14/06/2026
راہ عشق /27 زوالحجہ شھادت عمر فاروق
🖤 عمرؓ... عدل کا وہ چراغ جو مسجد میں بجھا
فجر کا وقت تھامدینہ ابھی پوری طرح جاگا بھی نہیں تھامسجد نبوی ﷺ میں صفیں بندھ چکی تھیں ہونٹوں پر تکبیر تھی دلوں میں سکون تھااور امامت کے لیے آگے کھڑا شخص وہ تھا
جس کے نام سے باطل کانپتا تھا۔
عمر بن خطابؓ۔
کون جانتا تھا...
کہ یہ فجر مدینہ کی تاریخ کی سب سے دردناک فجر بننے والی ہے۔
کون جانتا تھا...
کہ چند لمحوں بعد ایک خنجر صرف ایک انسان کو نہیں...
ایک پورے عہد کو زخمی کر دے گا۔
یہ وہ عمرؓ تھے...
جن کے اسلام لانے سے پہلے مسلمان چھپ کر عبادت کرتے تھے۔اور جن کے اسلام لانے کے بعدحق نے پہلی بار مکہ کی گلیوں میں اپنا سر بلند کیا۔
مگر عمرؓ کی اصل عظمت ان کی قوت میں نہیں تھی ان کے دل میں تھی وہ دل جو اللہ کے خوف سے نرم ہو جاتا تھا۔
وہ دل...
جو ایک یتیم کے آنسو پر بےچین ہو جاتا تھا۔
وہ دل...
جو ایک بھوکے بچے کی آہ پر رات بھر سو نہیں پاتا تھا۔
دن کو وہ خلیفہ تھے...
رات کو مدینہ کے گلی کوچوں کے مسافرلوگ سوتے تھےاور عمرؓ جاگتے تھےلوگ آرام کرتے تھےاور عمرؓ اپنی رعیت کا حال معلوم کرتے تھے
ایک طرف فارس اور روم کی سلطنتیں ان کے سامنے جھک رہی تھی اور دوسری طرف وہ ایک بیوہ کے گھر آٹے کی بوری اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جا رہے تھے
یہی وجہ ہےکہ تاریخ انہیں فاتح سے زیادہ عادل کہتی ہے۔
پھر وہ صبح آ گئی جس کے بعد مدینہ کبھی پہلے جیسا نہ رہا۔
نماز شروع ہوئی...
قرآن کی تلاوت گونج رہی تھی اور اچانک ایک زہریلا خنجر فضا کو چیرتا ہوا آیا۔
مسجد لرز گئی...
صفیں ٹوٹ گئیں...
دل کانپ گئے...
اور عمرؓ خون میں نہا گئے۔
مگر عجیب بات دیکھو...
زخم گہرے تھےمگر زبان پر شکوہ نہیں تھادرد شدید تھا مگر فکر اپنی جان کی نہیں تھی۔
انہوں نے پوچھا:
"نماز مکمل ہو گئی؟"
یہ جملہ نہیں تھا...
یہ عمرؓ کی پوری زندگی کا خلاصہ تھا۔جس شخص نے زندگی اللہ کے لیے گزاری اسے موت کے وقت بھی نماز کی فکر تھی۔
پھر زخم بڑھتے گئے اور وقتِ رخصت قریب آنے لگا۔
مدینہ رو رہا تھاصحابہؓ کی آنکھیں نم تھیں اور ایک عادل حکمران اپنے رب سے ملاقات کی تیاری کر رہا تھا۔
آخری لمحات میں بھی نہ فتوحات یاد آئیں نہ سلطنت یاد آئی نہ دنیا یاد آئی...
بس ایک خواہش تھی:
کاش رسول اللہ ﷺ اور ابوبکرؓ کے پہلو میں جگہ مل جائے۔
اجازت ملی اور پھر عمرؓ رخصت ہو گئے۔
مگر سچ یہ ہےاس دن صرف عمرؓ کی شہادت نہیں ہوئی تھی۔
اس دن مدینہ نے اپنا محافظ کھو دیا تھا۔یتیموں نے اپنا سہارا کھو دیا تھا۔مظلوموں نے اپنی ڈھال کھو دی تھی۔
اہلِ تصوف کہتے ہیں:
عمرؓ کی زندگی کا سب سے بڑا معجزہ ان کی فتوحات نہیں تھیں بلکہ ان کا خوفِ خدا تھا۔
کیونکہ جو شخص دنیا فتح کر لے وہ عظیم ہو سکتا ہےمگر جو اپنے نفس کو فتح کر لےوہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔
🕋 راہِ تصوف
عمرؓ ہمیں سکھا گئے:
طاقت مل جائے تو عدل کرو...
اختیار مل جائے تو عاجزی اختیار کرواور اگر اللہ تمہیں کسی کا ذمہ دار بنا دےتو راتوں کی نیند قربان کر دوکیونکہ قیامت کے دن اللہ تمہاری نمازوں سے پہلے تمہاری امانتوں کا حساب بھی لے گا۔ 🤍
اگر آپ حضرت عمرؓ کی زندگی سے صرف ایک سبق سیکھ سکتے...تو وہ کیا ہوتا؟
#مرشد