10/06/2026
عید مباہلہ کا مختصر پس منظر۔
یمن سے نجرانیوں کا 60 افراد کا قافلہ رسول ص سے حضرت عیسی کی شان و حقانیت اسلام پر مناظرہ کرنے مدینہ آیا۔
یہ قافلہ نجرانیوں کے پیشواوں اور سیاسی گرووں پر مشتمل تھا جن میں نجرانیوں کے سب سے بڑے پیشوا "حارثہ بن علقمہ" و سیاسی رہنما عبدالمسیح شامل تھے۔
مسجد نبوی میں کافی مناظرہ کے بعد بھی نجرانیوں نے رسول ص کی بات کو تسلیم نا کیا۔
بلکہ وہ اپنے دعوی پر بضد تھے کہ حضرت عیسی اللہ کے بیٹے ہیں۔
اس پر خدا کا حکم نازل ہوا سورہ ال عمران ایہ 61
فقل تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔
اے رسول ص کہہ دیجیے کہ ہم اپنے بیٹوں کو لائیں اور تم اپنے بیٹوں کو تم اپنی عورتوں کو لاو ہم اپنی تم اپنے نفسوں کو لاو اور ہم اپنے نفسوں کو اور ہم سب مل کر لعنت کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔
اگلی صبح طے شدہ وقت پر رسول اللہ ص مباہلہ کے لیے نکلے۔ آپ کے ہمراہ آپ کے اہلِ بیتِ اطہار (خاندان) کے چار مقدس ترین افراد تھے: حضرت علی ع حضرت فاطمہ س اور آپ کے نواسے امام حسن ع و امام حسین ع۔
جب عیسائی پادریوں نے آپ اور آپ کے ساتھ آئے ہوئے مقدس ترین ہستیوں کا جلال دیکھا تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ ان کے سب سے بڑے رہنما، ابو حارثہ نے کہا کہ اگر انہوں نے اس خاندان کے خلاف بددعا کی، تو وہ زمین پر باقی نہیں رہیں گے۔
عیسائیوں نے مباہلہ سے انکار کر دیا اور حضرت محمد ص سے صلح کی درخواست کی۔ انہوں نے اسلامی ریاست کو جزیہ (ٹیکس) دینا قبول کیا اور اس طرح یہ معاملہ امن پر انجام پایا۔