Afzaal Ahmed official

Afzaal Ahmed official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Afzaal Ahmed official, Digital creator, Ahmed pur sial district jhang, Jhang.

میں ہوں افضال احمد…
مٹی سے جڑا ایک سادہ انسان
جو دیہاتی زندگی، قدرت کے رنگ، اور دل کی باتیں آپ سے بانٹتا ہے
فالو کیجیے، اور ہمارے ساتھ اس خوبصورت سفر کا حصہ بنیں۔

‏ننگے پاؤں درخت کو چھونا  ایک تجربہ جو صرف 15 منٹ میں آپ کی زندگی بدل سکتا ہے کیا آپ نے کبھی ننگے پاؤں زمین پر چل کر کسی...
01/11/2025

‏ننگے پاؤں درخت کو چھونا ایک تجربہ جو صرف 15 منٹ میں آپ کی زندگی بدل سکتا ہے
کیا آپ نے کبھی ننگے پاؤں زمین پر چل کر کسی درخت کے تنے کو چھوا ہے؟
اگر نہیں، تو شاید آپ نے فطرت کی سب سے گہری طاقت کو ابھی تک محسوس ہی نہیں کیا۔
یہ محض ایک روحانی تجربہ نہیں — بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ درختوں اور زمین سے براہِ راست رابطہ انسان کے جسم، دماغ اور روح پر حیرت انگیز اثرات ڈالتا ہے۔
جب آپ ننگے پاؤں کسی درخت کے نیچے کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کا جسم زمین کی قدرتی توانائی (Earth Energy) کو جذب کرتا ہے۔ یہ وہی توانائی ہے جو صدیوں سے انسان، جانور اور پودوں کے درمیان زندگی کا توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن دیتے ہیں بلکہ وہ ہماری منفی توانائی، ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی جذب کر لیتے ہیں — جیسے کوئی قریبی دوست ہمارے دکھ سن کر بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔
درخت کو چھونے کا عمل صرف جسمانی رابطہ نہیں بلکہ ایک روحانی گفتگو ہے۔
جب آپ اپنی ہتھیلیاں درخت کے کھردرے تنے پر رکھتے ہیں، تو آپ اس کی دھڑکن کو محسوس کر سکتے ہیں — ایک خاموش مگر جاندار دھڑکن جو زمین کے اندر سے آتی ہے۔
یہ دھڑکن آپ کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے، اور چند منٹوں میں آپ کے اندر ایک غیر معمولی سکون، شکرگزاری اور جینے کی نئی لہر دوڑنے لگتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق، ننگے پاؤں زمین سے جڑنے (Earthing) سے جسم میں Cortisol کی سطح کم ہوتی ہے، دل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے، نیند بہتر ہوتی ہے، اور انسان کا موڈ حیرت انگیز طور پر خوشگوار بن جاتا ہے۔
اور جب آپ کسی درخت کے ساتھ یہ لمحہ گزارتے ہیں، تو آپ فطرت کے ساتھ وہ بندھن دوبارہ جوڑ لیتے ہیں جو جدید زندگی کی مصروفیات نے توڑ دیا ہے۔
انسان اور درخت کا رشتہ صدیوں پرانا ہے۔
درخت نے ہمیشہ ہمیں سایہ، آکسیجن، لکڑی، پھل اور دوائیں دیں — مگر آج کے انسان نے فطرت سے اپنا رشتہ کمزور کر لیا ہے۔
ہم اینٹوں کے شہروں میں قید ہیں، مصنوعی ہوا میں سانس لیتے ہیں، اور اپنی روح کو اس قدرتی سکون سے محروم کر بیٹھے ہیں جو درخت ہمیں بلا شرط دیتے ہیں۔
اگر آپ روز صرف 15 منٹ ننگے پاؤں درخت کے ساتھ گزاریں تو یقین کیجیے، آپ کا جسم ہلکا، ذہن پرسکون، اور دل شکر سے لبریز ہو جائے گا۔
درخت کو گلے لگائیے، اس سے بات کیجیے، اور محسوس کیجیے کہ یہ فطرت آپ سے کتنی محبت کرتی ہے۔
درخت صرف زمین کے پودے نہیں، بلکہ انسان کے دل کے مرہم ہیں۔

01/11/2025

Would you stay calm or run? 😅
Nature’s beauty and power — up close!

01/11/2025

شکر گزار رہیں
خوش رہیں

اپنے کردار کو ہمیشہ خوبصورت بناؤ، کیونکہ تم سے تمہارا کردار مانگا جائے گا، تمہاری شکل نہیں #道    #مانگا      #موسٰی  #بح...
25/10/2025

اپنے کردار کو ہمیشہ خوبصورت بناؤ، کیونکہ تم سے تمہارا کردار مانگا جائے گا، تمہاری شکل نہیں

#道 #مانگا #موسٰی #بحریہ #تندور #جنگ #حلف #مارج #شہید #کربن #حکومت #واقعہ #افغانستان #طالبان #گولی #نومبر #کابل #وذقع

25/10/2025

وادی تیراہ میں کرکٹ میچ کے دوران طالبان کے جنگجو آئے اور قبائلیوں کو یہ دھمکی دی کہ اگر کوئی فوج کو اطلاع دے گا تو اسے مار دیا جائے گا؛ ان کا کہنا تھا کہ وہ پختونوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔
゚viralシfypシ゚viralシal

بے شک اللہ رحم کرنے والا ہے
25/10/2025

بے شک اللہ رحم کرنے والا ہے

السلام علیکم دوستو! یہ میرا نیا پیج ہے اور میں آپ کے ساتھ اپنی سادہ زندگی کے لمحے، حوصلہ افزائی اور اسلامی پیغامات شیئر ...
24/10/2025

السلام علیکم دوستو! یہ میرا نیا پیج ہے اور میں آپ کے ساتھ اپنی سادہ زندگی کے لمحے، حوصلہ افزائی اور اسلامی پیغامات شیئر کروں گا۔ براہِ مہربانی سپورٹ کریں، فالو کریں اور دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ ہر دن چھوٹی چھوٹی نعمتوں کے لیے شکر ادا کریں۔ ❤️

22/10/2025
09/07/2025

"خوددار عورت… لاوارث میت"
از قلم: لقمان اختر

سناٹے سے گونجتا کمرہ، بند دروازے کے پیچھے مہینوں سے خاموش پڑی لاش، اور آس پاس نہ کوئی آنکھ اشک بار، نہ کوئی ماتم، نہ کوئی دعا۔ بس دیواریں تھیں، جو چیخ چیخ کر اس عورت کی تنہائی کی گواہ تھیں، جو کبھی اپنی خودمختاری پر نازاں تھی، جس نے رشتوں کے ریشمی بندھنوں کو آزادی کی زنجیر سمجھ کر توڑ دیا، جو فیمینزم کے افیون سے مدہوش ہو کر اپنے خاندان، بھائی، باپ، اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے بھی روٹھ گئی تھی۔

"اداکارہ حمیرا اصغر" ایک خوبصورت چہرہ، ایک آزاد "عورت، ایک مشہور نام" لیکن کیا واقعی وہ کامیاب تھی؟
پولیس اہلکار جب اس کے بھائی کو فون کرتا ہے تو جواب ملتا ہے:
"اس کے والد سے بات کریں"
اور جب والد کو فون کیا جاتا ہے تو ایک باپ کی زبان سے نکلتا ہے:
"ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، ہم بہت پہلے اس سے ناطہ توڑ چکے، لاش ہے تو جیسے چاہو دفناؤ"
فون بند ہو جاتا ہے، مگر سوال کھلا رہ جاتا ہے کہ وہ کون سی زندگی تھی جو باپ کے دل کو اتنا سخت کر گئی؟ وہ کون سا راستہ تھا جو بھائی کی غیرت کو خاموش کرا گیا؟ وہ کون سی سوچ تھی جس نے ایک جیتے جاگتے وجود کو مہینوں لاش بنا کر سڑنے کے لیے چھوڑ دیا؟

یہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ فیمینزم کی وہ بھیانک تصویر ہے، جو اشتہارات میں خوشنما، تقاریر میں متاثرکن، اور سوشل میڈیا پر انقلابی لگتی ہے، مگر اندر سے کھوکھلی، تنہا اور اندھیرے سے لبریز ہوتی ہے۔
فیمینزم کا آغاز عورت کے حقوق سے ہوا، مگر انجام اس کی تنہائی پر ہو رہا ہے۔
فیمینزم نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے مقدس رشتوں سے نکال کر صرف "خود" بنا دیا اور یہی "خود" آخرکار اُسے اکیلا کر گیا۔

خاندان کا ادارہ، جسے صدیوں کی تہذیب نے پروان چڑھایا، جس میں قربانیاں، محبتیں، ناراضگیاں، مان، اور رشتہ داریوں کی حرارت موجود تھی، اسے آج کی عورت نے "زنجیر" سمجھ کر کاٹ دیا۔ اور جب وقت کی تیز دھوپ نے جلایا، تو کوئی سایہ دار درخت ساتھ نہ تھا۔
فیس بک کی دوستیں، انسٹاگرام کے فالورز، ٹوئٹر کی آزادی کے نعرے, سب خاموش تھے۔
باپ کا دروازہ بند تھا، بھائی کا دل پتھر ہو چکا تھا، اور ماں شاید برسوں پہلے رو رو کر مر چکی تھی۔

عجیب معاشرہ ہے یہ بھی، جہاں اگر بیٹی نافرمان ہو تو باپ ظالم کہلاتا ہے، اور اگر باپ لاتعلق ہو جائے تو بیٹی کی خودمختاری کا جشن منایا جاتا ہے۔
عورت جب گھر سے نکلے، تو "طاقتور" کہلاتی ہے،
جب طلاق لے، تو "باہمت" بن جاتی ہے،
جب رشتے توڑے، تو "بغاوت" نہیں بلکہ "خود شعوری" قرار پاتی ہے۔
اور جب مر جائے، تنہا، بوسیدہ لاش کی صورت،
تو سارا معاشرہ خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔

کاش حمیرا اصغر نے جانا ہوتا کہ فیمینزم، ماں کی گود جیسا تحفظ نہیں دے سکتا۔
کاش وہ سمجھ پاتی کہ باپ کی ڈانٹ، محبت کی ایک گونج ہوتی ہے، اور بھائی کی غیرت، عزت کی چادر ہوتی ہے۔
کاش وہ جان پاتی کہ مرد دشمنی کا نام عورت دوستی نہیں، بلکہ یہ فکری گمراہی ہے جو عورت کو اس کے رب، اس کے دین، اور اس کی فطرت سے کاٹ دیتی ہے۔

عورت مضبوط ضرور ہو، خودمختار بھی ہو، لیکن وہ اپنے اصل سے جُڑی رہے,
وہ ماں کا پیار، باپ کی شفقت، بھائی کی غیرت، اور شوہر کی رفاقت کو بوجھ نہ سمجھے۔
ورنہ فیمینزم کی راہ میں جو منزل ہے، وہ تنہائی، بے رُخی، اور بے گور و کفن لاش ہے۔

حمیرا اصغر چلی گئی,
لیکن فیمینزم کی دُھند میں گُم اور کتنی بیٹیاں ایسی ہی گم ہو رہی ہیں,
بس ہمیں تب ہوش آتا ہے،
جب تعفن زدہ لاش دیواروں سے سوال کرنے لگتی ہے۔۔۔
"آزادی چاہیے تھی نا؟ لے لو… مگر اب میرے پاس کوئی نہیں!"💔💔💔

فاعتبروا.........

Address

Ahmed Pur Sial District Jhang
Jhang

Telephone

+923023796028

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Afzaal Ahmed official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share