12/08/2026
🚨 **میر رضا علی قتل کیس میں بڑا فیصلہ، عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان!**
کراچی کے 25 سالہ نوجوان کاروباری شخصیت **میر رضا علی** کے قتل کیس میں سندھ حکومت نے **سندھ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات** کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
میر رضا 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز گلستانِ جوہر میں ان کی لاش ملی تھی۔ ابتدائی طور پر کیس میں خودکشی کا امکان زیرِ غور تھا، تاہم **دوسرے پوسٹ مارٹم** میں سامنے آنے والی تفصیلات کے بعد خودکشی کا امکان مسترد کرتے ہوئے مقدمے میں **قتل کی دفعہ 302** بھی شامل کر دی گئی ہے۔
⚖️ **کیس میں اہم پیش رفت:**
🔹 سندھ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا
🔹 تحقیقات کے لیے نئی **5 رکنی پولیس ٹیم** بنا دی گئی
🔹 تحقیقات کی سربراہی **ڈی آئی جی امیر فاروقی** کریں گے
🔹 کیس کی تفتیش اب **زمان ٹاؤن تھانے** کے سپرد کر دی گئی
🔹 شاہراہِ فیصل کے SDPO اور گلستانِ جوہر کے SHO کو معطل کر دیا گیا
🔹 افسران پر جائے وقوعہ محفوظ نہ رکھنے اور مناسب کرائم سین انویسٹی گیشن نہ کرنے کا الزام ہے
🔹 مقدمے میں قتل اور شواہد چھپانے سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئی ہیں
دوسرے پوسٹ مارٹم کے مطابق جسم پر متعدد زخم پائے گئے اور **پیٹھ پر گولی کا زخم** موجود تھا جو سامنے کی جانب سے باہر نکلی۔ مزید فرانزک اور لیبارٹری رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
میر رضا کے اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ انہیں اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، جبکہ اب حکومت نے **شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات** کی یقین دہانی کرائی ہے۔
⚠️ **اب اصل سوال یہ ہے: میر رضا علی کے ساتھ اصل میں کیا ہوا اور اس افسوسناک واقعے کے ذمہ دار کون ہیں؟**
💬 کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتی تحقیقات سے اس کیس کے تمام حقائق سامنے آ سکیں گے؟