30/09/2025
خدمتِ انسانیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
ہمارا دین اسلام صرف عبادات کا نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا بھی دین ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
“اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور ہمسایوں کے ساتھ بھلائی کرو” (النساء:36)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بندگی کا اصل تقاضا انسانیت کی خدمت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: “سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع مند ہو” (المعجم الاوسط)۔ ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص کسی مومن کی دنیاوی مشکل آسان کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی مشکل آسان کرے گا” (صحیح مسلم)۔ ان ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدمتِ انسانیت نہ صرف اخلاقی خوبی بلکہ اخروی نجات کا ذریعہ بھی ہے۔
آج کے معاشرتی حالات میں بھوک، غربت اور ناانصافی ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہر فرد اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے غریبوں کی مدد، بیماروں کی عیادت اور یتیموں کی کفالت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو معاشرہ ظلمت سے نکل کر روشنی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
خدمتِ انسانیت دراصل ایمان کا حسن ہے۔ یہی عمل اللہ کی رضا، دنیا کا سکون اور آخرت کی کامیابی عطا کرتا ہے۔ یہی اسلام کا اصل پیغام ہے جسے زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے
تحریر۔۔جہانگیر عالم۔