Sindh Adabi Academy Karachi - Saakhi

Sindh Adabi Academy Karachi - Saakhi Saakhi is working since 1995, and has published 50 plus books of renowned writers. We publish on de

28/03/2026
بولتا تو ہے ہر کوئی مگربولتا تو ہے ہر کوئی مگر…راستے بدلتے ہیں، دن رات بدلتے ہیں، لوگ بدلتے ہیں،ہر نظر، ہر مسکان، ہر خام...
27/03/2026

بولتا تو ہے ہر کوئی مگر
بولتا تو ہے ہر کوئی مگر…
راستے بدلتے ہیں، دن رات بدلتے ہیں، لوگ بدلتے ہیں،
ہر نظر، ہر مسکان، ہر خاموش لمحہ کچھ نیا سناتا ہے۔
مگر دل وہی رہتا ہے، جو کبھی خوشی میں گنگناتا ہے،
کبھی غم میں ٹوٹ کر روتا ہے،
اور کبھی امید کی روشنی میں جلتا ہے۔
دماغ بدلتا ہے، سوچیں بدلتی ہیں،
خیالات کے دریچے کھلتے اور بند ہوتے ہیں،
مگر اندر کی گہرائی میں وہی سوال رہتا ہے:
کیا میں نے جو چاہا، وہ حاصل کیا؟
کیا میں نے جو سوچا، وہ حقیقت بنی؟
یا یہ سب محض دنوں کی دھوپ، راتوں کی تاریکی میں دھندلا سا عکس ہے؟
زبان بدلتی ہے، الفاظ بدلتے ہیں، لب بدلتے ہیں،
مگر سچائی ہمیشہ چھپی رہتی ہے،
ایک خاموش صدا کی طرح،
جو کبھی دل کے کونے سے گزر کر کانوں میں سرگوشی کرتی ہے۔
بولتا تو ہر کوئی ہے مگر…
کسی کی ہنسی، کسی کی بات، کسی کا لمس،
صرف عارضی جھلک ہے، ایک لمحہ ہے جو گزر جائے گا،
اور صرف وہ لمحے رہ جائیں گے جو دل نے سنبھالے،
دماغ نے سوچے، زبان نے بیاں کیے۔
ہر “مگر” ایک پردہ ہے،
جو حقیقت کے سامنے کھلتا ہے،
اور جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے،
کہ بدلنا صرف ظاہری نہیں، اندر سے بھی ہونا چاہیے۔
کہ بولنا ہوتا آسان ہے، مگر دل، دماغ اور زبان سے ہم آہنگ ہونا مشکل۔
ہم سب بولتے ہیں، مگر وہ جو دل سے سچے ہیں،
دماغ سے صاف ہیں، اور زبان سے بے ساختہ،
وہی زندگی کی راہوں میں رہتے ہیں،
وہی ہمسفر بنتے ہیں،
اور وہی یادیں چھوڑتے ہیں، جو وقت کے بیچ میں کبھی مٹتی نہیں۔
بولتا تو ہے ہر کوئی مگر…
اور یہ “مگر” ہے جو ہمیں اپنے آپ سے ملواتا ہے،
جو ہمیں دوسروں کی گہرائی میں جھانکنے کا حوصلہ دیتا ہے،
اور جو ہمیں زندگی کی اصل حقیقت دکھاتا ہے۔
________________________________________

غزلکس نے کس کا دیا ساتھ کبھی چلے چلو جب تک چلے کوئیکس نے کس کا دیا ساتھ کبھیچلے چلو جب تک چلے کوئییہ جہاں ہے گزرگہوں کی ...
27/03/2026

غزل
کس نے کس کا دیا ساتھ کبھی
چلے چلو جب تک چلے کوئی

کس نے کس کا دیا ساتھ کبھی
چلے چلو جب تک چلے کوئی
یہ جہاں ہے گزرگہوں کی طرح
راہ میں کب ٹھہر سکے کوئی
دوستی کے چراغ جلتے ہیں
پھر بھی دل کو جلا گئے کوئی
وقت کے ہاتھ میں ہیں سب رشتے
کب یہاں دیر تک ملے کوئی
ہم نے مانا کہ ساتھ لازم ہے
پر کہاں عمر بھر رہے کوئی
زندگی اک سفر ہی ٹھہری ہے
رُک گیا تو پھر نہ چلے کوئی
ہم تو تنہا بھی چل پڑے آخر
چاہے ہمراہ ہو نہ ہو کوئی
دل نے آخر یہی سکھایا ہے
چلے چلو جب تک چلے کوئی۔

غزلفنا ہوکر ہی ملتی ہے منزلِ محبتیہی ہے آخری راہِ حاصلِ محبتجو اپنی ذات کے بت کو گرا نہیں سکتاوہ پا نہیں سکتا کبھی دلِ م...
27/03/2026

غزل
فنا ہوکر ہی ملتی ہے منزلِ محبت
یہی ہے آخری راہِ حاصلِ محبت
جو اپنی ذات کے بت کو گرا نہیں سکتا
وہ پا نہیں سکتا کبھی دلِ محبت
انا کی دھوپ میں جلتے رہے اگر ہم تو
کہاں نصیب ہو ٹھنڈا سا گلِ محبت
جو خود کو بھول کے جیتا ہے اک تبسم میں
وہی سمجھتا ہے اصل محفلِ محبت
یہ راستہ ہے چراغوں کا اور آنسو کا
یہاں پہ صبر ہی بنتا ہے دلِ محبت
مٹا کے خود کو ہی پایا ہے ہم نے آخرکار
عجب ہے راز، یہی ہے عملِ محبت
جو اپنی ہستی کو شمعوں کی طرح جلاتے ہیں
وہی تو بنتے ہیں آخر محلِ محبت
— شفَق

غزل: انسانی ہم آہنگیدلوں کے بیچ کوئی خامشی بولتی رہیمحبت کی کوئی نرم روشنی گھولتی رہیرگوں میں ایک انجانی سی خوشبو اتر گئ...
26/03/2026

غزل: انسانی ہم آہنگی
دلوں کے بیچ کوئی خامشی بولتی رہی
محبت کی کوئی نرم روشنی گھولتی رہی
رگوں میں ایک انجانی سی خوشبو اتر گئی
کوئی صدا تھی جو دل کو سکوں تولتی رہی
کبھی امید نے آ کر چراغوں کو جلا دیا
کبھی مسرت کی لہر روح کو دھوتی رہی
کسی کے لمس سے رگ رگ میں نرمی سی پھیل گئی
وفا کی خوشبو فضا میں مسلسل گھولتی رہی
کبھی تھکن نے بدن کو اندھیروں میں ڈھال دیا
مگر ہنسی کی کرن درد کو کھولتی رہی
یہ جسم جیسے محبت کی اک خاموش کہکشاں
جہاں حیات کی ندی دھیرے دھیرے ڈولتی رہی
شفقؔ یہ رازِ حیات آج ہم پر کھل گیا
کہ آدمی کو محبت ہی انسان بولتی رہی۔

غزلزندگی کو نئی تعبیر ملی تم سے مل کردل کو جینے کی پھر توقیر ملی تم سے مل کرخواب جو بکھرے ہوئے تھے مرے ویران دل میںان کو...
26/03/2026

غزل
زندگی کو نئی تعبیر ملی تم سے مل کر
دل کو جینے کی پھر توقیر ملی تم سے مل کر
خواب جو بکھرے ہوئے تھے مرے ویران دل میں
ان کو پھر روشنیِ تقدیر ملی تم سے مل کر
پہلے ہر دن تھا فقط وقت گزارا جیسے
ہر گھڑی اب کوئی تاثیر ملی تم سے مل کر
دل کے سنسان دریچوں میں ہوا نور سا کیوں
کون سی ایسی تنویر ملی تم سے مل کر
میری خاموشیوں کو بھی زباں ملنے لگی
بات کو ایک نئی تحریر ملی تم سے مل کر
رہِ دنیا میں اکیلا تھا بہت دیر سے میں
اک رفاقت کی سی زنجیر ملی تم سے مل کر
"شفَق" اب دل یہ گواہی بھی دیا کرتا ہے
زندگی کو نئی تفسیر ملی تم سے مل کر ✨

I Tremble for My CountryI tremble for my country, deep in thought,for justice is a flame that cannot be bought.Though sh...
21/01/2026

I Tremble for My Country
I tremble for my country, deep in thought,
for justice is a flame that cannot be bought.
Though shadows fall and wrongs abound,
the hand of God is steady, sound.
No corruption, cruelty, or hidden crime
can hide forever beyond the reach of time.
Though tyrants rule and greed may sleep,
divine justice stirs in waters deep.
The trembling comes not from despair,
but from knowing that truth is everywhere.
It waits, it watches, it will arise,
to meet deceit with patient eyes.
O nation, hear the silent call:
act with virtue, before the fall.
For what is sown in darkness now
will meet the light, and justice vow.
I tremble, yes, yet in this fear,
there lies a chance to see clear:
to stand for right, to guard, to fight,
for justice sleeps, but not for night.
The day will come, as sure as breath,
when truth awakens, and wrong meets death.
So tremble not in helpless dread,
but rise while justice treads ahead.
AKSHR

Address

Karachi
75600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sindh Adabi Academy Karachi - Saakhi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sindh Adabi Academy Karachi - Saakhi:

Shortcuts

Share

Category