22/08/2026
جام پور: ہماری 'وسیب' اور بگڑتی معاشرت کا سوال
انڈس ہائی وے پر دوڑتی ٹریفک کا شور، صدارت بازار کی تنگ گلیاں، اور شام کے وقت چائے کے ہوٹلوں پر سجتی گرم جوش محفلیں—یہ جام پور کا وہ روایتی روپ ہے جسے ہم اپنا فخر کہتے ہیں۔ سرائیکی وسیب کا یہ تاریخی شہر اپنی لکڑی کی نفیس دستکاری، بولی کی مٹھاس اور روایتی میزبانی کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم ان روایتی تعریفوں کے پردے کے پیچھے جھانکیں، تو ایک کڑوا سوال ہمارا منتظر ہے: کیا آج کا جام پور واقعی ایک باشعور معاشرہ ہے، یا صرف ایک بے سمت ہجوم؟
معاشرت کا اصل امتحان سوشل میڈیا پر وسیب کی ثقافت پر لچھے دار گفتگو کرنا نہیں، بلکہ جام پور کی گلیوں اور چوکوں پر ہمارا روزمرہ کا رویہ ہے۔ جب ہم اپنی موٹر سائیکل کو تیز رفتاری سے کسی تنگ گلی سے گزارتے ہوئے بوڑھوں اور بچوں کو خوفزدہ کرتے ہیں، یا اپنی دکان کا سامان سڑک کے درمیان تک پھیلا کر عام لوگوں کے لیے راستہ بند کر دیتے ہیں، تو وہاں ہماری ہزاروں سالہ روایتی تہذیب دم توڑ دیتی ہے۔ اپنے گھر کا کوڑا کچرا گلی کے موڑ یا نالی میں پھینک دینا اور پھر انتظامیہ کو گالیاں دینا ہماری موجودہ شہری معاشرت کا المیہ بن چکا ہے۔
ہماری قدیمی معاشرت کا بنیادی محور "وسوں" یعنی مل جل کر امن اور احترام سے رہنے کا فلسفہ تھا۔ لیکن آج حالت یہ ہے کہ انڈس ہائی وے کے چوک پر ذرا سی گاڑی چھو جانے پر لوگ ایک دوسرے کا گریبان پکڑ لیتے ہیں۔ ہم سیاسی، ذاتی اور قبائلی تعصبات میں اس قدر تقسیم ہو چکے ہیں کہ ہمسائے کے بنیادی حقوق سے زیادہ ہمیں اپنی انا اور اثر و رسوخ کی فکر ہوتی ہے۔
جام پور محض راجن پور کے نقشے پر قائم ایک شہر نہیں، یہ جیتے جاگتے انسانوں کی بستی ہے۔ اس شہر کی شناخت کبھی لکڑی پر تراشے گئے شاہکاروں کی طرح نازک اور خوبصورت تھی۔ اسے بحال کرنے کے لیے ہمیں صرف حکمرانوں کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے اندر شہری شعور بیدار کرنا ہوگا۔ سچی معاشرت یہ نہیں کہ ہم ایک ہی جغرافیے میں بامرِ مجبوری ساتھ رہیں، بلکہ سچی معاشرت یہ ہے کہ جام پور کا ہر شہری اپنے عمل سے دوسرے کے لیے آسانی اور عزتِ نفس کا سبب بنے۔
آپ کیا کہتے ہیں؟