11/03/2025
۱۰ رمضان المبارک، ۱۰ سالِ بعثت – یومِ وصالِ ام المؤمنین
وہ جو صدیقۂ اولیٰ کہلائیں، وہ جو طاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں، وہ جو کائناتِ نسواں کی عظیم ترین ہستیوں میں شمار ہوئیں۔ حضرت سیدہ خدیجۃُ الکبرٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی حیاتِ طیبہ کا ہر لمحہ نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ قلب، دینِ اسلام کی نصرت اور حق کی سر بلندی میں بسر کیا۔ مال و متاع، راحت و آرام، سب کچھ راہِ خدا میں قربان کر دیا۔ شعبِ ابی طالب کی سختیوں میں صبر و استقامت کا مینار، تبلیغِ اسلام کے ہر مرحلے میں محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غم گسار، اور سب سے پہلے نورِ اسلام کو قبول کرنے والی عظیم المرتبت ہستی۔ آج یومِ وصال پر، سرِ عقیدت خم ہے اور قلب دعاگو کہ اللهم اغفر لها، وارفع درجتها في الفردوس الأعلى۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّٰتٍۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا۟ مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍۢ رِّزْقًۭا ۙ قَالُوا۟ هَٰذَا ٱلَّذِى رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُوا۟ بِهِۦ مُتَشَٰبِهًۭا ۖ وَلَهُمْ فِيهَآ أَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ وَهُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ” (البقرہ: 25)
ترجمہ:
“اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے لیے باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ جب بھی انہیں وہاں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے: یہی تو وہ ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا۔ اور انہیں ملتے جلتے (نعمتیں) دی جائیں گی، اور ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
“سب عورتوں پر خدیجہ کو فضیلت حاصل ہے، جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو” (بخاری: 5417).