Abdul Rahim Khan

Abdul Rahim Khan This is a edcational base page

06/03/2026

"اب ہمارے پاس اس بات کا حتمی ثبوت ہے کہ ایران اپنی پوری طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا اور اسے نتائج کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔
​چونکہ اس کے نئے رہنماؤں نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بند کرنے اور وہاں سے گزرنے والے کسی بھی ٹینکر کو آگ لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، تو وہ نہ صرف دنیا کے 20 فیصد تیل کا راستہ روک رہے ہیں بلکہ وہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔
​ایران اس آبی گزرگاہ پر کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اس کی تیل کی تمام برآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں۔ گزشتہ سال یہ روزانہ تقریباً 17 لاکھ (1.7 million) بیرل تھیں۔
​لیکن اس کے نئے رہنماؤں کو اب اپنی معیشت کی تباہی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ 1945 میں برلن کے بعد پہلی بار کسی ملک پر ایسے لوگوں کی حکومت ہے جو بمباری کے سائے میں ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ کسی بھی لمحے مارے جا سکتے ہیں۔
​امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے کئی اعلیٰ وزراء اور کمانڈروں کو ختم کر چکے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جو مرحوم آیت اللہ کے بیٹے ہیں اور سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں، جانتے ہیں کہ اگلی باری ان کی ہو سکتی ہے۔ جنرل وحیدی، جو پاسدارانِ انقلاب کے نئے کمانڈر ہیں، وہ بھی یہ جانتے ہیں—ان سے پہلے کے دو کمانڈر بھی مارے جا چکے ہیں۔
​اس لیے ان کے پاس صبر یا سمجھوتے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ان کے نقطہ نظر سے، اپنے خلیجی پڑوسیوں پر میزائل فائر کرنا اور آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک منطقی ردعمل ہے۔
​وہ امید کر رہے ہوں گے کہ توانائی کی مارکیٹ میں اس افراتفری سے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مہم ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ واحد تسلی کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہے۔"

شمالی کوریا دنیــا کے نقشے پر ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں۔ کوریا دو حصـــــــوں ...
04/03/2026

شمالی کوریا دنیــا کے نقشے پر ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں۔ کوریا دو حصـــــــوں میں تقسیم ہے۔۔۔ یعنی جنوبی کوریا اور شمالی کوریا۔ پہلے یہ ایک ملک تھا۔۔ پھر گھر کا معاملہ گلی محلے تک پہنچ گیا۔ دونوں لڑ پڑے اور الگ ہو گئے۔ سال 1950 میں انہوں نے اتنی سخت لڑائی لڑی تاریخ لکھتی کہ جنوبی کوریا کے ایک لاکھ ستر ہزار "فوجی" مـارے گئے اور لاکھوں زخمی ہوئے۔

آج شمالی کوریا کا صدر کم جونگ ان ہے،،، انتہائی بدمعاش شخص ہے وہ جو نظر آتا ہے ویسا ہے نہیں۔ اپنے ملک کی انتظامی مشینری پر اس کی گرفت بہت مضبوط ہے، جب باقی ممالک ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،، تو کم جونگ ان کو کہتے ہیں کہ میں کسی اور کی شرکت کے بغیر اپنے خاندان کے معاملات کی ذمہ دار ہوں۔۔۔ اگر میں اپنے خاندان کی عورتوں کو برقع پہن کر رکھوں اور بچوں کو گلی کے لڑکوں کی صحبت میں جانے سے روکوں، تو تم انکے بھائی اور ماموں کیوں بننا چاہتے ہو؟ شمالی کوریا کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے اس وجہ سے کسی سے نہیں ڈرتا۔

یہ ایک کمیونسٹ نظریہ کے حامل ملک ہے۔۔۔ اس کے پاس نہ صرف ایٹم بــم ہے بلکہ اس کے پاس ایسے میـــــــزائل بھی موجود ہے جو شمالی کـــوریا سے واشنگٹن ڈی سی امریکہ ہیٹ کرسکتے ہیں جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا،،،، اس وجہ سے امریکہ بھی ان سے نہیں جھگڑتے اور نہ ہی دھمکی وغیرہ دیتے ہیں ہر ماہ میزائل کے تجربات کرتے ہیں ان کے میزائلوں کے رینچ 25 ہزار کلومیٹر تک ہے،، اور ایسے میزائل پاکستان اور اسسرائیل کے پاس بھی نہیں ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر میـــزائل کے ساتھ ہر وقت جوہری وار ہیڈ منسلک ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک اس کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔۔۔ پھر امریکہ نے پاکستان کو اپنے پاس بٹھایا اور سمجھایا کہ اچھے بچے برے بچوں سے نہیں کھیلتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وجہ سے ہمارے درمیان وہ تعلقات ختم ہوگئے۔۔۔۔سمالی کوریا انتہائی مضبوط ملک ہے اور اسکی بنیادی وجہ ڈر ہے، عوام شمالی کوریا صدر کم جونگ ان سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں کیونکہ ہمارے طرف صرف سافٹ ویئر ابڈیٹ کرتے ہیں،، جب کہ کم جونگ ان سیدھا گولی مارتا ہے ان کے قانون میں معافی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے شمالی کورین اپنی مرضی سے بال نہیں کٹوا سکتے انہیں حکومت کی منظور شدہ ہئیر سٹائل ہی رکھنے کی اجازت ہے۔

شمالی کوریا میں نیلی جینز پہننا غیر قانونی ہے شمالی کوریا میں اگر کوئی بیرون ملک جانا چاہتا ہے،، تو اس کو حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے،، شمالی کوریا میں صرف دو تین چینلز ہی دیکھائے جاتے ہیں جو کہ سرکار کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔شمالی کوریا میں کسی بھی دین کی پیروی کرنا جرم ہے وہاں مسجد، چرچ اور مندر وغیرہ نہیں ہے،، شمالی کوریا میں کسی بھی بندے کا ملک سے باہر کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ رکھنا "غیر قانونی" ہے اور جو پکڑا گیا اس کی سزا صرف موت ہے

اس کے علاؤہ شمالی کوریا میں عام لوگ "انٹر نیٹ" استعمال نہیں کر سکتے اسکی اجازت صرف فوج میں کرنل اور جرنل کو حاصل ہیں اور وہ بھی رینڈم استعمال نہیں کرسکتے شمالی کوریا میں ہر گھر میں صدر کم جونگ ان کے باپ دادا کی "تصویر" لگانا اور اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے،،، دوسرے لوگوں کی تصویر لگانا جرم ہے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شـــمالی کوریا میں ہر پانچ سال بعد الیکش ہوتے ہیں مگر امیــــدوار صرف ایک ہی کھڑا ہوتا ہے اور وہ کوئی اور نہیں ہوتا، بلکہ اس "تصویر" میں نظر آنے والا شخص کم جونگ ہی ہوتا ہے ان کے مقابلے کے لیے "ایکشن" میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا سب ان سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

01/03/2026

کیلکولیٹر...😂💁‍♂️

بابا جی کے کلینک پر ایک شخص آیا اور کہا پیٹ میں بہت درد ھو رہا ھے...🤕💁‍♂️

بابا سمجھ گئے کہ اسے قبض ھے...🤔💁‍♂️

پھر بابا جی نے اس سے پوچھا :

گھر کتنی دور ھے تمھارا...؟

مریض : دو کلومیٹر

بابا نے کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور ایک بوتل میں سے چار چمچے دوائی نکال کر ایک کٹوری میں ڈالی...🙂💁‍♂️

بابا :

گاڑی سے آئے ھو یا چل کر...؟

مریض : چل کر 😕

بابا نے پھر سے کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور تھوڑی سی دوائی کٹوری سے واپس نکال لی..."

بابا : گھر کون سی منزل پر ھے...؟

مریض : تیسری منزل پر

بابا نے دوبارہ کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور کٹوری سے تھوڑی سی مزید دوا نکال لی..."

بابا : لفٹ سے جاؤ گے یا زینہ چڑھ کر...؟

مریض : زینہ سے

بابا نے ایک بار پھر کیلکولیٹر پر کچھ حساب مارا اور کٹوری سے تھوڑی اور دوا نکال لی..."

بابا جی نے کہا :

اب آخری سوال کا جواب دو، گھر کے مین گیٹ سے ٹائلٹ کتنی دور ھے...؟

مریض : 20 فٹ

بابا نے آخری بار کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور کٹوری سے تھوڑی دوا اور نکال لی..."

بابا :

اب میری دوا کے پیسے دے دو پہلے، پھر یہ دوا پیو، اور فٹا فٹ گھر کی طرف نکل لو۔ کہیں رکنا مت۔ پھر مجھے فون کرنا..." 🤔🤙

مریض نے ویسا ھی کیا،

آدھے گھنٹے بعد مریض کا فون آیا اور ایکدم ڈھیلی آواز میں بولا :

بابا جی دوا تو بہت اچھی تھی آپکی، مگر آپ اپنا کیلکولیٹر ٹھیک کروا لیں 🤕🥀

ھم دس فٹ سے ہار گئے...😁🤣

Rohaan 🖋️ 😂🙆‍♂️

یہ واقعہ اُن دنوں کا ہے جب ڈاکٹر اسرار احمد رمضان المبارک میں ایک جامعہ مسجد میں درسِ قرآن دیا کرتے تھے۔ رمضان کی شامیں ...
22/02/2026

یہ واقعہ اُن دنوں کا ہے جب ڈاکٹر اسرار احمد رمضان المبارک میں ایک جامعہ مسجد میں درسِ قرآن دیا کرتے تھے۔ رمضان کی شامیں تھیں، فضا میں روحانیت گھلی ہوئی تھی، مسجد کے صحن میں دسترخوان بچھ چکے تھے، کھجوریں، سموسے، پکوڑے اور شربت کے گلاس قطار میں رکھے تھے۔ مؤذن کی آواز سے پہلے سب کی نظریں آسمان پر جمی تھیں۔
اسی اثنا میں ایک بزرگ مسافر مسجد میں داخل ہوئے۔ سفید داڑھی، سادہ لباس، آنکھوں میں عجیب سی چمک۔ وہ خاموشی سے ایک ستون کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کسی نے پوچھا، “بابا جی! آپ مسافر معلوم ہوتے ہیں؟”
وہ مسکرائے، “ہاں بیٹا، اللہ کا مسافر ہوں۔”
افطاری کا وقت ہوا تو ایک نوجوان نے ادب سے پلیٹ ان کے سامنے رکھ دی۔ بزرگ نے پلیٹ کو دیکھا، پھر آہستہ سے کہا،
“بیٹا، یہ کھانا حرام ہے۔”
نوجوان چونک گیا، “حرام؟ بابا جی! یہ تو ہم نے حلال کمائی سے خریدا ہے۔”
بزرگ نے صرف اتنا کہا، “میں نہیں کھا سکتا۔”
بات پھیل گئی۔ کچھ لوگوں کو حیرت ہوئی، کچھ کو غصہ۔ ایک اور شخص فوراً اپنے گھر دوڑا اور خاص اہتمام سے کھانا لا کر پیش کیا۔ بزرگ نے اسے بھی دیکھا اور سر ہلا دیا،
“یہ بھی ناجائز اور حرام ہے۔”
اب مسجد میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ کسی نے کہا، “یہ کون سا بزرگ ہے جو سب کو حرام کہہ رہا ہے؟”
کسی نے شک کیا، “شاید یہ ہمیں آزمانے آیا ہے۔”
آخرکار ڈاکٹر صاحب کے ایک قریبی ساتھی نے کہا، “چلو میرے گھر سے کھانا لے آتے ہیں، میں خود نگرانی کرتا ہوں کہ سب کچھ پاکیزہ ہو۔” وہ تازہ روٹی، دال اور سادہ سبزی لے آیا۔ بڑی عقیدت سے بزرگ کے سامنے رکھا۔
بزرگ نے گہری نظر سے اسے دیکھا، پھر فرمایا،
“تیرا کھانا بھی حرام ہے۔”
اب صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔ کچھ نوجوانوں نے سخت لہجہ اختیار کیا،
“بابا جی! آخر آپ سب کو گناہگار کیوں بنا رہے ہیں؟ اگر کوئی کمی ہے تو بتائیں!”
مغرب کی نماز ادا ہوئی، پھر عشاء کا وقت قریب آ گیا۔ مسجد میں ایک بے چینی سی پھیل گئی۔ سب چاہتے تھے کہ اس معمّے کا حل معلوم ہو۔
نمازِ عشاء کے بعد ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے خود بزرگ کے پاس جا کر نہایت نرمی سے پوچھا،
“حضرت! آپ نے تینوں جگہوں کا کھانا حرام قرار دیا۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں شک نہ رہے۔”
بزرگ نے گہرا سانس لیا اور آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا۔
“پہلی پلیٹ جو میرے سامنے رکھی گئی، اس کے منتظم نے پچھلے ہفتے ایک غریب مزدور کی اجرت روکی تھی۔ جب مزدور نے مطالبہ کیا تو اسے ڈانٹ کر بھگا دیا۔ اس کے دل کی آہ اس کھانے میں شامل ہے۔”
مجمع خاموش ہو گیا۔ متعلقہ شخص کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
“دوسرا کھانا جس گھر سے آیا، اس کے مالک نے زکوٰۃ کا حساب کم بتایا۔ اس نے سمجھا کہ کوئی دیکھ نہیں رہا، مگر اللہ دیکھ رہا تھا۔”
وہ شخص بھی سر جھکا کر بیٹھ گیا۔
“اور تیسرے کھانے والے بھائی… تمہاری کمائی حلال ہے، مگر تم نے آج عصر کے بعد اپنے چھوٹے بھائی کو ماں کے سامنے ذلیل کیا، اس کا دل توڑا۔ جس رزق میں تکبر اور دل آزاری شامل ہو جائے، وہ روح کے لیے زہر بن جاتا ہے۔”
یہ سن کر مسجد میں ایسی خاموشی چھا گئی کہ جیسے سانسوں کی آواز بھی سنائی دے رہی ہو۔
بزرگ نے بات جاری رکھی،
“بیٹو! کھانا صرف گوشت اور روٹی کا نام نہیں۔ رزق کے ساتھ نیت، کردار اور دوسروں کے حقوق بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی کے آنسو، کسی کی بددعا یا کسی کا حق اس میں شامل ہو جائے تو وہ پیٹ تو بھر سکتا ہے، مگر دل کو نور نہیں دے سکتا۔”
ایک نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ کھڑا ہوا اور بولا،
“میں نے واقعی مزدور کی اجرت روکی تھی۔ میں کل ہی اس کا حق ادا کروں گا۔”
دوسرا شخص بولا،
“میں زکوٰۃ کا پورا حساب دوں گا اور توبہ کرتا ہوں۔”
تیسرے نے روتے ہوئے کہا،
“میں اپنے بھائی سے معافی مانگوں گا۔”
بزرگ نے مسکرا کر کہا،
“جب تک تم اپنے گناہوں کی اصلاح نہیں کرو گے، میرا روزہ تمہارے کھانے سے نہیں کھلے گا۔ میں مسافر ہوں، میرے لیے سوکھی روٹی اور پانی کافی ہے، مگر تم اپنے دلوں کو صاف کرو۔”
ڈاکٹر صاحب نے مجمع کی طرف دیکھا اور فرمایا،
“رمضان صرف بھوک کا نام نہیں، یہ محاسبۂ نفس کا مہینہ ہے۔ ہم سارا دن بھوکے رہتے ہیں مگر دوسروں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ اصل تقویٰ یہ ہے کہ ہمارا رزق بھی پاک ہو اور ہمارا رویہ بھی۔”
اُسی رات کئی لوگ اپنے گھروں کو لوٹے تو ان کے دل بدلے ہوئے تھے۔ کسی نے مزدور کو ڈھونڈ کر اس کی اجرت ادا کی، کسی نے زکوٰۃ کا بقایا حساب نکالا، کسی نے اپنے گھر والوں سے معافی مانگی۔
اگلے دن افطار سے پہلے وہی بزرگ دوبارہ مسجد میں آئے۔ اس بار وہی لوگ کھانا لے کر آئے، مگر ان کے چہرے ندامت اور عاجزی سے جھکے ہوئے تھے۔
بزرگ نے ایک لقمہ اٹھایا، آنکھیں بند کیں، اور فرمایا،
“آج یہ کھانا حلال ہے، کیونکہ اس میں توبہ کی مٹھاس اور حق کی خوشبو شامل ہے۔”
مسجد میں سکون کی لہر دوڑ گئی۔ سب نے محسوس کیا کہ اصل پاکیزگی برتنوں کی نہیں، نیتوں کی ہوتی ہے۔
رمضان ختم ہوا تو لوگ اس واقعے کو یاد کر کے کہتے تھے،
“ہم سمجھتے تھے حرام صرف گوشت کے ذبیحے میں ہوتا ہے، مگر معلوم ہوا کہ حرام دلوں کے رویوں میں بھی چھپ جاتا ہے۔”
کہانی کا پیغام یہ تھا کہ رزق کی حلت صرف ظاہری ذرائع سے نہیں بلکہ باطنی صفائی سے بھی جڑی ہے۔ اگر ہم کسی کا حق ماریں، کسی کو دکھ دیں، یا تکبر سے پیش آئیں تو ہماری عبادت کا ذائقہ پھیکا ہو جاتا ہے۔
اور یوں وہ مسافر بزرگ چلے گئے، مگر جامعہ مسجد کے نمازیوں کے دلوں میں ایک ایسا سبق چھوڑ گئے جو ہر رمضان انہیں یاد دلاتا رہا کہ
“اللہ کے ہاں صرف روزہ نہیں، نیت بھی قبول ہوتی ہے۔”
#ایمان #تقویٰ #رمضان

ہوٹل مالکان سے ہاتھ جھوڑ کر اپیل۔۔۔۔!!!گزشتہ روز رات تقریباً ڈیڑھ بجے کا وقت تھا میں جھال چکیاں ہوٹل خوشاب روڈ پر کھانا ...
12/02/2026

ہوٹل مالکان سے ہاتھ جھوڑ کر اپیل۔۔۔۔!!!
گزشتہ روز رات تقریباً ڈیڑھ بجے کا وقت تھا میں جھال چکیاں ہوٹل خوشاب روڈ پر کھانا کھا رہا تھا کہ اچانک میں نے ایک شخص کو دیکھا جو وہاں کھانا کھانے آیا تھا۔

شہری دیکھنے میں مڈل کلاس سے لگ رہا تھا اور سفید پوش انسان تھا وہ چائے کا آڈر دے کر بیٹھ گیا ویٹر کے آنے پر دال پلیٹ کا ریٹ پوچھا میں بغور سن رہا تھا کیونکہ میں ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا۔

ویٹر نے 280 روپے پر ہیڈ پلیٹ بتائی اس نے جیب سے پیسے نکالے اور چیک کئے ویٹر کو کہنے لگا کہ ہاف پلیٹ دال لائیں، ویٹر نے معذرت کی فل پیلٹ مل سکتی ہے ہاف کی اجازت نہیں ہے۔

اس نے کوئی بات نہیں کی بلکہ خاموشی سے روٹی کا آڈر دیا کہ چائے کے ساتھ روٹی لے آؤ میں بغور یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔

میں نے اسے بڑے پیار سے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی مگر اس نے نرمی سے معذرت کر لی، میں نے بہت ضد کی مگر وہ نہ مانا۔

خودار انسان تھا چائے کے ساتھ روٹی کھائی چہرے پر مسکراہٹ دیکھائی چلتا بنا، شاید کوئی مسافر تھا اس کے پاس کرایہ کم ہوگا تو اس نے کھانے سے بچت کر لی۔

میری تمام ہوٹلز مالکان سےگزارش ہے کھانا ہر کسی نے اتنا ہی ہے جتنی کسی کی اوقات ہو، دنیا کا مال یہیں رہ جانا ہے رات کے پچھلے پہر ہاف پلیٹ دال کا آپ نے کونسا محل بنا لینا تھا۔؟ وہ پیسوں سے لے رہا تھا کونسا فری مانگ رہا تھا اگر آپ دے دیتے تو کیا ہو جاتا۔؟

ہماری تمام ہوٹلز کے مالکان اور منیجرز سے گزارش ہے ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا اتنی سختی نہ کیا کریں، ویٹرز کو بھی سمجھائیں کوئی ایسا شخص ہو تو اس کو ایڈجسٹ کیا کریں

منقول

Address

Karachi
75500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abdul Rahim Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share