13/03/2026
ایک جیل میں بہت سے قیدی تھے۔ ان میں ایک قیدی ایسا بھی تھا جو ہمیشہ پریشان اور خاموش رہتا تھا۔ ایک دن جیل کے ایک بزرگ قیدی نے اسے ایک نماز کی جائے نماز (جیل ماز) دی اور کہا:
“بیٹا! جب دل گھبرائے تو اس پر بیٹھ کر اللہ سے بات کرنا۔”
پہلے تو وہ قیدی صرف رسمی طور پر نماز پڑھتا تھا، مگر آہستہ آہستہ جب وہ اس جائے نماز پر بیٹھ کر سچے دل سے دعا کرنے لگا تو اس کے دل کو سکون ملنے لگا۔ 🤲
کچھ مہینوں بعد جیل کے محافظوں نے دیکھا کہ وہ قیدی پہلے سے بہت بدل چکا ہے۔ اس کے اخلاق اچھے ہوگئے، وہ دوسرے قیدیوں کی مدد کرنے لگا اور ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتا رہتا تھا۔
جب اس کی سزا پوری ہوئی اور وہ جیل سے باہر نکلا تو اس نے جاتے وقت وہی جائے نماز جیل میں چھوڑ دی اور کہا:
“یہ میری زندگی بدلنے والی جگہ ہے۔ شاید کسی اور کا دل بھی اسی طرح بدل جائے۔”
✨ سبق:
نماز انسان کے دل کو سکون دیتی ہے اور مشکل حالات میں بھی اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس کہانی کو فیس بک پوسٹ، ویڈیو اسکرپٹ یا شارٹ ویڈیو اسٹوری کی شکل میں بھی لکھ سکتا ہوں۔