26/12/2025
نون لیگ کے میگا منصوبے: ترقی کے نام پر مستقل خسارہ
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی جماعت نے میگا پراجیکٹس کو اپنی پہچان بنایا تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے۔ موٹر ویز، اورنج لائن میٹرو ٹرین اور بجلی کے درجنوں منصوبے عوام کے سامنے ترقی کی علامت بنا کر پیش کیے گئے، مگر جب ان منصوبوں کا مالی پوسٹ مارٹم کیا جائے تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ یہ منصوبے ترقی کم اور ریاست کیلئے مستقل خسارے زیادہ ثابت ہوئے۔
موٹر ویز: چمکتی سڑکیں، خسارے کی پٹری
موٹر ویز کا آغاز نواز شریف دور میں ہوا اور اسے ملکی ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ:
موٹر ویز سے سالانہ آمدن تقریباً 45 سے 50 ارب روپے ہے جبکہ دیکھ بھال، موٹروے پولیس، مرمت اور آپریشن پر 60 سے 65 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں یوں موٹر ویز ہر سال قومی خزانے کو 15 سے 20 ارب روپے کا خسارہ دے رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ منصوبہ معاشی طور پر قابلِ عمل تھا تو ٹول ریٹس حقیقت کے مطابق کیوں نہ رکھے گئے؟ جواب واضح ہے: سیاسی مقبولیت۔
اورنج لائن: سبسڈی کا نہ ختم ہونے والا کنواں
اورنج لائن میٹرو ٹرین نون لیگ کے دور کی سب سے مہنگی شہری ٹرانسپورٹ اسکیم ہے۔ اس منصوبے کو جدید لاہور کی تصویر بنا کر بیچا گیا، مگر اعداد و شمار چیخ چیخ کر حقیقت بتاتے ہیں:
روزانہ آمدن: 1.2 تا 1.5 کروڑ روپے
روزانہ اخراجات: 4 تا 5 کروڑ روپے
یومیہ خسارہ: تقریباً 3 کروڑ روپے
یوں سالانہ خسارہ 100 سے 110 ارب روپے تک جا پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ چین سے لیے گئے تقریباً 1.6 ارب ڈالر قرض کی قسطیں اور سود الگ، جو سالانہ 30 سے 35 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف آج خسارے میں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی مقروض بنا چکا ہے۔
میٹرو بسیں (پنجاب): سستی سواری، مہنگی سبسڈی
اورنج لائن کے ساتھ ساتھ نون لیگ نے پنجاب بھر میں میٹرو بس سروسز (لاہور، راولپنڈی۔اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ) کو بھی ترقی کی علامت بنا کر پیش کیا۔ بلاشبہ ان منصوبوں سے شہریوں کو سفری سہولت ملی، مگر ان کی معاشی حقیقت بھی شدید خسارے سے عبارت ہے۔ اہم اعداد و شمار کے مطابق: پنجاب کی میٹرو بس سروسز کی مجموعی یومیہ آمدن: تقریباً 3 سے 4 کروڑ روپے
یومیہ آپریشنل اخراجات (ایندھن، ڈرائیورز، کنڈکٹرز، مینٹیننس): 10 سے 12 کروڑ روپے
یومیہ خسارہ: 6 سے 8 کروڑ روپے
یوں صرف میٹرو بسوں پر سالانہ خسارہ 200 سے 250 ارب روپے کے درمیان بنتا ہے، جو براہِ راست پنجاب حکومت سبسڈی کی صورت میں ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بسوں کی خریداری، ٹریکس کی تعمیر، اور ڈپو انفراسٹرکچر پر آنے والی ابتدائی لاگت اربوں روپے الگ ہے، جس کا مالی بوجھ بھی بالآخر عوام پر ہی پڑتا ہے۔
یہ منصوبے اس مفروضے پر بنائے گئے کہ حکومت مستقل سبسڈی دیتی رہے گی، جبکہ کسی بھی پائیدار ٹرانسپورٹ ماڈل میں بتدریج لاگت پوری کرنے کا نظام موجود ہوتا ہے، جو یہاں نظر نہیں آتا۔
بجلی گھر: اصل معاشی تباہی
نون لیگ دور میں لگائے گئے بجلی گھروں کا سب سے سنگین پہلو Capacity Payments ہیں۔ یعنی بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، حکومت کو نجی بجلی گھروں کو ادائیگی لازمی ہے۔
سالانہ Capacity Payments: 1,900 سے 2,100 ارب روپے
گردشی قرضہ 2025 تک بڑھ کر 2,600 تا 2,800 ارب روپے ہو چکا ہے یوں بجلی کے شعبے کا سالانہ مجموعی بوجھ 2,500 ارب روپے سے زائد ہے۔ یہی بوجھ بجلی کے بلوں، ٹیکسوں اور مہنگائی کی صورت میں عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
مجموعی خسارہ: ایک تلخ حقیقت :اگر ان تمام منصوبوں کو یکجا کیا جائے تو تصویر یوں بنتی ہے:
موٹر ویز: 15–20 ارب روپے سالانہ
اورنج لائن: 100–110 ارب روپے سالانہ
میٹرو بسیں (پنجاب): 200–250 ارب روپے سالانہ
بجلی گھر: 2,500 ارب روپے سالانہ سے زائد
یعنی نون لیگ کے یہ بڑے منصوبے مجموعی طور پر تقریباً 2,820 سے 2,880 ارب روپے سالانہ کا بوجھ قومی خزانے پر ڈال رہے ہیں۔
نتیجہ: ترقی یا سیاسی نمائش؟
یہ سوال اب ناگزیر ہے کہ کیا ترقی کا معیار صرف کنکریٹ، پل اور ٹرینیں ہیں؟ اگر ترقی ہوتی تو بجلی سستی ہوتی، ٹیکس کم ہوتے اور ریاست قرضوں میں نہ ڈوبتی۔ حقیقت یہ ہے کہ نون لیگ نے منصوبے معاشی منصوبہ بندی کے بغیر، مہنگے قرضوں اور یکطرفہ معاہدوں کے تحت بنائے۔ فائدہ مخصوص سرمایہ داروں اور کمپنیوں کو ہوا، جبکہ خسارہ عوام کے حصے میں آیا۔ جب تک منصوبوں کا احتساب نہیں ہوگا اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جگہ معاشی حقیقت کو ترجیح نہیں دی جائے گی، اس ملک میں ترقی اب صرف ایک نعرہ ہی رہے گا۔
طاہر سعید