30/05/2026
بیس سال بعد مرکز میں ایک جمعہ
زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام دنوں جیسے نہیں ہوتے۔ وہ خاموشی سے آتے ہیں مگر اپنے ساتھ بہت سی یادیں، احساسات اور پرانی تصویریں واپس لے آتے ہیں۔ اس جمعہ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ تقریباً بیس سال بعد مرکز میں جمعہ ادا کرنے کا موقع ملا۔ مسجد میں داخل ہوا تو پہلا احساس یہی تھا کہ بہت کچھ بدل گیا ہے، مگر کچھ چیزیں آج بھی ویسی ہی ہیں۔ لوگوں کی آمد، صفوں کی ترتیب، اور وہی روحانی ماحول جو دل کو ایک سکون دیتا ہے۔ مسجد میں غیر معمولی رش تھا۔ ہر طرف لوگ موجود تھے اور سب کی توجہ ایک ہی طرف تھی۔ ہر شخص مولانا محمد معا و یہ ا ع ظ م کے قریب جانے، ان کی بات سننے اور چند لمحے ان سے ملنے کی خواہش رکھتا تھا۔ یہ ایک سادہ سا منظر تھا، مگر اس میں لوگوں کی وابستگی واضح نظر آ رہی تھی۔ خطاب کے دوران ایک خاص خاموشی تھی۔ لوگ توجہ سے سن رہے تھے۔ نہ شور تھا، نہ بے چینی۔ صرف ایک سنجیدگی تھی جو ماحول پر غالب تھی۔ چہروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ لوگ بات کو سن بھی رہے ہیں اور سمجھ بھی رہے ہیں۔ نماز کے بعد لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے۔ کوئی مصافحہ کر رہا تھا، کوئی دعا کے لیے کہہ رہا تھا، اور کوئی مختصر ملاقات کی کوشش میں تھا۔ یہ سب ایک عام سا منظر تھا، مگر اس میں لوگوں کی محبت اور اعتماد صاف نظر آ رہا تھا۔ اس موقع پر ذہن ماضی کی طرف چلا گیا۔ وہ وقت یاد آیا جب ہم بھی مختلف اجتماعات اور اسفار میں شریک ہوتے تھے۔ اس وقت لوگوں کے اپنے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات زیادہ قریب اور سادہ ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ بہت سی چیزیں بدل گئیں، مگر لوگوں کے جذبات آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اسی ماحول میں ابنِ اع_ظم ط_ارق کے گرد لوگوں کا ہجوم دیکھ کر یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ کچھ شخصیات لوگوں کے دلوں میں ایک خاص جگہ بنا لیتی ہیں۔ لوگ ان سے امیدیں بھی رکھتے ہیں اور ان کی موجودگی کو ایک طرح کا حوصلہ بھی سمجھتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک سنجیدگی نظر آتی ہے۔ بات کرنے کا انداز نپا تلا ہے اور معاملات کو دیکھنے کا طریقہ متوازن محسوس ہوتا ہے۔ شاید یہی چیز ہے جو لوگوں کو ان کے قریب لے آتی ہے۔ بیس سال بعد اس ماحول میں واپس آ کر ایک عجیب سا احساس تھا۔ جیسے وقت نے ایک لمحے کے لیے روک کر ماضی اور حال کو ایک ساتھ دکھا دیا ہو۔ دل میں ایک خاموش سی خوشی تھی کہ تعلقات اور احساسات اتنے عرصے بعد بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔
آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ( مولانا م ع ا و یہ ا ع ظ ن) انہیں دین، ملک اور عوام کی خدمت کے لیے مزید توفیق دے اور ہر اچھے کام میں برکت ڈالے۔ آمین۔
شیخ امین
سابق منیجر نیشنل بینک پاکستان