08/06/2026
چند دن پہلے ایک یوٹیوبر صاحب کی ویڈیو دیکھی جس میں وہ گرافک ڈیزائننگ اور AI کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ مجھے کوئی بھی تصویر یا ڈیزائن بتائیں، میں اسے صرف 2 سے 3 منٹ میں AI سے بنوا دوں گا۔
اس پر میرا ایک نقطۂ نظر ہے۔
یہ بات درست ہے کہ آج AI کی مدد سے تصاویر بنائی جا سکتی ہیں، اور بہت اچھے نتائج بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اکثر لوگ صرف آخری نتیجہ دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے ہونے والی محنت نہیں دیکھتے۔
ایک اچھا AI ڈیزائن یا تصویر حاصل کرنے کے لیے صرف ایک پرامپٹ کافی نہیں ہوتا۔ پہلے درست پرامپٹ لکھنا پڑتا ہے، پھر نتیجہ دیکھنا پڑتا ہے، پھر اس میں تبدیلیاں کروانی پڑتی ہیں، پھر دوبارہ پرامپٹ دینا پڑتا ہے۔ یہ عمل کئی مرتبہ دہرایا جاتا ہے تب جا کر مطلوبہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔
اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایک مکمل پروفیشنل گرافک ڈیزائن صرف 2 یا 3 منٹ میں AI سے تیار کر دیتا ہے، تو میرا ان سے مؤدبانہ چیلنج ہے کہ وہ ایک مکمل سکرین ریکارڈنگ شیئر کریں جس میں شروع سے آخر تک پورا عمل دکھایا جائے۔ ڈیزائن منتخب کرنے سے لے کر حتمی نتیجے تک۔
AI یقیناً ایک طاقتور ٹول ہے، لیکن AI خود سے کچھ نہیں کرتی۔ اسے استعمال کرنے والا انسان ہی اسے ہدایات دیتا ہے۔ جس شخص کو AI استعمال کرنا نہیں آتی، وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اور جسے گرافک ڈیزائننگ کی سمجھ نہیں، وہ صرف AI کی مدد سے ہر وقت بہترین نتائج بھی حاصل نہیں کر سکتا۔
میری نظر میں AI جابز ختم نہیں کر رہی، بلکہ کام کرنے کا طریقہ بدل رہی ہے۔ آج کے دور میں کامیاب وہی ہوگا جو اپنی مہارت کے ساتھ AI کو بھی استعمال کرنا سیکھ لے گا۔
اگر وہ یوٹیوبر صاحب واقعی 2 سے 3 منٹ میں ایک مکمل پروفیشنل ڈیزائن بنا کر دکھا دیں، تو ہم بھی خوشی سے تسلیم کر لیں گے اور کچھ نیا سیکھ لیں گے۔ لیکن جب تک پورا عملی طریقہ سامنے نہیں آتا، صرف دعویٰ سن کر یقین کرنا مشکل ہے۔