31/03/2026
ایڈیسن بجلی کے سلسلے میں تجربات کر رہا تھا
اس نے سات سو مرتبہ تجربہ کیا اور سات سو مرتبہ ناکام ہوا، تین سال گزر گئے، اس کے شاگرد اور ساتھی سب تھک گئے، مگر ایڈیسن کو ذرا بھی تھکان نہ تھی
وہ ہر صبح لیبارٹری میں آ جاتا، نئے جوش کے ساتھ کام شروع کرتا اور رات بارہ بجے تک مسلسل محنت کرتا رہتا
ایک دن اس کے ساتھیوں نے کہا:
اب تو معاف کریں، تین سال ہو گئے، سات سو تجربوں میں ہم ناکام ہو چکے ہیں، اب اور کیا چاہیے؟
ہماری ناکامی تو یقینی ہو چکی ہے
ایڈیسن چونکا اور بولا:
ناکامی یقینی ہو گئی؟ ارے، تم پاگل ہو گئے ہو! ہماری تو کامیابی قریب آ رہی ہے
سات سو دروازے ہم کھٹکھٹا کر دیکھ چکے ہیں اور یہ جان چکے ہیں کہ کامیابی ان میں نہیں ہے اگر ایک ہزار دروازے ہیں تو اب صرف تین سو باقی رہ گئے ہیں، اور اگر سات سو ایک دروازے ہوں تو اب صرف ایک دروازہ باقی ہے
ہم ناکام نہیں ہوئے، ہم نے صرف یہ سیکھا ہے کہ کون سے راستے کامیابی تک نہیں جاتے
اس دنیا میں اصل ناکامی صرف کوشش چھوڑ دینا ہے، جو محنت کرتا رہتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا
اگر ایڈیسن ہار مان جاتا تو ہم آج بھی رات کو لالٹین یا دیا استعمال کرتے