31/01/2026
ہم حیدر کو ہار گئے… مگر یہ کہانی سب کے لیے ایک وارننگ ہے
حیدر سندھی ایک پڑھا لکھا، باشعور، خوش مزاج اور ذمہ دار انسان تھا۔ صحافت سے لے کر سرکاری نوکری تک، زندگی کے کئی مرحلے اس نے ایمانداری سے گزارے۔
مگر ایک غلط راستہ—آن لائن جوا—آہستہ آہستہ اس کی پوری زندگی نگل گیا۔
یہ کہانی کسی ان پڑھ یا لاپرواہ شخص کی نہیں، بلکہ ایک سمجھدار انسان کی ہے جو لالچ، وقتی جیت اور “ریکور کرنے” کے چکر میں ایک نہ ختم ہونے والے لوپ میں پھنس گیا۔
88 لاکھ روپے کا نقصان، قرض، ذہنی دباؤ، ندامت… اور آخرکار وہ فیصلہ جو کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ حیدر اکیلا نہیں تھا۔
آج ہزاروں نوجوان آن لائن ایپس پر “گیم” کے نام پر جوا کھیل رہے ہیں اور یہ سمجھے بغیر کہ یہ کھیل نہیں، ایک خاموش تباہی ہے۔
جوا صرف پیسہ نہیں لیتا، یہ حوصلہ، عزت، رشتے اور آخرکار زندگی بھی چھین لیتا ہے۔
اگر آپ یا آپ کا کوئی دوست ایسی ایپس استعمال کر رہا ہے تو آج ہی رک جائیں۔
مدد مانگنا کمزوری نہیں، مگر اس دلدل میں خاموش رہنا جان لیوا ہو سکتا ہے۔
حیدر کو واپس نہیں لا سکتے، مگر کسی اور حیدر کو بچا سکتے ہیں۔