10/05/2026
#کب تک صرف غریب ہی قربانی دے گا؟
آج ایک بار پھر آئی ایم ایف کی شرط مانی گئی اور پٹرولیم لیوی کا بوجھ غریب عوام کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئی ایم ایف کی تمام شرائط صرف عام آدمی کی زندگی تنگ کرنے کے لیے ہیں؟
#اشرافیہ کے لیے خاموشی کیوں؟
آئی ایم ایف حکومتی وزراء، بیوروکریٹس، ججوں اور جرنیلوں کی شاہانہ مراعات اور پروٹوکول ختم کرنے کی شرط کیوں نہیں رکھتا؟
#عیش و عشرت کا بوجھ عوام پر کیوں؟
سرکاری محکموں کے افسران اور اراکینِ حکومت جو کروڑوں روپے کی لگژری گاڑیوں میں مفت پٹرول اڑاتے ہیں، ان پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟
#دوہرا معیار:
ایک طرف غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا محال کر دیا گیا ہے، اور دوسری طرف مراعات یافتہ طبقے کے ٹھاٹھ باٹھ میں کوئی کمی نہیں آئی۔
آئی ایم ایف کے ہر معاہدے کی قیمت صرف غریب کی جیب سے کیوں ادا کی جاتی ہے؟ اگر ملک بچانا ہے تو شروعات ان کے بنگلوں اور گاڑیوں سے کریں جو اس نظام کو چلا رہے ہیں، نہ کہ ان کے چولہوں سے جو پہلے ہی بجھ چکے ہیں۔
خدارا! اس ملک کے عوام پر رحم کریں۔