Hamdard Naunehal

Hamdard Naunehal فین پیج ہمدرد نونہال

عزیز طلباء یہ دو الفاظ جو بولنے میں ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان کے مطلب میں بہت زیادہ فرق ہے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ زن کا ک...
21/08/2026

عزیز طلباء یہ دو الفاظ جو بولنے میں ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان کے مطلب میں بہت زیادہ فرق ہے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ زن کا کیا مطلب ہے زن کا مطلب ہوتا ہے عورت۔ آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ ہمارے پٹھانوں میں لڑائیاں زر زن اور زمین کی وجہ ہوتی ہیں زر پیسے کو کہتے ہیں زن عورت کو کہتے ہیں زمین تو بس زمین ہوتی ہے نیز کچھ لوگ جو بیوی کی بہت زیادہ بات مانتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ زن مُرید ہے
اس کے بعد ہم ظن کو لیتے ہیں ظن کا مطلب گمان ہوتا ہےاپ نے اکثر سنا ہوگا کہ جب کوئی کسی ادمی کو کہتا ہے کہ وہ بہت اچھا ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ اس کا حسن ظن ہے یعنی یہ اس کا میرے متعلق نیک گمان ہے اور کبھی کبھی لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے فلاں آدمی کو اس طرح کی باتیں کہی ہیں کہ جس سے وہ آدمی دوسرے سے بدظن ہو گیا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کے دل میں بدگمانی آ گئی ہے اُمید ہے کہ عزیز طلباء اب زن اور ظن کا مطلب بخوبی سمجھ گئے ہوں گے.

21/08/2026
چوکنڈی قبرستان: تاریخ، فنِ تعمیر اور ثقافتی ورثہچوکنڈی قبرستان (Chaukhandi Tombs) سندھ کے تاریخی اور فنی ورثے کا ایک انت...
20/08/2026

چوکنڈی قبرستان: تاریخ، فنِ تعمیر اور ثقافتی ورثہ
چوکنڈی قبرستان (Chaukhandi Tombs) سندھ کے تاریخی اور فنی ورثے کا ایک انتہائی اہم اور انمول شاہکار ہے۔

کراچی سے تقریباً 29 کلومیٹر کے فاصلے پر نیشنل ہائی وے (قومی شاہراہ) کے قریب واقع یہ قبرستان اپنے منفرد طرزِ تعمیر، سنگِ تراشی کے شاہکار اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر کے مؤرخین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

1. جغرافیائی محل وقوع اور تعارف
یہ تاریخی قبرستان کراچی سے ٹھٹھہ جانے والے راستے پر، ملتان کے قریب ایک ویران اور پرسکون علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ "چوکنڈی" کا نام اس کے مقبروں اور مزارات کی مخصوص چوکڑی (چار کونوں والی) ساخت کی وجہ سے پڑا۔ یہ قبرستان محض چند قبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ کئی ایکڑ پر پھیلا ہوا ایک وسیع تاریخی احاطہ ہے جہاں سینکڑوں کی تعداد میں قدیم مقبرے اور قبریں موجود ہیں۔

2. تاریخی پس منظر اور دورِ حکومت
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق چوکنڈی قبرستان میں موجود بیشتر مقبرے اور قبریں 15ویں سے 18ویں صدی عیسوی کے دوران مغل دورِ حکومت میں تعمیر کی گئی تھیں۔

قبائل اور شخصیات: یہاں دفن ہونے والے افراد کا تعلق زیادہ تر سندھ اور بلوچستان کے مقامی قبائل (خصوصاً جوکھیو، بلوچ اور دیگر قبائل) سے تھا۔

تاریخی دور: یہ وہ دور تھا جب اس خطے پر مقامی سرداروں اور قبائلی عمائدین کی حکمرانی تھی، جنہوں نے اپنی طاقت، مرتبے اور سماجی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے ان شاندار اور مرصع مزارات کی بنیاد رکھی۔

3. فنِ تعمیر اور سنگِ تراشی کا کمال
چوکنڈی قبرستان کی اصل وجہِ شہرت یہاں کی بے مثال پتھر کی تراش خراش (Stone Carving) ہے۔ اس دور کے ماہر کاریگروں نے پیلے رنگ کے ریتلے پتھر (Sandstone) پر جو نقوش تراشے ہیں، وہ اسلامی اور مقامی سندھی ثقافت کا حسین امتزاج ہیں۔


پیرامڈ نما ساخت: قبریں عام طور پر زمین سے اونچے چبوتروں پر بنائی گئی ہیں جن پر پتھر کے سلیب ایک کے اوپر ایک رکھے جاتے ہیں، جس سے یہ اوپر کی طرف تنگ ہوتے ہوئے ایک مینار یا پیرامڈ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

نقوش و نگار:

مردوں کی قبریں: مردوں کی قبروں پر عام طور پر گھڑ سوار (Horse Rider)، تلوار، ڈھال، نیزے اور پگڑی کی شکل کے آثار یا نقوش بنے ہوتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ متوفی ایک بہادر جنگجو یا سردار تھا۔

عورتوں کی قبریں: خواتین کی قبروں پر انتہائی خوبصورت زیورات (ہار، بالیاں، کنگن) اور کپڑوں کے خوبصورت نقوش تراشے گئے ہیں۔

جیومیٹریکل پیٹرنز: اس کے علاوہ پھولوں، بیل بوٹوں، اور جیو میٹریکل ڈیزائنز کی دلکش نقاشی کی گئی ہے جو کاریگروں کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
4. یونیسکو (UNESCO) عالمی ورثہ کی فہرست
چوکنڈی قبرستان کی تاریخی، ثقافتی اور فنی اہمیت کے پیشِ نظر اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

عارضی فہرست: سال 1993ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے اسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage Site) کی عارضی فہرست میں شامل کیا گیا۔

محفوظ ورثہ: محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ اس کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے مختلف اقدامات کرتا آ رہا ہے تاکہ یہ قیمتی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔
5. تاریخی اور ثقافتی اہمیت
یہ قبرستان صرف پتھروں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ برصغیر کے ماضی کی ایک روشن کتاب ہے۔

یہ ہمیں اس دور کے قبائلی نظام، سماجی ڈھانچے، لباس، ہتھیاروں اور فنِ تعمیر کے بارے میں گہری معلومات فراہم کرتا ہے۔

اسلامی اور قبل از اسلام کے مقامی فنون کے عناصر کا یہ امتزاج دنیا میں انتہائی نایاب ہے، اسی لیے یہ مورخین کے لیے تحقیق کا ایک بہترین مرکز ہے۔
اختتام
چوکنڈی قبرستان ہمارے ماضی کی شان و شوکت اور سنگ تراشی کے فن کا ایک لازوال باب ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی عوامل اور موسمی اثرات کی وجہ سے ان پتھروں پر بنے نقوش مدہم ہو رہے ہیں، جنہیں بچانے کے لیے مزید مؤثر اور فوری حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو تاریخ اور قدیم فنون سے شغف ہے، تو چوکنڈی قبرستان کا دورہ کرنا ایک انتہائی پرلطف اور معلوماتی تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عزیز طلباء آئیے ان دو ملتے جلتے الفاظ کے درمیان فرق کو جانتے ہیں پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ بے پروا ہو یا لاپروا  ان کے ...
17/08/2026

عزیز طلباء آئیے ان دو ملتے جلتے الفاظ کے درمیان فرق کو جانتے ہیں پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ بے پروا ہو یا لاپروا ان کے آخر میں ہ نہیں آتا
پروا فارسی زبان کا لفظ ہے اس کا مطلب ہوتا ہے اندیشہ خوف ڈر فکر اب ان کے جملوں کو پہلے دیکھ لیں اور پھر آپ کو خود ہی سمجھ آ جائے گا کہ ان کے درمیان باریک فرق کیا ہے پہلے بے پروا کے جملوں کو دیکھ لیں
1. فوجی گولیوں کی بارش میں بھی بے پروا کھڑا رہا۔
2. شکاری کانٹوں بھری جھاڑیوں میں بے پروا گھس گیا۔
اب لاپروا کے جملوں کو دیکھیں
ڈرائیور کی لاپرواہی سے راہگیر زخمی ہو گیا
ڈاکٹر کی لاپرواہی سے بچہ موت کے منہ میں جاتے جاتے بال بال بچ گیا
اب ان دونوں قسم کے جملوں کو دیکھ کر آپ کی سمجھ میں آ گیا ہوگا کہ بے پروا میں ایک قسم کی بہادری کا عنصر شامل ہوتا ہے جہاں پر انسان اپنی جان کی پروا نہیں کرتا جب کہ لاپروا میں ایک سستی غفلت کوتاہی شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے کسی کی جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے
بس یہی ہے فرق بے پروا اور لاپروا میں اُمید ہے عزیز طلباء سمجھ گئے ہوں گے۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vaf3Qvp84OmGkr6hWN1T

نصابی کتاب
16/08/2026

نصابی کتاب

Address

Nazimabad No 03
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamdard Naunehal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share