05/02/2025
ایپمیا کی حالیہ ایگزیکٹو کمیٹی میٹنگ میں چائنہ ویزا کے مسائل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، جسے ہم نے چینی کونسل جنرل، کراچی اور FPCCI کے ساتھ اٹھایا۔
درج ذیل اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا:
1. ویزا پراسیسنگ میں تیزی: ہم نے خاص طور پر شامین سٹون فیئر ، چائنہ میں شرکت کرنے والے شرکاء کے لیے ویزا کے تیز تر اجرا کی ضرورت پر زور دیا۔
2. طویل مدت کیلۓ ویزا: ہم نے تجویز دی کہ پاکستانی شہریوں کو 2 سے 3 سال کے ویزے جاری کیے جائیں تاکہ چینی سفارت خانے پر بوجھ کم ہو اور طویل مدتی کاروباری روابط میں آسانی ہو۔
3. چینی شہریوں پر سفری پابندیاں: ہم نے دریافت کیا کہ آیا خیبرپختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور بلوچستان چینی ویزیٹرز کے لیے ممنوعہ علاقے سمجھے جاتے ہیں۔
4. منرل پارک کا قیام: ہم نے پاکستان میں ایک مخصوص منرل پارک کے قیام کی تجویز دی، جہاں چینی خریدار محفوظ طریقے سے معائنہ، خریداری اور کارگو لوڈ کر سکیں، تاکہ چین میں غیر متوقع کارگو مسائل کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
چینی کونسل جنرل نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا:
• انہوں نے یقین دلایا کہ ویزا پراسیسنگ میں تیزی لانے اور طویل مدتی ویزوں کے اجرا کی کوشش کی جاۓ گی، بشرطیکہ یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ ان ویزا کا غلط استعمال نہ ہو، خاص طور پر ہانگ کانگ جیسے ممنوعہ علاقوں میں داخلے کے لیے۔ APMIA اور FPCCI نے ضروری سپورٹ لیٹر فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
• انہوں نے وضاحت کی کہ چینی شہریوں کے لیے پاکستان میں کوئی باضابطہ نو گو ایریا نہیں ہیں اور چین پاکستان میں سرمایہ کاری اور طویل مدتی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ تاہم، بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات ایک چیلنج ہے، جسے جلد حل کرنے کی امید ظاہر کی گئی۔
• انہوں نے منرل پارک کے قیام میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی تجویز دی۔
ہم پر امید ہیں کہ ان مذاکرات سے ویزا کے عمل کو مزید آسان بنایا جا سکے گا اور پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔