25/08/2026
پاکستانی نوجوانو! اب تو گوگل کرلو!
نازیہ مصطفےٰ
پاکستان میں گوگل کا دفتر کھلنا ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کیلئے ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستانی صارفین ایک طویل عرصے سے گوگل کی مختلف سہولیات استعمال کر رہے ہیں۔ گوگل کا سرچ انجن، یوٹیوب، ای میل، نقشے، آن لائن اسٹوریج اور دوسری بے شمار سہولیات ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں لیکن ایک عرصے سے یہ خواہش بھی موجود تھی کہ گوگل پاکستان میں اپنا باقاعدہ دفتر قائم کرے۔ اب یہ انتظار ختم ہوگیا ہے اور وزیراعظم میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے گوگل نے پاکستان میں اپنی باقاعدہ موجودگی قائم کرلی ہے۔
اس پیش رفت کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اب گوگل اور پاکستان کے درمیان تعلق صرف صارف اور کمپنی کا نہیں رہے گا بلکہ اسے باقاعدہ شراکت داری میں تبدیل کرنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس سے پاکستان میں کاروبار کرنے والوں، نوجوانوں، طلبہ، آزادانہ طور پر آن لائن کام کرنے والوں اور مختلف شعبوں سے وابستہ تخلیق کاروں کیلئے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ پاکستانی نوجوان پہلے ہی دنیا بھر کے لوگوں اور اداروں کیلئے گھر بیٹھے کام کر رہے ہیں۔ کوئی کانٹنٹ لکھ رہا ہے، کوئی ویڈیو بنا رہا ہے، کوئی آن لائن کاروبار کر رہا ہے، کوئی تصویری مواد تیار کررہا ہے اور کوئی بیرون ملک کمپنیوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ گوگل کی مقامی موجودگی اس پورے شعبے کو مزید منظم اور مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
خاص طور پر ان لوگوں کیلئے یہ خبر اہم ہے جو انٹرنیٹ کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے نوجوان اپنی چھوٹی چھوٹی دکانوں، خدمات اور کاروباری سرگرمیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ملک بھر بلکہ بیرون ملک صارفین تک پہنچا رہے ہیں۔ پہلے ایک چھوٹے کاروبار کیلئے اپنی مصنوعات کی تشہیر کرنا، صارفین تک پہنچنا اور بیرون ملک خریدار تلاش کرنا مشکل کام تھا لیکن اب انٹرنیٹ نے یہ فاصلے تقریباً ختم کردیے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس سہولت کو محض وقت گزارنے کیلئے نہیں بلکہ آمدن پیدا کرنے اور اپنی صلاحیتیں بڑھانے کیلئے استعمال کریں۔
اس پوری پیش رفت میں سب سے زیادہ توجہ مصنوعی ذہانت پر مرکوز ہونی چاہیے۔ گوگل کی مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول "جیمینائی" آج دنیا بھر میں تیزی سے استعمال ہونے والے جدید ٹولز میں شامل ہے۔ پاکستانی طلبہ کیلئے اس کی ایک سالہ مفت سب اسکرپشن کی سہولت یقیناً ایک بڑا موقع ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے کیونکہ جس ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے دنیا کے دوسرے ملکوں میں طلبہ بھاری رقم خرچ کرتے ہیں اگر وہ سہولت پاکستانی طالب علموں کو مفت میسر آرہی ہے تو اسے ضائع کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔
البتہ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ نہیں کہ طالب علم اپنی پڑھائی اور سوچنے کی صلاحیت مصنوعی ذہانت کے حوالے کردیں۔ اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب طالب علم اسے اپنا متبادل بنانے کی بجائے معاون بنائیں گے۔ اگر کوئی طالب علم مشکل مضمون سمجھنے، تحقیق کیلئے ابتدائی معلومات حاصل کرنے، سوالات کے جواب تلاش کرنے، اپنی تحریر بہتر بنانے یا کسی پیچیدہ موضوع کو آسان انداز میں سمجھنے کیلئے اس سہولت سے مدد لیتا ہے تو یہ اس کی تعلیمی صلاحیت میں اضافہ کرسکتی ہے۔ لیکن اگر وہ ہر سوال کا جواب خود تلاش کرنے کے بجائے صرف مصنوعی ذہانت سے حاصل کرکے یاد کرلے تو اس کا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔
دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کمپیوٹر چلانا ایک خاص مہارت سمجھا جاتا تھا، پھر انٹرنیٹ آیا اور کام کرنے کا پورا انداز بدل گیا۔ اس کے بعد موبائل فون اور سماجی ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب کردیا۔ اب مصنوعی ذہانت ایک نئے دور کا آغاز کررہی ہے۔ آنے والے برسوں میں تعلیم، طب، زراعت، تجارت، صنعت، صحافت، بینکاری، دفاع، تحقیق اور تقریباً ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت کا کردار مزید بڑھنے والا ہے۔
یہ میدان اتنا وسیع ہے کہ اس میں صرف کمپیوٹر بنانے والے ماہرین ہی کیلئے مواقع نہیں بلکہ لکھنے والے، ڈیزائن بنانے والے، ویڈیو تیار کرنے والے، استاد، محقق، کاروباری افراد، انجینئر، ڈاکٹر اور حتیٰ کہ کسان بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اصل کامیابی اس شخص کو ملے گی جو اپنے موجودہ ہنر کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ جوڑ لے گا۔ مثلاً ایک کاروباری شخص اپنے صارفین کو سمجھنے، تشہیری مواد تیار کرنے اور کاروباری منصوبہ بندی میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لے سکتا ہے۔
اس لیے آج کے نوجوان کیلئے سب سے اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت اس کی ملازمت ختم کردے گی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ وہ خود مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنا کب سیکھے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کچھ پرانے کام ضرور کم کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ نئے کام اور نئی مہارتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ جو لوگ تبدیلی کے ساتھ خود کو تبدیل کرلیتے ہیں وہ آگے نکل جاتے ہیں جبکہ تبدیلی سے آنکھیں چرانے والے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کیلئے اس وقت سب سے بڑا موقع یہی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ٹیکنالوجی کے کنزیومرز نہ بنائیں بلکہ انہیں اس کا ماہر بنائیں۔ ہمارے ملک میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر ان نوجوانوں کو اچھی تعلیم، تیز رفتار انٹرنیٹ، جدید تربیت اور عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کردی جائیں تو وہ پاکستان کیلئے بہت بڑا معاشی سرمایہ بن سکتے ہیں۔
حکومت کو بھی اس موقع کو صرف گوگل کا دفتر کھلنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائے، نوجوانوں کیلئے تربیتی پروگرام بڑھائے جائیں، آن لائن کاروبار کرنے والوں کے مسائل حل کیے جائیں، بیرون ملک سے رقم وصول کرنے کے آسان ذرائع فراہم کیے جائیں اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن سے ٹیکنالوجی کی مقامی صنعت مضبوط ہو۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر کام کریں تو پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو دنیا کی بڑی ڈیجیٹل افرادی قوت میں تبدیل کرسکتا ہے۔
پاکستانی طلبہ اور نوجوانوں کیلئے اس وقت پیغام بہت سادہ ہے کہ مواقع ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ گوگل پاکستان میں اپنا دفتر کھول چکا ہے، مصنوعی ذہانت ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے اور دنیا بھر میں کاروبار اور روزگار کے طریقے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم صرف دوسروں کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے رہیں گے یا خود بھی اس کے ماہر بنیں گے۔
قارئین کرام! قوموں کا مستقبل اب صرف زمین، معدنیات اور آبادی سے طے نہیں ہوگا بلکہ علم، ہنر، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے طے ہوگا۔ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی صورت میں ایک بہت بڑا سرمایہ موجود ہے۔ اگر یہی نوجوان مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر، آن لائن کاروبار، تحقیق اور جدید علوم میں مہارت حاصل کرلیں تو گوگل کا پاکستان میں دفتر کھلنا محض ایک خبر سے بڑھ کر پاکستان کے ایک نئے معاشی اور ٹیکنالوجی کے دور کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔