16/08/2026
6 مئی 2013 کی صبح کلیولینڈ کے ایک گھر سے امینڈا بیری نے پڑوسیوں کو دیکھ کر مدد کے لیے چیخنا شروع کردیا۔ اسے اغوا ہوئے دس سال گزر چکے تھے۔ اس روز اغواکار ایریل کاسٹرو باہر جاتے ہوئے اندرونی دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا، مگر باہر کا دروازہ اب بھی مقفل تھا۔ امینڈا کو خدشہ تھا کہ شاید یہ بھی کاسٹرو کا امتحان ہو، کیونکہ وہ پہلے جان بوجھ کر راستے کھلے چھوڑ دیتا اور فرار کی کوشش کرنے پر خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔
چیخیں سن کر پڑوسی چارلس ریمزی وہاں پہنچے۔ دروازہ کھولنا ممکن نہ ہوا تو چارلس اور امینڈا نے مل کر اس کے نچلے المونیم والے حصے کو لاتیں مار کر توڑ دیا۔ امینڈا اپنی چھ سالہ بیٹی کو ساتھ لے کر اسی سوراخ سے باہر نکلی۔ یہ بچی قید کے دوران پیدا ہوئی تھی اور اس نے گھر سے باہر کی آزاد دنیا کبھی نہیں دیکھی تھی۔ امینڈا نے پڑوسی کے گھر سے پولیس کو فون کرکے کہا: “میں امینڈا بیری ہوں، مجھے اغوا کیا گیا تھا، میں دس سال سے لاپتا ہوں اور اب آزاد ہوں۔”
اس ایک فون کال نے کلیولینڈ کی تین پرانی گمشدگیوں کا راز کھول دیا۔ ایریل کاسٹرو، جو ایک اسکول بس ڈرائیور تھا، 21 سالہ مشیل نائٹ کو اگست 2002، سولہ سالہ امینڈا بیری کو اپریل 2003 اور چودہ سالہ جینا ڈی جیسس کو اپریل 2004 میں سواری دینے کے بہانے اپنے گھر لایا تھا۔ جینا اسے اس لیے جانتی اور اس پر اعتماد کرتی تھی کیونکہ وہ کاسٹرو کی بیٹی کی دوست تھی۔ حیران کن طور پر کاسٹرو بعد میں جینا کی تلاش کے لیے ہونے والی تقریبات میں بھی شریک ہوتا اور خاندان کے قریب جانے کی کوشش کرتا رہا۔
تینوں خواتین کو 2207 سیمور ایونیو کے اسی گھر میں نو سے گیارہ سال تک قید رکھا گیا۔ کھڑکیوں پر لکڑی لگا کر سورج کی روشنی بند کردی گئی، کمروں کو باہر سے مقفل رکھا جاتا، انہیں زنجیروں سے باندھا جاتا، دن میں صرف ایک مرتبہ کھانا دیا جاتا اور ہفتے میں زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ نہانے کی اجازت ملتی۔ وہ مسلسل جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد برداشت کرتی رہیں۔ مشیل نائٹ کے حمل متعدد مرتبہ تشدد کے ذریعے ضائع کیے گئے۔ دسمبر 2006 میں امینڈا نے اسی گھر میں ایک چھوٹے سے پلاسٹک کے تالاب میں بیٹی کو جنم دیا۔ کاسٹرو نے مشیل کو زچگی میں مدد کرنے پر مجبور کیا اور دھمکی دی کہ اگر بچی زندہ نہ رہی تو اسے قتل کردے گا۔ پیدائش کے بعد بچی کی سانس رک گئی، مگر مشیل نے کوشش کرکے اسے دوبارہ سانس دلائی۔
امینڈا کے فرار کے بعد پولیس اہلکار اسلحہ لیے گھر کی بالائی منزل پر پہنچے۔ مشیل نائٹ ایک کمرے سے نکل کر پولیس افسر کی بانہوں میں کود گئی اور بار بار کہنے لگی: “آپ نے مجھے بچا لیا۔” کچھ ہی دیر بعد جینا ڈی جیسس بھی دوسرے کمرے سے باہر آگئی۔ تینوں خواتین اور چھ سالہ بچی کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ سب سے دردناک حقیقت یہ تھی کہ امینڈا کی والدہ برسوں تک بیٹی کو تلاش کرتی رہیں، مگر 2006 میں یہ جانے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئیں کہ ان کی بیٹی زندہ اور صرف چند میل دور قید تھی۔
ایریل کاسٹرو کو چند گھنٹوں بعد گرفتار کرلیا گیا۔ اس نے اغوا، زیادتی اور قتلِ عمد سمیت 937 جرائم کا اعتراف کیا اور اسے پیرول کے کسی امکان کے بغیر عمر قید کے ساتھ مزید ایک ہزار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ قید کا وہ گھر عدالتی معاہدے کے تحت منہدم کردیا گیا، جبکہ کاسٹرو نے سزا شروع ہونے کے صرف ایک ماہ بعد جیل میں خودکشی کرلی۔ دس سال تک بند دروازوں کے پیچھے چھپی یہ حقیقت امینڈا کی جرات، اس کی چیخ سن کر رکنے والے پڑوسیوں اور چارلس ریمزی کے دروازہ توڑنے سے دنیا کے سامنے آئی—اور تین خواتین سمیت قید میں پیدا ہونے والی چھ سالہ بچی کو آزادی مل گئی۔