25/05/2026
زندگی میں اس سے بڑا ظلم اج تک نہیں دیکھا
پشاور سے 10 سالہ لڑکی اغوا ہوتی ہے ماں گھر پہ نہیں ہوتی لڑکی کا باپ کراچی میں ہوتا ہے جب لڑکی کی ماں گھر پہ اتی ہے بچی گھر پہ نہیں ہوتی ماں محلے میں ڈھونڈتی رہتی ہے پر نہیں ملتی پھر ماں اپنے شوہر کو کال کرتی ہے اس کو گھر بلواتی ہے پھر دونوں پورے محلے میں پورے علاقے میں بچی کو ڈھونڈا جاتا ہے
لیکن بچی نہیں ملتی ایک دن ایک رات گزر جاتی ہے دوسرے دن کال اتی ہے اور اس میں ایک شخص کہتا ہے کہ ہم کچے کے ڈاکو ہیں آپ کی بیٹی ہمارے قبضے میں ہے اگر بیٹی زندہ چاہیے تو ہمیں 30 لاکھ روپے چاہیے ماں گڑگڑاتے ہوئے باپ گر گراتے ہوئے ان سے رو رو کر کہتے ہیں کہ ہم غریب ہیں ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کچھ پیسے کم کر دو ایسے کر دے کراتے 15 لاکھ روپے تک ڈیل ہو جاتی ہے اب وہ غریب جن کے گھر میں صرف دو ٹائم کھانا بنتا ہو تو ان کے پاس 15 لاکھ روپے کہاں سے اتے ماں باپ دونوں ادھر ادھر سے 15 لاکھ روپے کسی طرح جمع کرتے ہیں پھر دوبارہ جب اسی نمبر پہ کال اتی ہے
تو ان کو بتایا جاتا ہے کہ بیٹی کی ماں کو اکیلا انا پڑے گا اگر کوئی ہوشیاری کی تو بیٹی سے محروم ہو جاؤ گے اب ماں جو اپنی جان پر کھیل کر بیٹی کو بچانے کے لیے جب اپنی جان کی پرواہ کیے کچے کے علاقے میں جاتی ہے وہاں پر اس ماں کو ایک پیٹرول پمپ کہاں بتایا جاتا ہے کہ یہاں پر آپ ہمارا انتظار کریں ماں انتظار کرتی ہے کچھ وہاں پر ڈالے اتے ہیں پانچ چھ ماخوش ہو جاتی ہے وہاں پر دو گروپ ہوتے ہیں 15 لاکھ روپے ماہ سے لیے جاتے ہیں اور ماں کو دوسرے گروپ پہ بیچ دیا جاتا ہے ماں کو حراسہ کر کے چلے جاتے ہیں
ماں کے ہاتھ میں بیٹی نہیں اتی ماں کو لے جا کر اس کے ساتھ بے ہودہ حرکت کرتے ہیں ز ن ا کرتے ہیں ز ی اد تی کرتے ہیں ماں یہ سب کچھ سہ رہی ہوتی ہے صرف اپنی بیٹی کے لیے ماں کہتی ہے کہ مجھے اپنی بیٹی سے ملوا دو لیکن وہ درندے جو اپنے آپ کو انسان کہتے ہوں گے انہوں نے مسلسل اٹھ نو بار ماں کو ز یا دت ی کا نشانہ بناتے رہے ماں کی ہوشیاری یہ تھی کہ ماں نے اپنے شوہر کو لوکیشن دی تھی اور اپنے ہر جگہ کی لوکیشن شوہر کو بھیجتی رہی اب یہاں پر ظلم آپ دیکھیں بیٹی کو بچانے ائمہ خود یہاں پر پھنس گئی ڈاکو جنہوں نے پہلے اس کو زی ادت ی کا نشانہ بنایا پھر ان سے کہا کہ اگر بیٹی چاہیے تو 15 لاکھ روپے ہمیں دینے ہوں گے یعنی کہ 15 لاکھ پہلے دیے