01/03/2026
انہوں نے 86 برس کی زندگی میں میدان میں اپنی قوم اپنے ملک کیلئے جان دی، ایک دن تو جانا ہی تھا، مگر رمضان میں میدان سجا، وه دھاڑ کر اپنے بزرگ جسم کو گھسیٹ کر میدان میں پہنچے، مقابل نے سر جھکانے کے بدلے جنگ بندی کی پیشکش کی، شان سے ٹھکرا دی کہا لا الہ اللہ اور تاریخ میں اس صدی کی سب سے بڑی شہادت نصیب میں لکھوا لی مگر جانے سے پہلے مقابل کو اور ولی عہد کو بتا دیا، میرے جانے سے میری قوم کمزور نہیں ملے گی، کمزور ایمان والوں کو بھی بتایا کہ شہادت غلامی میں نہیں ہوتی، اسکے لئے میدان میں جانا پڑتا ہے، یوں ت حیات استثنیٰ لیکر غلامی کا طوق پہن کر شہادت کی آرزو کرنے والے صرف اور صرف اپنے آپکو اور دوسروں کو دھوکے میں رکھتے ہیں، میں جہانزیب جو کسی فرقے کو نہیں مانتا فقط مسلمان ہوں اور میں اس عظیم شہادت پر ایرانیوں کو حسرت سے دیکھ رہا ہوں، کیا ماؤں نے بچے جنے ہیں کیا حوصلے ہیں کیا بردباری اور کیا ایمان ہے.
جہانزیب پاکستانی