11/11/2025
*جب ہر کوئی صحافی بن گیا*
تعلیم کے بغیر صحافت کا نیا تماشا
*✍️ تحریر: راجہ عبد الرحمٰن*
آج صحافت اپنے عروج پر نہیں، بلکہ بحران کے نچلے درجے پر کھڑی ہے۔
سوشل میڈیا کے زمانے نے خبر کو عام ضرور کر دیا ہے، لیکن افسوس کہ صحافت کو عامیانہ بنا دیا ہے۔
اب ہر دوسرا شخص ہاتھ میں موبائل پکڑتا ہے، مائیک پر کوئی سا لوگو چپکاتا ہے، اور خود کو “پریس رپورٹر” یا “سینئر جرنلسٹ” کہنا شروع کر دیتا ہے۔
نہ تعلیم، نہ تربیت، نہ تحقیق — بس بولنے کا ہنر آ جائے تو بس، “صحافت” مکمل!
یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟
کیا واقعی صحافت اتنی آسان ہو گئی ہے؟
کیا یہ پیشہ صرف بولنے یا کیمرے کے سامنے آنے کا نام رہ گیا ہے؟
اگر ایسا ہی ہے، تو پھر وہ نوجوان جو سالوں تک یونیورسٹیوں میں صحافت پڑھتے ہیں،
Mass Communication کی ڈگریاں لیتے ہیں، ان کی تعلیم کا کیا فائدہ رہ گیا ہے؟
🎯 میڈیا اداروں کی غفلت — کارڈ بانٹنے کا کاروبار
آج میڈیا ادارے خود بھی اس بگاڑ کے ذمہ دار ہیں۔
جس کے پاس کوئی تعلق ہو، یا جو دو بول اچھے بول لے،
اُسے فوراً مائیک پکڑا دیا جاتا ہے۔
کئی نام نہاد چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم تو اب پریس کارڈ بانٹنے والی دکانیں بن چکے ہیں۔
نہ کسی سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے صحافت پڑھی ہے یا نہیں،
نہ اس کی خبر دینے کی قابلیت دیکھی جاتی ہے۔
بس جو بول سکتا ہے، وہی “اینکر” ہے؛
جو ویڈیو بنا سکتا ہے، وہی “رپورٹر” ہے؛
اور جو سب سے زیادہ جھوٹ بول سکتا ہے — وہی “Breaking News” والا ہے!
یہی وجہ ہے کہ آج اصلی صحافیوں کی شناخت مٹ رہی ہے۔
پڑھے لکھے نوجوان بیروزگار ہیں،
اور ان پڑھ “یوٹیوب رپورٹرز” فالوورز کے نشے میں جھوٹ بیچ رہے ہیں۔
⚖️ تعلیم ہر پیشے کے لیے ضروری — مگر صحافت کیوں نہیں؟
ایک ڈاکٹر بننے کے لیے MBBS پڑھنا لازمی ہے،
ایک انجینئر بننے کے لیے انجینئرنگ ڈگری ضروری ہے،
ایک وکیل بننے کے لیے LLB اور بار کونسل کی ممبرشپ درکار ہے۔
لیکن صحافی بننے کے لیے؟
نہ کوئی معیار، نہ کوئی قانون، نہ کوئی لائسنس!
کیا قوم کے ذہنوں پر اثر ڈالنے والا شخص بغیر تعلیم کے ہونا چاہیے؟
کیا وہ شخص جو عوام کے شعور کو سمت دیتا ہے،
اسے علم، تربیت اور ذمہ داری سے آزاد ہونا چاہیے؟
یہ وہ سوال ہے جس پر معاشرہ آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا — آزادی یا بدنظمی؟
ڈیجیٹل میڈیا نے بلاشبہ آواز کو عوام تک پہنچایا،
لیکن اس نے صحافت کو “ریٹنگ” کے شکنجے میں بھی کس دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر روز سینکڑوں نئے “نیوز یوٹیوب چینلز” بنتے ہیں۔
ان میں سے 70 فیصد سے زیادہ چینلز ایسے افراد چلا رہے ہیں جن کا صحافت سے کوئی تعلیمی تعلق نہیں۔
جھوٹی خبریں، سنسنی خیزی، بغیر تصدیق کے رپورٹس — یہ اب معمول بن چکا ہے۔
خبر کی جگہ “کلیک بیٹ” نے لے لی ہے،
اور سچ کی جگہ “ویوز” نے۔
ایسا لگتا ہے جیسے صحافت اب “پروفیشن” نہیں رہی، بلکہ “کنٹنٹ مارکیٹنگ” کا حصہ بن چکی ہے۔
🧠 علم اور اخلاقیات — صحافت کی بنیاد
صحافت کا اصل مقصد عوام کو آگاہ کرنا، تربیت دینا، اور سچ سامنے لانا ہے۔
لیکن افسوس! آج کے بیشتر “ڈیجیٹل رپورٹرز” کے لیے یہ الفاظ بے معنی ہو چکے ہیں۔
انہیں صرف ٹرینڈنگ ویڈیو چاہیے،
چاہے کسی کی عزت برباد کر کے ہی کیوں نہ ہو۔
انہیں صرف views چاہیے،
چاہے سچ قربان ہی کیوں نہ ہو جائے۔
لیکن یاد رکھو —
بولنے والا ہر شخص صحافی نہیں ہوتا،
اور ویڈیو بنانے والا ہر بندہ رپورٹر نہیں بن جاتا۔
صحافت علم مانگتی ہے، اخلاقیات مانگتی ہے، اور دیانتداری مانگتی ہے۔
اگر تعلیم کے بغیر صحافت ممکن ہے،
تو پھر باقی پیشے کیوں تعلیم مانگتے ہیں؟
اگر سچ کہنے کے لیے علم ضروری نہیں،
تو پھر یونیورسٹیاں کیوں Mass Communication پڑھا رہی ہیں؟
نہیں!
یہ سوچ غلط ہے۔
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے —
اور اسے وہی سنبھال سکتا ہے جو علم رکھتا ہو، اخلاق رکھتا ہو، اور ضمیر زندہ رکھتا ہو۔
میری آج کی پکار ان تمام “نام نہاد صحافیوں” کے نام ہے:
خدارا! اگر تم نے صحافت نہیں پڑھی، تو کم از کم اس کی عزت ضرور کرو۔
کیونکہ یہ مائیک، یہ کیمرہ، یہ لفظ — عوام کی امانت ہیں۔
ان سے کھیلنا سب سے بڑی بددیانتی ہے.
> “صحافت علم ہے، تماشا نہیں۔
جو پڑھے بغیر اس میدان میں آتا ہے،
وہ سچ نہیں، صرف شور پھیلاتا ہے۔”