستور فعال رہتے ہیں تو اس کے نتائج روس سمیت پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں ریاستوں نے قلیل مدتی اسٹریٹجک مفادات کی خاطر ایسے اتحادیوں پر انحصار کیا جو بعد میں خود ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن گئے۔ افغانستان کی پیچیدہ صورتحال بھی اسی نوعیت کے خطرات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو صرف دوطرفہ سفارتی پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات افغانستان کی سرحدوں سے بہت دور تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
قارئین کرام! اگر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کو واقعی ترجیح دینی ہے تو کسی بھی قسم کے عسکری تعاون کو سخت احتیاط، شفاف شرائط اور قابلِ تصدیق سکیورٹی ضمانتوں کے ساتھ مشروط ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ خطرہ موجود رہے گا کہ ایک ایسا نظام مزید مضبوط ہو جائے جو پہلے ہی دہشت گردی اور شدت پسندی سے متعلق سنگین سوالات کی زد میں ہے۔ ایسی صورت میں اس فیصلے کی قیمت صرف افغانستان یا روس نہیں بلکہ پورا خطہ ادا کرے گا۔

26/05/2026

پاکستان اور چین کے مابین تعاون کے 15 ایم اویوز اور معاہدوں کے مثبت اثرات دونوں ممالک کے ساتھ پورے خطے پر مرتب ہونگے، نازیہ مصطفےٰ

21/05/2026

یقینا امریکہ ایران کے ساتھ ایک بہترین ڈیل کی تلاش میں ہے، اسی لیے وہ بار بار حملے کی دھمکی کو "ری شیڈول" کرتا ہے، نازیہ مصطفےٰکا تجزیہ

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NaziaMustafa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to NaziaMustafa:

Share