21/09/2026
حجرِ اسود خانۂ کعبہ کے مشرقی کونے میں نصب ایک نہایت مقدس اور بابرکت پتھر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خاص شرف اور عظمت عطا فرمائی، احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ حجرِ اسود جنت سے نازل کیا گیا اور ابتدا میں دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا لیکن بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا (جامع ترمذی)، رسول اللہ ﷺ نے خود حجرِ اسود کا استلام فرمایا اور اسے بوسہ دیا، اسی لیے طواف کے دوران حجرِ اسود کو بوسہ دینا یا ممکن نہ ہو تو اس کی طرف اشارہ کرنا سنت ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا (صحیح بخاری، صحیح مسلم)، اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان حجرِ اسود کی عبادت نہیں کرتے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم کرتے ہیں، روایت میں حجرِ اسود کے بارے میں یہ بھی آیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے آنکھیں اور زبان عطا فرمائے گا اور وہ ان لوگوں کے حق میں گواہی دے گا جنہوں نے اخلاص اور حق کے ساتھ اس کا استلام کیا ہوگا (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)، حجرِ اسود کا مقام اس لیے بھی عظیم ہے کہ طواف کا آغاز اور اختتام اسی کے سامنے سے کیا جاتا ہے، ہر چکر میں اس کا استلام سنت ہے بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف، دھکا یا نقصان نہ پہنچایا جائے، اگر بوسہ دینا ممکن نہ ہو تو دور سے اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرنا کافی ہے، حجرِ اسود ہمیں اطاعتِ الٰہی، اتباعِ سنت، عاجزی اور اللہ کے مقدس شعائر کی تعظیم کا درس دیتا ہے، لہٰذا جب کوئی مسلمان بیت اللہ کے سامنے حجرِ اسود کو دیکھے تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، رسول اللہ ﷺ کی محبت اور آخرت کی یاد تازہ ہونی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو بیت اللہ کی حاضری، طوافِ کعبہ اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق حجرِ اسود کے استلام کی سعادت نصیب فرمائے، آمین