06/05/2026
سکھر کی ایک عدالت میں کھڑی وہ نوجوان لڑکی، گلاں بھارو، آج بھی بہت سے دلوں میں ایک سوال بن کر زندہ ہے۔ چند دن پہلے اس نے سب کے سامنے دھیمی مگر پُر یقین آواز میں کہا تھا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف بھی تھا اور عجیب سی تسلیم بھی۔ اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اپنی عزت کا واسطہ دے کر اسے ساتھ چلنے کو کہا ہے، اور وہ ان کی بات ٹال نہیں سکتی۔ شاید اس لمحے اس نے اپنی خواہشات سے زیادہ اپنے خاندان کے احساسات کو اہم سمجھ لیا تھا۔
عدالت سے واپسی کے بعد وہ اپنے گھر چلی گئی۔ ایک ہفتہ گزرا… اور پھر وہ خبر آئی جس نے سب کو خاموش کر دیا۔ گلاں بھارو اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ اسے ایک ایسے الزام کی بنیاد پر زندگی سے محروم کر دیا گیا، جو ہمارے معاشرے میں برسوں سے بحث کا موضوع ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ایک بڑے مسئلے کی عکاسی ہے—وہ روایات اور دباؤ، جو بعض اوقات انسان کی اپنی زندگی پر اس کے حق کو بھی کمزور کر دیتے ہیں۔ گلاں بھارو کو خطرہ محسوس ہو رہا تھا، مگر اس نے رشتوں اور سماجی توقعات کے بوجھ تلے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کا انجام انتہائی دردناک نکلا۔
یہ سانحہ ایک بار پھر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے: کیا عزت کا مطلب واقعی کسی کی زندگی سے بڑھ کر ہو سکتا ہے؟ اور کب ہم وہ وقت دیکھیں گے جب ہر فرد کو اپنی حفاظت اور آزادی کا حق بلاخوف حاصل ہوگا؟
گلاں بھارو کی کہانی ختم ہو گئی، مگر اس کا سوال اب بھی باقی ہے… اور شاید اس کا جواب دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔