knowledge is power

knowledge is power According to Islamic information post and video all the special information of the world

04/04/2023

Jhhote Peer aur beparda peeron ki operation @/ page ko like aur share aur follow Karen Taky aapko Har Tarah Ki videos aapko mil sake

03/04/2023

حضرت محمدﷺ کے شان مے کچھ بچپن کی واقعات
is post ko zyada Se zyada share Karen aur like follow krein

01/04/2023
01/04/2023

ایک بھڑا شخص کا واقعات

01/04/2023

*10 رمضان المبارک*
*یومِ وصال*

*حضرت ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا*
*نام ونسب:*
اسمِ گرامی:ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ۔کنیت:امِ ہند ۔لقب:طاہرہ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:خدیجہ بنتِ خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی ۔ سیدہ کا نسب حضور ﷺ سے قصی پرمل جاتا ہے۔ آپکی والدہ فاطمہ بنتِ زائدہ بن الاصم بنی عامر بن لوی سے تھیں ۔

*تاریخِ ولادت: *
آپ رضی اللہ عنہاشرافت ،امانت ،ایفائے عہد ،سخاوت،غریب پروری ، فراخ دلی اورعفت و حیاجیسی اعلیٰ صفات اور خوبیوں کے ساتھ واقعہ فیل سے 15 سال پہلے بمطابق 555ءاس دنیا میں تشریف لائیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ خوبیاں آپ کی طبیعت کا لازمی جز بن گئیں اور پورے عرب میں آپ کی اعلیٰ خوبیوں کا چرچا ہونے لگا۔

*اسلام کی خاتونِ اول اورنبی اکرم ﷺ کی زوجہٴ اول:*
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں،بلکہ سب سے پہلے ایمان لانے والی اورنبی مکرم صلی الله علیہ وسلم کی پہلی بیوی تھیں ۔دوسرے الفاظ میں آپ اسلام کی بھی خاتونِ اول تھیں اور نبی مکرم ﷺ کی بھی۔شادی کے بعدحضرت خدیجہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ پچیس سال رہیں ان کی زندگی میں آپ ﷺ نے کسی عورت سے شادی نہیں کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:"لَمْ یَتَزَوج النبِیُ صلی الله علیہ وسلم عَلٰی خَدِیْجَةَ حَتٰی مَاتَتْ" نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، یہاں تک کہ آپ فوت ہوگئیں۔

*سیرت وخصائص: *
حضور سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں جن عورتوں کو زوجیت کا شرف حاصل ہو احق سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی نسبت کی بنا پر ان کو "امہات المؤمنین" فرمایا ہے۔ یعنی مومنوں کی مائیں ۔ اَلنبِیُ اَوْ لیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَا جُہٗ اُمھٰتُھُمَ ط(پ 21، احزاب :4) ترجمۂ کنز الایمان: یہ نبی کریم ﷺ ایمان والوں کی جانوں سے بھی زیادہ نزدیک ہیں اور ان کی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں۔
آپ رسول اﷲﷺکی سب سے پہلی بیوی اور رفیقہ حیات ہیں یہ خاندان قریش کی بہت ہی باوقار و ممتاز خاتون ہیں ۔ان کی شرافت اور پاک دامنی کی بنا پر تمام مکہ والے ان کو ''طاہرہ'' کے لقب سے پکارا کرتے تھے انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے اخلاق و عادات اور جمال صورت و کمال سیرت کو دیکھ کر خود ہی آپ سے نکاح کی رغبت ظاہر کی چنانچہ اشراف قریش کے مجمع میں باقاعدہ نکاح ہوا یہ رسول ﷺ کی بہت ہی جاں نثار اور وفا شعار بیوی ہیں اور حضور اقدس ﷺ کو ان سے بہت ہی بے پناہ محبت تھی چنانچہ جب تک یہ زندہ رہیں آپ ﷺ نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا اور یہ مسلسل پچیس سال تک محبوب خدا کی جاں نثاری و خدمت گزاری کے شرف سے سرفراز رہیں حضور علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی ان سے اس قدر محبت تھی کہ ان کی وفات کے بعد ﷺ اپنی محبوب ترین بیوی حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کرتے تھے کہ خدا کی قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شکم سے اﷲ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔ (شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ،حضرت خدیجہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا، ج۴،ص۳۶۳ والاستیعاب ،کتاب النساء ۳۳۴۷،خدیجہ بنت خویلد،ج۴،ص۳۷۹)۔

اس بات پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے حضورﷺکی نبوت پر یہی ایمان لائیں اور ابتداءِ اسلام میں جب کہ ہر طرف آپ ﷺ کی مخالفت کا طوفان اٹھا ہوا تھا ایسے خوف ناک اور کٹھن وقت میں صرف ایک حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہاکی ہی ذات تھی جو پروانوں کی طرح حضور ﷺ پر قربان ہورہی تھیں اور اتنے خطرناک اوقات میں جس استقلال و استقامت کے ساتھ انہوں نے خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اس خصوصیت میں تمام ازواج مطہرات پر ان کو ایک ممتاز فضیلت حاصل ہے۔
ان کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی آئی ہیں چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے زیادہ اچھی اور باکمال چار بیبیاں ہیں ایک حضرت مریم دوسری آسیہ فرعون کی بیوی تیسری حضرت خدیجہ چوتھی حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہن۔
ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد ﷺ یہ خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہیں جو آپ ﷺ وسلم کے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں جب یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب عزوجل کا اور میرا سلام کہہ دیجئے اور ان کو یہ خوشخبری سنا دیجئے کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی۔(صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ،رقم ۳۸۲۰،ج۲،ص۵۶۵)

*حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا : *
وما رایتہا ولٰکن کان النبی صلی اللٰہ علیہ و الہ وسلم یکثر ذکرھا وربماذبح الشاۃ ثم یقطعہا اعضآء ثم یبعثھا فی صدائق خدیجۃ فربما قلت لہٗ کا نہٗ لم یکن فی الدنیا امرأۃ الا خدیجۃ فیقول انھا کانت وکانت وکان لی منھا ولد (بخاری جلد اول : ۵۳۹،و مسلم جلد دوم : ۲۸۴، ترمذی،۲:۴۶۵)
* ترجمہ: *
کہ رسول اللہ ﷺ اکثر سیدۃ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر فرماتے تھے بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اعضاء کاٹتے پھر وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے تو وہ کبھی آپ سے کہہ دیتی تھیں گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں اور کوئی عورت ہی نہیں تھیں تو آپ فرماتے وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی۔
سرکار دو جہاں ﷺ نے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا لیکن حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی محبت آخرِ عمر تک ﷺکے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضورﷺکے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ ﷺ باربار حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا ذکر فرماتے رہتے تھے ہجرت سے تین برس قبل پینسٹھ برس کی عمر پا کر ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے اندر انہوں نے وفات پائی اور مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان حجون (جنت المعلی) میں خود حضور اقدس ﷺ نے ان کی قبر انور میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپرد خاک فرمایا اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے ﷺ نے انکی نماز نہیں پڑھائی حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات سے تین یا پانچ دن پہلے حضورﷺکے چچا ابو طالب کا انتقال ہوگیا تھا ابھی چچا کی وفات کے صدمہ سے حضورﷺگزرے ہی تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا اس سانحہ کا قلب مبارک پر اتنا زبردست صدمہ گزرا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس سال کا نام ''عام الحزن'' (غم کا سال) رکھ دیا۔
*وصال:*
آپ کی وفات 10رمضان المبارک 10 نبوی ،65برس کی عمر میں مکۃ المکرہ میں ہوئی،اور "جنت المعلیٰ "کے مقبرہ حجون میں استراحت فرما ہیں

01/04/2023

*❤10 رمضان مبارک ٰ❤️*
*❣️10 رمضان المبارک یومِ وصال اُم المؤمنین، غمگسارِ رسولﷺ حضرت سیدہ خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا*
🌹🌹🌸🌺🌸🌹🌹

🌸 *اللّٰه عَزَّوَجَل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو 🌸*
*╔••⊰❉⊱۝⊰♦️♦️⊰❉⊱۝⊰❉⊱••╗*
*ایصال ثواب کا طریقہ ایک مرتبہ سورة فاتحہ، ٣ تین مرتبہ سورةاخلاص ٣تین مرتبہ درود شریف اول و آخر پڑھ کر ان کے بارگاہ میں ایصال ثواب کریں 🤲🏻*
*╚••⊰❉⊱۝⊰,,,,,,is page ko follow like krein

01/04/2023

صدقہِ فطر کس پر واجب ہے

01/04/2023

*رمضـــان کے احـــکام کورس*

*قسط نمبر 9️⃣*

*روزے کے ضروری احکام (7)*

*روزہ نہ رکھنے کی اجازات پر مبنی 33 احکام*
﴿حصہ 1﴾

*روزہ نہ رکھنے کی مجبوریاں*

اے عاشقانِ رسول! بعض مجبوریاں ایسی ہیں جن کے سَبَب رَمَضانُ الْمُبارَک میں روزہ نہ رکھنے کی اِجازت ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ مجبوری میں روزہ مُعاف نہیں وہ مجبوری ختم ہو جانے کے بعد اس کی قضا رکھنا فرض ہے ، البتّہ قضا کا گناہ نہیں ہوگا جیسا کہ
*بہارِ شریعت جلداوّل صفحہ1002 پر دُرِّمختار کے حوالے سے لکھا ہے:*
کہ سفر و حمل اور بچے کو دُودھ پلانا اور مرض اور بڑھاپا اور خوفِ ہلاکت و اِکراہ *(یعنی اگر کوئی جان سے مار ڈالنے یا کسی عضو کے کاٹ ڈالنے یا سخت مار مارنے کی صحیح دھمکی دے کر کہے کہ روزہ توڑ ڈال اگر روزہ دار جانتا ہو کہ یہ کہنے والا جو کچھ کہتا ہے کر گزرے گا تو ایسی صورت میں روزہ فاسِد کر دینا یا ترک کرنا گناہ نہیں۔ اِکراہ سے مراد یہی ہے)* و نقصانِ عقل اور جہاد یہ سب روزہ نہ رکھنے کے عذر ہیں اِن وجوہ سے اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو گُناہ گار نہیں۔

*(دُرِّمُخْتار ج۳ ص۴۶۲)*

*(وہ مجبوری ختم ہو جانے کی صورت میں ہر روزے کے بدلے ایک روزہ قضا رکھنا ہوگا)*

{۱} مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اِختیار ہے۔ *(رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۴۶۲)*

{۲} اگر خود اُس مسافر کو اور اُس کے ساتھ والے کو روزہ رکھنے میں ضرر نہ پہنچے تو روزہ رکھنا سفر میں بہتر ہے اور اگر دونوں یا اُن میں سے کسی ایک کو نقصان ہو رہا ہو تو روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔
*(دُرِّمُخْتار ج۳ ص۴۶۵)*

{۳} مسافر نے ضَحْوَۂ کُبریٰ سے پیشتر اِقامت کی اور ابھی کچھ کھایا نہیں تو روزے کی نیت کر لینا واجب ہے ۔
*(جَوْہَرہ ج۱ ص۱۸۶)*

{۴} دِن میں اگر سفر کیا تو اُس دِن کا روزہ چھوڑ دینے کیلئے آج کا سفر عذر نہیں ۔ البتہ اگر دَورانِ سفر توڑ دیں گے تو کفارہ لازِم نہ آئے گا مگر گناہ ضرور ہوگا۔
*(عالمگیری ج۱ ص۲۰۶)*

اور روزہ قضا کرنا فرض رہے گا۔

{۵} اگر سفر شروع کرنے سے پہلے توڑ دیا پھر سفر کیا تو *(اگر کفارے کے شرائط پائے گئے تو قضا کے ساتھ ساتھ)* کفارہ بھی لازِم آئے گا۔ *(اَیْضاً)*

{۶} اگر دن میں سفر شروع کیا *(اور دَورانِ سفر روزہ توڑا نہ تھا)* اور مکان پر کوئی چیز بھول گئے تھے اسے لینے واپس آئے اور اب اگر آ کر روزہ توڑ ڈالا تو *(شرائط پائے جانے کی صورت میں)* کفارہ بھی واجب ہے ۔ اگر دَورانِ سفر ہی توڑ دیا ہوتا تو صرف قضا رکھنا فرض ہوتا جیسا کہ نمبر4 میں گزرا۔
*(عالمگیری ج۱ص۲۰۷)*

{۷} کسی کو روزہ توڑ ڈالنے پر مجبور کیا گیا تو روزہ تو توڑ سکتا ہے مگر صبر کیا تو اَجر ملے گا۔
*(رَدُّالْمُحتَار ج۳ ص۴۶۲)*

*(مجبوری کی تعریف اوپر بیان کر دی گئی ہے)*
{۸} سانپ نے ڈَس لیا اور جان خطرے میں پڑ گئی تو روزہ توڑ دے ۔ *(اَیضاً)*

{۹} جن لوگوں نے اِن مجبوریوں کے سبب روزہ توڑا اُن پر فرض ہے کہ اُن روزوں کی قضا رکھیں اور اِن قضا روزوں میں ترتیب فرض نہیں ، لہٰذا اگر اُن روزوں کی قضا کرنے سے قبل نفل روزے رکھے تو یہ نفل روزے ہوگئے ، مگر حکم یہ ہے کہ عذر جانے کے بعد آیندہ رَمَضانُ الْمُبارَک کے آنے سے پہلے پہلے قضا رکھ لیں ۔
*حدیثِ پاک میں فرمایا:*
جس پر گزشتہ رَمَضانُ الْمُبارَک کی قضا باقی ہے اور وہ نہ رکھے ، اُس کے اِس رَمَضانُ الْمبارَک کے روزے قبول نہ ہوں گے۔
*(مسند امام احمد ج۳ ص۲۶۶ حدیث۸۶۲۹)*

اگر وَقت گزرتا گیا اور قضا روزے نہ رکھے یہاں تک کہ دُوسرا رَمضان شریف آگیا تو اب قضا روزے رکھنے کے بجائے پہلے اِسی رَمَضانُ الْمُبارَک کے روزے رکھ لیجئے ، قضا بعد میں رکھ لیجئے۔ بلکہ اگر غیر مریض و مسافر نے قضا کی نیت کی جب بھی قضا نہیں بلکہ اِسی رَمضان شریف کے روزے ہیں۔

*(دُرِّ مُختار ج۳ ص۴۶۵)*

{۱۰} بھوک اور پیاس ایسی ہو کہ ہلاک *(یعنی جان چلی جانے)* کا خوفِ صحیح ہو یا نقصان عقل کا اندیشہ ہو تو روزہ نہ رکھے ۔
*(دُرِّمُختار ، ردُّ الْمُحتار ج۳ ص۴۶۲)*

*فاسق یا غیر مسلم ڈاکٹر روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے تو؟*

{۱۱} فقہائے کرام نے روزہ نہ رکھنے کیلئے جو رُخصتیں بیان کی ہیں ان میں یہ بھی داخل ہے کہ مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر میں اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہو جانے کا گمانِ غالب ہو تو اِجازت ہے کہ اُس دِن روزہ نہ رکھے۔ اس گمانِ غالِب کے حصول *(یعنی حاصل کرنے)* کی تیسری صورت کسی مسلمان ، حاذِق طبیب مستور یعنی غیر فاسِق ماہر ڈاکٹر کی خبر بھی ہے لیکن فی زمانہ ایسے طبیب *(ڈاکٹر)* کا ملنا بہت ہی مشکل ہے تو اب ضرورتِ زمانہ کا لحاظ کرتے ہوئے اس بات کی اجازت ہے کہ اگر کوئی قابلِ اعتماد فاسق یا غیر مسلم طبیب *(ڈاکٹر)* بھی روزہ رکھنے کو صحت کیلئے نقصان دِہ قرار دے اور روزہ ترک کرنے کا کہے اور مریض بھی اپنی طرف سے ظن و تحری *(یعنی اچھی طرح غور)* کرے جس سے اُسے روزہ توڑنا یا نہ رکھنا ہی سمجھ آئے تو اب اگر اس نے اپنے ظنِّ غالِب *(یعنی مضبوط سوچ)* پر عمل کرتے ہوئے روزہ توڑا یا روزہ نہ رکھا تو اسے گناہ نہیں ہوگا اور روزہ توڑنے کی صورت میں کفارہ بھی اس پر لازِم نہ ہوگا مگر قضا بہر صورت ضرور فرض ہوگی اور تحری *(یعنی غور کرنے)* میں یہ بھی ضروری ہے کہ مریض کا دل اِس بات پر جمے کہ یہ طبیب خواہ مخواہ روزہ توڑنے کا نہیں کہہ رہا اور اس میں بھی زیادہ بہتریہ ہوگا کہ ایک سے زائد ڈاکٹرز سے رائے لے۔

*پیش کش*
/ /

31/03/2023

💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜💙
❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄

⛲ *بسم الله الرحمن الرحيم* ⛲


🌺 *اسلام کے ستون!*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔*🔹
📗«صحیح بخاری -8»

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when knowledge is power posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share