Awaz sindh news

Awaz sindh news آواز سنڌ نيوز

1۔ وادیٔ سندھ کی قدامت"تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سندھ کی سرزمین اور وادیٔ سندھ کی تہذی...
28/08/2026

1۔ وادیٔ سندھ کی قدامت
"تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سندھ کی سرزمین اور وادیٔ سندھ کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین انسانی تہذیبوں کے مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تہذیب 5,000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہے اور قدیم مصر کے ساتھ تقریباً اسی دور میں ایک ترقی یافتہ، منظم اور خوشحال معاشرے کے طور پر پروان چڑھی۔ انبیائے کرام کے ابتدائی ادوار تک وادیٔ سندھ کی یہ سرزمین ایک انتہائی منظم، ترقی یافتہ اور خوشحال تہذیب کا مسکن بن چکی تھی۔"
2۔ سندھی اجرک کی 5,000 سالہ میراث
"سندھ کی شناخت اس کی قدیم سرزمین سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں مشہور تقریباً 4,500 سال پرانا موہنجو دڑو سے دریافت ہونے والا ’پجاری بادشاہ‘ کا مجسمہ نما نیم پیکر، جس کے کندھے پر ایک کندہ شدہ چادر نظر آتی ہے، مخصوص تین پتی والے ’کَکَر‘ یا بادل نما جیومیٹریائی نقوش سے مزین ہے۔ مؤرخین اور ماہرینِ نساجی ان نقوش کو موجودہ سندھی اجرک کے قدیم ترین نمونوں میں شمار کرتے ہیں۔
تقریباً 5,000 سال پہلے بھی وادیٔ سندھ کے لوگ کپاس بُننے اور مزاحمتی رنگائی (Resist Dyeing) کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ قدیم ہنر آج تک زندہ ہے اور سندھ بھر میں عزت و احترام کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔"
3۔ عہدِ نبوی ﷺ میں سندھ
"رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کے زمانۂ مبارک، یعنی چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے دوران سندھ ایک خوشحال اور خودمختار خطہ تھا، جہاں مقامی بدھ اور ہندو رائے خاندان کی حکمرانی تھی۔ دریائے سندھ کے کنارے واقع اور الور کو اپنا دارالحکومت رکھنے والا سندھ ایک اہم عالمی تجارتی مرکز تھا، جو جنوبی ایشیا کو بحیرۂ عرب کے راستے سمندری تجارتی راستوں سے جوڑتا تھا۔
اس وقت اسلام جزیرۂ عرب میں اپنی ابتدائی نشوونما کے مرحلے میں تھا، جبکہ سندھ پہلے ہی اپنی گہری سیاسی، معاشی اور ثقافتی شناخت رکھتا تھا۔ بعد ازاں یہی سندھ ابتدائی مسلم خلافتوں کے ساتھ رابطے اور تعامل کا مرکز بنا۔"
4۔ سندھ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ
"سندھ کے خطے میں اسلام کی آمد کا آغاز خلافتِ راشدہ کے دور میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد سے ہوا۔ تاریخی حوالوں، جن میں ’البدایہ والنہایہ‘ بھی شامل ہے، کے مطابق اس دور میں رسول اللہ ﷺ کے متعدد صحابہ کرامؓ برصغیر کے مغربی سرحدی علاقوں تک پہنچے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں معروف سپہ سالاروں، جن میں حضرت عثمان بن ابی العاص اور حکم بن عمرو الاغلبی شامل تھے، کی قیادت میں بحری اور زمینی دستوں نے دیبل اور مکران تک کامیاب مہمات کیں۔ ان مہمات نے اسلامی دنیا اور قدیم سرزمینِ سندھ کے درمیان ابتدائی براہِ راست رابطے کی بنیاد رکھی۔"
5۔ کراچی: پاکستان کا پہلا دارالحکومت
"14 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام کے وقت کراچی کو نئی آزاد مملکت کا پہلا وفاقی دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کراچی کی تزویراتی اہمیت، معاشی خوشحالی اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے اسے دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا۔
کراچی ایک دہائی سے زائد عرصے تک حکومت، پارلیمان اور غیر ملکی سفارت خانوں کا مرکزی مقام رہا، یہاں تک کہ 1959 میں دارالحکومت کو شمال کی جانب منتقل کر دیا گیا۔"
6۔ 1947 سے پہلے کراچی کی حیثیت بطور دارالحکومت
"پاکستان کے قیام سے پہلے کراچی سندھ کا صوبائی دارالحکومت رہ چکا تھا۔ جب برطانوی ہندوستان نے یکم اپریل 1936 کو سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کیا تو کراچی کو نئے قائم ہونے والے صوبۂ سندھ کا دارالحکومت مقرر کیا گیا۔
چنانچہ جب 14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہوا تو کراچی نے براہِ راست سندھ کے صوبائی دارالحکومت کی حیثیت سے پورے پاکستان کے پہلے وفاقی دارالحکومت کا مقام حاصل کر لیا۔"
7۔ بصیرت رکھنے والے رہنما: عبداللہ ہارون اور جی۔ایم۔ سید
"کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنانے کی سیاسی راہ ہموار کرنے میں سر عبداللہ ہارون اور جی۔ایم۔ سید کا اہم کردار تھا۔ اکتوبر 1938 میں انہوں نے کراچی میں تاریخی سندھ پراونشل مسلم لیگ کانفرنس منعقد کی اور قائداعظم محمد علی جناح کو سندھ مدعو کیا۔
اس تاریخی اجتماع کے موقع پر انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے تصور کی طرف اشارہ کرنے والی پہلی باقاعدہ قرارداد پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ابتدائی سیاسی کوششوں سے خطے میں مسلم لیگ کی سیاسی قوت مستحکم ہوئی، جس کے نتیجے میں سندھ اسمبلی نے 1947 میں کراچی کو پاکستان کے ابتدائی دارالحکومت کے طور پر پیش کرنے میں کردار ادا کیا۔"

28/08/2026

1۔ وادیٔ سندھ کی قدامت
"تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سندھ کی سرزمین اور وادیٔ سندھ کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین انسانی تہذیبوں کے مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تہذیب 5,000 سال سے بھی زیادہ قدیم ہے اور قدیم مصر کے ساتھ تقریباً اسی دور میں ایک ترقی یافتہ، منظم اور خوشحال معاشرے کے طور پر پروان چڑھی۔ انبیائے کرام کے ابتدائی ادوار تک وادیٔ سندھ کی یہ سرزمین ایک انتہائی منظم، ترقی یافتہ اور خوشحال تہذیب کا مسکن بن چکی تھی۔"
2۔ سندھی اجرک کی 5,000 سالہ میراث
"سندھ کی شناخت اس کی قدیم سرزمین سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں مشہور تقریباً 4,500 سال پرانا موہنجو دڑو سے دریافت ہونے والا ’پجاری بادشاہ‘ کا مجسمہ نما نیم پیکر، جس کے کندھے پر ایک کندہ شدہ چادر نظر آتی ہے، مخصوص تین پتی والے ’کَکَر‘ یا بادل نما جیومیٹریائی نقوش سے مزین ہے۔ مؤرخین اور ماہرینِ نساجی ان نقوش کو موجودہ سندھی اجرک کے قدیم ترین نمونوں میں شمار کرتے ہیں۔
تقریباً 5,000 سال پہلے بھی وادیٔ سندھ کے لوگ کپاس بُننے اور مزاحمتی رنگائی (Resist Dyeing) کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ قدیم ہنر آج تک زندہ ہے اور سندھ بھر میں عزت و احترام کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔"
3۔ عہدِ نبوی ﷺ میں سندھ
"رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کے زمانۂ مبارک، یعنی چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے دوران سندھ ایک خوشحال اور خودمختار خطہ تھا، جہاں مقامی بدھ اور ہندو رائے خاندان کی حکمرانی تھی۔ دریائے سندھ کے کنارے واقع اور الور کو اپنا دارالحکومت رکھنے والا سندھ ایک اہم عالمی تجارتی مرکز تھا، جو جنوبی ایشیا کو بحیرۂ عرب کے راستے سمندری تجارتی راستوں سے جوڑتا تھا۔
اس وقت اسلام جزیرۂ عرب میں اپنی ابتدائی نشوونما کے مرحلے میں تھا، جبکہ سندھ پہلے ہی اپنی گہری سیاسی، معاشی اور ثقافتی شناخت رکھتا تھا۔ بعد ازاں یہی سندھ ابتدائی مسلم خلافتوں کے ساتھ رابطے اور تعامل کا مرکز بنا۔"
4۔ سندھ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ
"سندھ کے خطے میں اسلام کی آمد کا آغاز خلافتِ راشدہ کے دور میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد سے ہوا۔ تاریخی حوالوں، جن میں ’البدایہ والنہایہ‘ بھی شامل ہے، کے مطابق اس دور میں رسول اللہ ﷺ کے متعدد صحابہ کرامؓ برصغیر کے مغربی سرحدی علاقوں تک پہنچے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں معروف سپہ سالاروں، جن میں حضرت عثمان بن ابی العاص اور حکم بن عمرو الاغلبی شامل تھے، کی قیادت میں بحری اور زمینی دستوں نے دیبل اور مکران تک کامیاب مہمات کیں۔ ان مہمات نے اسلامی دنیا اور قدیم سرزمینِ سندھ کے درمیان ابتدائی براہِ راست رابطے کی بنیاد رکھی۔"
5۔ کراچی: پاکستان کا پہلا دارالحکومت
"14 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام کے وقت کراچی کو نئی آزاد مملکت کا پہلا وفاقی دارالحکومت منتخب کیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کراچی کی تزویراتی اہمیت، معاشی خوشحالی اور موجودہ بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے اسے دارالحکومت کے طور پر منتخب کیا۔
کراچی ایک دہائی سے زائد عرصے تک حکومت، پارلیمان اور غیر ملکی سفارت خانوں کا مرکزی مقام رہا، یہاں تک کہ 1959 میں دارالحکومت کو شمال کی جانب منتقل کر دیا گیا۔"
6۔ 1947 سے پہلے کراچی کی حیثیت بطور دارالحکومت
"پاکستان کے قیام سے پہلے کراچی سندھ کا صوبائی دارالحکومت رہ چکا تھا۔ جب برطانوی ہندوستان نے یکم اپریل 1936 کو سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کیا تو کراچی کو نئے قائم ہونے والے صوبۂ سندھ کا دارالحکومت مقرر کیا گیا۔
چنانچہ جب 14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہوا تو کراچی نے براہِ راست سندھ کے صوبائی دارالحکومت کی حیثیت سے پورے پاکستان کے پہلے وفاقی دارالحکومت کا مقام حاصل کر لیا۔"
7۔ بصیرت رکھنے والے رہنما: عبداللہ ہارون اور جی۔ایم۔ سید
"کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنانے کی سیاسی راہ ہموار کرنے میں سر عبداللہ ہارون اور جی۔ایم۔ سید کا اہم کردار تھا۔ اکتوبر 1938 میں انہوں نے کراچی میں تاریخی سندھ پراونشل مسلم لیگ کانفرنس منعقد کی اور قائداعظم محمد علی جناح کو سندھ مدعو کیا۔
اس تاریخی اجتماع کے موقع پر انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے تصور کی طرف اشارہ کرنے والی پہلی باقاعدہ قرارداد پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ابتدائی سیاسی کوششوں سے خطے میں مسلم لیگ کی سیاسی قوت مستحکم ہوئی، جس کے نتیجے میں سندھ اسمبلی نے 1947 میں کراچی کو پاکستان کے ابتدائی دارالحکومت کے طور پر پیش کرنے میں کردار ادا کیا۔"

27/08/2026

سندھ کی شناخت، تاریخ اور ثقافت

سندھ دھرتی سندھی لوگوں کا وطن ہے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ سندھ کی اپنی ہزاروں سال پرانی تاریخ، تہذیب، ثقافت، زبان اور شناخت ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ سندھ نے صدیوں سے بیرونی حملہ آوروں اور مختلف اقتدار پسند قوتوں کا مقابلہ کیا ہے۔ ارغونوں سمیت کئی بیرونی حکمران اور حملہ آور سندھ میں آئے، لیکن سندھ کی ہزاروں سال پرانی تہذیب، ثقافت اور شناخت کو ختم نہ کر سکے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ قوتیں تاریخ کا حصہ بن گئیں، مگر سندھ کی شناخت آج بھی قائم ہے۔

آج بھی جو قوتیں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، انہیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ کراچی سندھ کا تاریخی اور اہم حصہ ہے، اسے سندھ سے الگ کرنے کی کوشش سندھ کے عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

ماضی اور حال کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے عروج کا دور سب نے دیکھا، مگر وقت کے ساتھ ان کی سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ میں شدید کمی آئی۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی سیاسی قوت ہمیشہ کے لیے طاقتور نہیں رہتی، جبکہ دھرتی، تاریخ اور عوام کی شناخت قائم رہتی ہے۔

اس لیے جو بھی آج سندھ کی وحدت، امن اور شناخت کے خلاف سیاست کر رہا ہے، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار اور طاقت عارضی ہیں، مگر سندھ کی دھرتی اور اس کی تاریخی شناخت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔

سندھ میں رہنے والے ہر شخص کو سندھ کی دھرتی، ثقافت، زبان اور روایات کا احترام کرنا چاہیے۔ جو بھی سندھ کو اپنا وطن سمجھتا ہے، اسے سندھ کی تہذیب و ثقافت کو دل سے اپنانا اور امن، بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دینا چاہیے۔

سندھ نفرت اور تصادم کی نہیں بلکہ محبت، مہمان نوازی، رواداری اور بھائی چارے کی دھرتی ہے۔ سندھ کی تاریخ کو سمجھیں، سندھ کی ثقافت کا احترام کریں اور سندھ کے امن، اتحاد اور وحدت کو مضبوط بنائیں۔

27/08/2026

کراچی 1984 سے پہلے کیسا تھا کبھی تحقیق کی ہے
1984 کے بعد ایسا کون آیا تھا کہ جس نے کراچی کے معشییت اور کلچر کو تباہ و برباد کردیا
کون تھا جو جس نےکراچی میں نوگوایریاز بنائے
کون تھا جس نے بوری بند لاشوں کا کاروبار شروع کیا
کون تھا جس نے بھتہ سسٹم لانچ کیا
کون تھا جس نے زبردستی کھالیں چھیننے کی روایت ڈالی
کون تھا جس نے چائنا کٹنگ اور قبضہ مافیا کی بنیاد ڈالی
کون تھا جس نے شٹر بند ہڑتالوں اور پہیہ جام کلچر متعارف کروایا
کون تھا جس نے کہا کہ ٹی وی وی سی آر بیچو اور کلاشنکوف خریدو
کیا کیا لکھوں میں بتا نہیں سکتی کہ ایم کیو ایم سے پہلے کراچی کیسا ہوا کرتا تھا.... سب کو معلوم ہے کراچی ایک پرامن اور پرسکون شہر تھا
اردو بولنے والے شہر کے معزز ترین پڑھے لکھے افراد میں شمار ہوتے تھے جن کو ایک شرابی ذہنی مریض نے کھڈے لائین لگا دیا اور خود ان کا زبردستی مرشد بن کے بیٹھ گیا
جو قائد کا غدار ہے
وہ موت کا حقدار ہے
ایسے نعرے دیکر اس نے اپنے ہی قوم کے ہزاروں لوگ مروادیئے
اور خود سامراجی قوتوں کے ایما پر منافرت پھیلاتا رہا..اور جب نفرت پھیلاچکا تو اس کے سامراجیوں نے اس کو کباب میں سے ہڈی کی طرح نکال دیا

27/08/2026
نیپال میں تباہ کن سیلاب: گلیشیئر ٹوٹنے سے چند منٹوں میں دریا بپھر گئےنیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والا تباہ کن سیلا...
27/08/2026

نیپال میں تباہ کن سیلاب: گلیشیئر ٹوٹنے سے چند منٹوں میں دریا بپھر گئے

نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والا تباہ کن سیلاب محض ایک معمول کا سیلاب نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ گلیشیئر کی برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کے ایک انتہائی خطرناک امتزاج کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیپال کے ضلع راسووا میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ بڑی مقدار میں چٹان، مٹی اور تلچھٹ بھی نیچے آئی، جس نے برفانی و چٹانی تودے کو دیکھتے ہی دیکھتے ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلے میں تبدیل کر دیا۔

سیٹلائٹ تصاویر تباہی کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ جو پہاڑی ڈھلوانیں صرف ایک روز پہلے سبز اور برف سے ڈھکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں، وہ اگلے ہی روز بھورے ملبے، کیچڑ اور تلچھٹ کے نیچے دفن نظر آئیں۔

ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ تباہی سے چند منٹ قبل آنے والے زلزلے نے گلیشیئر کے ٹوٹنے یا برفانی تودے کو حرکت میں لانے میں کردار ادا کیا ہو، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔

ایک اور اہم مشاہدہ یہ ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں سانحے سے قبل تقریباً 24 گھنٹوں کے دوران برف پگھلنے کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ درجۂ حرارت اور موسمی حالات بھی اس واقعے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف موسمیاتی تبدیلی ہی اس سانحے کی بنیادی وجہ تھی۔

سیلاب نے Lhende River کے نظام کو متاثر کیا اور پانی، برف، بڑے پتھروں اور تلچھٹ کا ایک طاقتور ریلا نیچے کی طرف بہہ نکلا۔ اس کے اثرات Bhote Koshi اور Trishuli دریائی نظام تک پہنچے، جہاں Galchhi کے علاقے میں پانی کی سطح کے صرف 30 منٹ میں تقریباً 9 میٹر تک بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

یہ سانحہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ متاثرہ پہاڑی علاقے میں کئی ہائیڈرو پاور منصوبے موجود ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ حتمی جانی نقصان اب تک ملنے والی لاشوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، جبکہ سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اصل خطرہ صرف سیلاب نہیں

ہمالیہ میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات قدرتی آفات کی نوعیت کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔ گلیشیئر سکڑ رہے ہیں، پہاڑی ڈھلوانیں اور برفانی جھیلیں زیادہ غیر مستحکم ہو سکتی ہیں، جبکہ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور اچانک آنے والے سیلاب ایک دوسرے کو متحرک کرکے بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے برف پوش پہاڑ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے برفانی ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو چکے ہیں۔ ہندوکش ہمالیہ کا خطہ پہلے ہی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔

اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں پانی کا خطرہ صرف بارش سے پیدا نہیں ہوتا۔ گلیشیئر کا ٹوٹنا، برف کا تیزی سے پگھلنا، زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں کا بدلتا ہوا بہاؤ چند منٹوں میں مل کر ایسی تباہی پیدا کر سکتے ہیں جس کا اندازہ روایتی موسمی پیش گوئی سے لگانا انتہائی مشکل ہے۔

ہمالیہ صرف برف کے پہاڑ نہیں بلکہ ایشیا کے ایک بڑے حصے کے لیے پانی کا بنیادی ذخیرہ ہیں۔ اگر ان کے برفانی نظام میں تبدیلی کی رفتار مزید تیز ہوتی رہی تو اس کے اثرات صرف نیپال یا تبت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا کے دریائی نظام، زراعت، آبادیوں اور پانی کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

نیپال کا یہ سانحہ ایک واضح انتباہ ہے کہ بدلتے ہوئے ہمالیائی ماحول کو سمجھنا، گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی کرنا اور پہاڑی دریاؤں کے لیے جدید Early Warning Systems قائم کرنا اب کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پورے خطے کی مشترکہ ضرورت ہے۔

نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ نے ایک بار پھر دنیا کو ہمالیہ کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کے خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر ہزاروں میٹر کی بلندی سے وادی میں جا گرا، جس کے نتیجے میں برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا پیدا ہوا۔ زلزلہ، برف کا تیزی سے پگھلنا اور دیگر ماحولیاتی عوامل بھی اس واقعے میں ممکنہ طور پر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ سانحہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمالیہ میں قدرتی خطرات چند منٹوں میں ایک دوسرے سے جڑ کر تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ان کے اثرات نیپال سے کہیں آگے پورے جنوبی ایشیا کے دریاؤں، زراعت اور پانی کی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awaz sindh news posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share