18/11/2025
"ایک قیدی اِتنا اھم کیوں ھے"
عرب میں جب گھوڑوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو یہ پہچاننا ناممکن تھا کہ نسلی کون ہے اور بے نسل کون ہے
تو اس پہچان کے لیے وہ گھوڑوں کو بھوکا رکھتے اور پھر خوب مارتے
مارنے کے تھوڑی دیر بعد مارنے والا ہی ان کو کھانا ڈالتا ،بے نسلے دوڑتے ہوئے جاتے اور کھانے پر ٹوٹ پڑتے
اور جو نسلی گھوڑے ہوتے وہ کھانا کھانے سے انکار کر دیتے ،ان کے اندر نسلی خون ہوتا جو ان کی خودی اور خودداری کو کسی بھی لالچ کے سامنے جھکنے نہیں دیتا تھا
تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان کے ہر خون بہانے کے بعد بے نسلے کھانے اور لالچ کے پیچھے دوڑتے ہوئے گئے اور اور نسلی انسان نے جیل برداشت کر لی ،اپنی پوری فیملی ،بھانجے ،بیوی بہنوں کو قربان کر دیا مگر خودداری پر آنچ نہ آنے دی۔