02/04/2025
آسائشِ حیات تو مل جائے گی کبھی
لیکن سکونِ قلب مقدر کی بات ہے
دھوکہ ہے یہ سراب، نہ رکنا مسافرِ راہ
منزل کا اعتبار بھی پتھر کی بات ہے
ہر درد کا علاج نہیں دستِ چارہ گر
بے چین روح کا بھی مقدر کی بات ہے
ہم نے تو زخم کھا کے بھی لب سی لیے مگر
وہ بے وفا نہ سمجھے کہ صبر کی بات ہے
دنیا کے ساز و رخت پہ نازاں نہ ہو بہت
اک پل میں کھو بھی جائے، مقدر کی بات ہے