Ahlulbait - as

Ahlulbait - as اللھم صلی علی محمدؐ و علی آلِ محمدؑ 🩶

10/06/2026

عید مباہلہ کا مختصر پس منظر۔

یمن سے نجرانیوں کا 60 افراد کا قافلہ رسول ص سے حضرت عیسی کی شان و حقانیت اسلام پر مناظرہ کرنے مدینہ آیا۔

یہ قافلہ نجرانیوں کے پیشواوں اور سیاسی گرووں پر مشتمل تھا جن میں نجرانیوں کے سب سے بڑے پیشوا "حارثہ بن علقمہ" و سیاسی رہنما عبدالمسیح شامل تھے۔

مسجد نبوی میں کافی مناظرہ کے بعد بھی نجرانیوں نے رسول ص کی بات کو تسلیم نا کیا۔

بلکہ وہ اپنے دعوی پر بضد تھے کہ حضرت عیسی اللہ کے بیٹے ہیں۔

اس پر خدا کا حکم نازل ہوا سورہ ال عمران ایہ 61

فقل تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔

اے رسول ص کہہ دیجیے کہ ہم اپنے بیٹوں کو لائیں اور تم اپنے بیٹوں کو تم اپنی عورتوں کو لاو ہم اپنی تم اپنے نفسوں کو لاو اور ہم اپنے نفسوں کو اور ہم سب مل کر لعنت کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

اگلی صبح طے شدہ وقت پر رسول اللہ ص مباہلہ کے لیے نکلے۔ آپ کے ہمراہ آپ کے اہلِ بیتِ اطہار (خاندان) کے چار مقدس ترین افراد تھے: حضرت علی ع حضرت فاطمہ س اور آپ کے نواسے امام حسن ع و امام حسین ع۔

جب عیسائی پادریوں نے آپ اور آپ کے ساتھ آئے ہوئے مقدس ترین ہستیوں کا جلال دیکھا تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ ان کے سب سے بڑے رہنما، ابو حارثہ نے کہا کہ اگر انہوں نے اس خاندان کے خلاف بددعا کی، تو وہ زمین پر باقی نہیں رہیں گے۔

عیسائیوں نے مباہلہ سے انکار کر دیا اور حضرت محمد ص سے صلح کی درخواست کی۔ انہوں نے اسلامی ریاست کو جزیہ (ٹیکس) دینا قبول کیا اور اس طرح یہ معاملہ امن پر انجام پایا۔

10/06/2026

اہلبیت علیہم السلام کون ہیں ؟

سعد ابی وقاص کا کہنا ہے کہ جب آیۃ مباہلہ نازل ہوئی تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی و فاطمہ حسن و حسین علیہم السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں۔

تفسير عیاشی، ج 1، ص177

‏عیدِ مباہلہ مبارکسورہ آل عمران آیت 61 میں ارشاد باری تعالٰی ہے:اے پیغمبرؐ آپ کے پاس علم آ جانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ عی...
10/06/2026

‏عیدِ مباہلہ مبارک

سورہ آل عمران آیت 61 میں ارشاد باری تعالٰی ہے:
اے پیغمبرؐ آپ کے پاس علم آ جانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ عیسیٰ بن مریمؑ کے بارے میں آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہہ دیں آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کو بلاؤ، ہم اپنے نفوس کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفوس کو بلاؤ، پھر دونوں فریق اللہ سے گڑگڑا کر دعا (مباہلہ) کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

سید بن طاووس کہتے ہیں، میں نے ایک روایت میں پڑھا کہ
اللہ نے مباہلہ کے دن علیؑ کو دشمنوں کے مقابل بھیجا تو وہ علیؑ کو دیکھ کر اپنی دشمنی سے دستبردار ہو گئے
اور اللہ نے غدیر کے دن علیؑ کو دوستوں کے ساتھ نامزد کیا تو وہ علیؑ کے دشمن ہو گئے۔

تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی جب علی کے آخری فرزند و وارثِ ظہور فرمائیں گے، توبہت سے دیرینہ ِ دشمن انکی سیرت و صورت دیکھ کر سر تسلیم خم کریں گے اور بہت سے دیگر جوان جو ان سے دوستی کا دم بھرتے ہیں انکے دشمن بن جائیں گے

09/06/2026

امام علی رضا عليه السلام فرماتے ہیں
جو اپنے گناہوں کی مغفرت کےلئے کچھ نہ کرسکے اسے چاہیئے کہ وہ محمد و آل محمد پر کثرت سے درود بھیجے کیونکہ یہ گناہوں کو پوری طرح ختم کر دیتی ہے۔

📚 امالی صدوق، ص131،

09/06/2026

مباہلہ وہ مقام ہے جہاں حضور (ص) و آلِ محمدؑ کے خلاف آنے والے لوگوں پر
اللہ نے صاف الفاظ میں لع-نت کی ہے

09/06/2026

منائیں گے ہم جشن، کوئی لڑے گا تو نہیں؟
مباہلہ والے دن آپ کا، کوئی مرے گا تو نہیں؟ 🙂

09/06/2026

شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی تشییعِ جنازہ عاشورہ محرم کے بعد ہوگی

09/06/2026

نفس کی خواہش سے ہمیشہ پرہیز کرو

أُوصِيكُمْ بِمُجَانَبَةِ الْهَوٰى فَإِنَّ الْهَوٰى يَدْعُو إِلَى الْعَمٰى وَ هُوَ الضَّلاَلُ فِي الْآخِرَةِ وَ الدُّنْيَا.

امام علیؑ نے فرمایا:
میں تمہیں نفس کی خواہشات سے اجتناب کی سفارش کرتا ہوں، اس لیے کہ خواہشِ نفس دل و بصیرت کو اندھا کر دیتی ہے، اور یہی چیز انسان کو دنیا و آخرت کی گمراہی میں مبتلا کر دیتی ہے۔

دعائم الإسلام، جلد 2، صفحہ 350

08/06/2026

امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
"تم حق کو اس طرح نہیں پہچانتے ہو جس طرح باطل کی معرفت رکھتے ہو اور باطل کو اس طرح باطل نہیں قرار دیتے جس طرح حق کو غلط ٹہراتے ہو."

(خطبہ نمبر ۶۹ نہج البلاغہ)

08/06/2026

امیر مختار ع کو جب ابنِ زیاد نے کوفے میں قید کیا، انکے ساتھ قید خانے میں علی ع کے مُرید میثمِ تمار ع بھی تھے ۔ میثم ع کو بشارت دینے والا کہا جاتا تھا کیونکہ مولا علی ع انہیں آنے والے وقتوں بارے بہت کچھ بتا چکے تھے۔

جیل میں مختار ع سے ملاقات کے دوران میثم تمار ع نے امیر مختار ع کو مولا علی ع کی پیشنگوئی کے بارے میں بتایا کہ تم ابنِ زیاد کو ہلاک کرو گے اور اس سے بدلہ لو گے۔ ساتھ میثم ع نے کہا، لیکن مختار یاد رکھنا، آسمان کیطرف سر اٹھا ہو تو پائوں کے نیچے گڑھے سے آنکھیں غافل ہو جاتی ہیں۔ پائوں کے نیچے گڑھے سے غافل نہ ہونا۔

میثم ع تمار کی عرفانی نظر نے مختار ع کو ایک بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس خطرے کے خوف میں مختار ثقفی ع کی مستقل امیر مختار ع سے کشمکش رہی۔

بالخصوص جو کام دینِ خُدا کیلئے ہو وہاں عرفانی نظر تاریک نہیں ہونی چاہئے۔ عرفانی نگاہ کی تاریکی کا سبب، غُرور ہے اور آسمان کیطرف سر اٹھا ہو تو پائوں کے نیچے گڑھے سے آنکھیں غافل ہو جاتی ہیں۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahlulbait - as posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category