Signature Property & Construction

Signature Property & Construction Signature Properties & Construction

We Deals Scheem 33 Societes Plots Houses Portion Flats & Clear Lands

Ali Hassan Jutt
03122765403

پہاڑوں کی چٹانیں آج بھی گواہی دے رہی ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت کس قدر حسین، عدل و ا...
14/06/2026

پہاڑوں کی چٹانیں آج بھی گواہی دے رہی ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت کس قدر حسین، عدل و انصاف پر مبنی اور انسانیت کی فلاح کے لیے وقف تھا۔

آج سے تقریباً 1400 سال بعد بھی لوگوں کے ہاتھوں لکھی گئی عبارتیں زندہ ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس عظیم خلیفہ کے لیے لوگ ہر لمحہ دعا گو رہتے تھے اور ان سے محبت رکھتے تھے۔

سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے المہد میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے ایک نایاب اور قدیم چٹانی کتبہ دریافت کیا ہے جس پر یہ الفاظ درج ہیں:

"اللہ ولی عمر بن الخطاب فی الدنیا والآخرۃ، لا إلہ إلا اللہ"

یعنی:
"اللہ دنیا اور آخرت میں عمر بن الخطاب کا مددگار اور کارساز ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔"

ماہرین کے مطابق یہ تحریر ابتدائی اسلامی دور کی یادگار ہے اور حجازی رسم الخط میں لکھی گئی ہے، جو عربی رسم الخط کی قدیم ترین اقسام میں شمار ہوتا ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: "اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام میں سے جس کے ذریعے چاہے عزت عطا فرما۔" پھر اللہ تعالیٰ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اسلام کے لیے منتخب فرمایا۔ آپؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کو وہ قوت اور استحکام حاصل ہوا جس کا اثر تاریخ کے صفحات میں آج بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ احادیث کی کتابیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہوا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا خوفِ خدا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے متعدد مواقع پر آپؓ کو جنت کی بشارت عطا فرمائی، مگر اس کے باوجود آپؓ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے اس قدر خوفزدہ رہتے تھے کہ آخرت کے تصور سے لرز اٹھتے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے رازدار صحابی تھے، منافقین کے نام جانتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور نہایت عاجزی سے دریافت کیا کہ کہیں ان منافقین میں عمر کا نام تو شامل نہیں؟ یہ سوال ایک عام انسان کا نہیں بلکہ اس شخص کا تھا جو اُس وقت دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں میں سے ایک کا حکمران تھا۔ لیکن خوفِ خدا نے اسے ہمیشہ عاجز اور جواب دہ محسوس کروایا۔

اللہ اکبر! یہ وہ امیر المؤمنین تھے جن کی حکومت نصف دنیا تک پھیل چکی تھی، مگر ان کی سادگی ایسی تھی کہ اقتدار ان کے رہن سہن کو بدل نہ سکا۔ ان کے لباس پر پیوند ہوتے تھے، ان کا طرزِ زندگی عام مسلمانوں جیسا تھا، اور انہوں نے کبھی شاہانہ زندگی اختیار نہیں کی۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کئی مرتبہ اصرار کیا کہ آپ اپنے لباس اور طرزِ زندگی میں کچھ تبدیلی فرمائیں تاکہ بیرونی وفود پر اسلامی ریاست کا رعب قائم ہو، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سادگی کو ترجیح دی۔ یہاں تک کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس حوالے سے مشورہ دیا، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عاجزی اور سادگی اپنی جگہ قائم رہی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کبھی اپنے منصب سے ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی اپنے خاندان کے کسی فرد کو ناجائز طور پر آگے بڑھنے دیا۔ جب اپنی وفات کے وقت خلافت کے مسئلے پر غور کیا تو اپنے کسی بیٹے، بھائی یا قریبی رشتہ دار کو جانشین مقرر نہیں کیا، بلکہ چھ رکنی شوریٰ تشکیل دی جس میں جلیل القدر صحابۂ کرام شامل تھے تاکہ امت مشورے سے اپنا خلیفہ منتخب کرے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ، جو عشرہ مبشرہ میں شامل تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے، انہیں اس شوریٰ میں شامل نہیں کیا گیا تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ رشتہ داری کی بنیاد پر کسی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اسی طرح اپنے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں واضح فرمایا کہ انہیں مشورے میں شامل رکھا جا سکتا ہے مگر خلافت کے لیے امیدوار نہ بنایا جائے۔ اقتدار کے معاملے میں ایسی دیانت اور غیر جانبداری انسانی تاریخ میں بہت کم نظر آتی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیت المقدس فتح ہوا، فارس کی ساسانی سلطنت شکست سے دوچار ہوئی، رومی سلطنت کو بڑے بڑے معرکوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اور اسلامی ریاست ایک عظیم عالمی طاقت بن کر ابھری۔ لیکن ان تمام فتوحات کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی توجہ اپنے رب کی رضا اور اپنی رعایا کی خدمت پر مرکوز رہی۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عدل کا اعتراف صرف مسلمانوں نے ہی نہیں بلکہ غیر مسلم مؤرخین اور مفکرین نے بھی کیا۔ آج بھی دنیا بھر میں "عمر کے عدل" کی مثال دی جاتی ہے۔ بہت سے غیر مسلم مصنفین نے ان کے نظامِ حکومت، احتساب اور عوامی فلاح کے اصولوں کو مثالی قرار دیا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخصیت کے عدل، دیانت، تقویٰ اور خدمات کا اعتراف دوست اور دشمن سب کرتے ہیں، اسی عظیم ہستی کے بارے میں بعض نام نہاد مسلمان نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ تاریخ کا انصاف یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی شخصیات انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہوتی ہیں۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب ایک مجوسی غلام، ابو لؤلؤ فیروز نے نمازِ فجر کے دوران آپؓ پر حملہ کر دیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امت کے معاملات، خلافت کے مستقبل اور مسلمانوں کی بھلائی کے بارے میں اپنی آخری نصیحتیں جاری رکھیں۔ آپؓ چند روز تک زندہ رہے اور پھر اپنے رب سے جا ملے، مگر جاتے جاتے بھی امت کو انتشار سے بچانے کا سامان کر گئے۔

آج صدیوں بعد دریافت ہونے والی یہ چٹانی تحریر صرف چند الفاظ نہیں، بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے زمانے میں لوگوں کے دلوں میں کس قدر عظیم مقام رکھتے تھے۔ ان کے لیے دعائیں لکھی گئیں، ان کی محبت چٹانوں پر نقش کی گئی، اور آج 1400 سال بعد بھی وہ نقوش باقی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے بے شمار حکمران دیکھے، مگر عدل میں عمر، سادگی میں عمر، دیانت میں عمر، احتساب میں عمر اور خوفِ خدا میں عمر جیسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مسلمان ہوں یا غیر مسلم، لوگ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے حکمران کی خواہش رکھتے ہیں۔
رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ۔
القلم | محمد فیاض قریشی۔

پولیس محکمے میں 24 سال نوکری مکمل کرنے کے بعد ایک کانسٹیبل رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لے رہا تھا ایس پی کافی دیر تک اسے ...
04/06/2026

پولیس محکمے میں 24 سال نوکری مکمل کرنے کے بعد ایک کانسٹیبل رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لے رہا تھا ایس پی کافی دیر تک اسے سمجھاتے رہے لیکن کانسٹیبل ریٹائرمنٹ پر بضِد رہا ایس پی نے آخر کار کانسٹیبل سے پوچھا کہ جب تمہیں اس نوکری سے سب کچھ مل رہا ہے تو پھر تم یہ نوکری چھوڑنے پر آخر کیوں بضِد ہو کانسٹیبل نے مسکراتے ہوئے ایس پی کو نہایت سادہ جواب دیا سر آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں اب میں جوان نہی رہا اور آپ کے سامنے اتنی کرسیاں خالی پڑی ہیں لیکن پھر بھی آپ مجھے دو گھنٹے تک اٹینشن میں کھڑا رکھ کر سمجھاتے رہے بس یہی وجہ ہے کہ میں یہ نوکری چھوڑ رہا ہوں۔”
"اگر تعلیم اور عہدہ آپکو انسانیت کا احساس نہیں سکھاتی تو آپکی تعلیم، تعلیم نہیں جہالت ہے"

🚀 Investor Deal: Premium FL Plot for Sale in Gulshan-e-Maymar​📍 Property Overview​Location: Sector Z-1, Gulshan-e-Maymar...
30/05/2026

🚀 Investor Deal: Premium FL Plot for Sale in Gulshan-e-Maymar
​📍 Property Overview
​Location: Sector Z-1, Gulshan-e-Maymar, Karachi
​Plot Type: FL (Flats Category Only)
​Size: 1,176 Sq. Yards
​Approval Status: Ground + 15 Floors Approved
​Restriction: Purely Residential (Shops/Commercial ground floor not allowed)
​💰 Financial Breakdown
​Demand Rate: ₨ 125,000 per Sq. Yard
​Total Plot Value: ₨ 147,000,000 (14.7 Crore)

خانہ کعبہ، سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں واقع اسلام کا مقدس ترین مقام اور مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف دنیا بھر کے مس...
29/05/2026

خانہ کعبہ، سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں واقع اسلام کا مقدس ترین مقام اور مسلمانوں کا قبلہ ہے، جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔

یہ مقدس گھر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی تعمیر سے منسوب ہے اور اسے اللہ کا پہلا گھر قرار دیا جاتا ہے۔

ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کی ادائیگی کیلئے یہاں حاضری دیتے ہیں، جہاں طوافِ کعبہ اسلام کا اہم ترین رکن سمجھا جاتا ہے۔

مسجد الحرام میں واقع یہ مقدس مقام مسلمانوں کے اتحاد، عقیدت اور روحانی وابستگی کی علامت ہے۔

26/05/2026
🌸🕋 حج 2026 🕋🌸کالے سے گورے تک،فقیر سے بادشاہ تک…سب اللہ کے حضور ایک صف میں۔🌹“ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز،”“نہ ...
26/05/2026

🌸🕋 حج 2026 🕋🌸

کالے سے گورے تک،
فقیر سے بادشاہ تک…
سب اللہ کے حضور ایک صف میں۔

🌹
“ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز،”
“نہ کوئی بندہ رہا، نہ کوئی بندہ نواز۔”
🌹

مکہ مکرمہ سے محبت، اخوت اور برابری کا عظیم پیغام۔

*وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ**اور اللّٰہ بہترین رزق دینے والا ھے*    ** 🏭🏕️🏡⛺🏘️⛪ ** *For Sale / Purchase & Constructi...
23/05/2026

*وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ*
*اور اللّٰہ بہترین رزق دینے والا ھے*
** 🏭🏕️🏡⛺🏘️⛪ **
*For Sale / Purchase & Construction Services*

*Punjabi Saudagaran*
*Incholi Society*
*Queta Town 18/A*
*Pak Ideal*
*Ghandhara Society*
*Radio Society*
*Zeenatabad Society*
*Hansa Society*
*Capital Society*
*Karachi Bars 24/A 25/A & 27/A*
*Saadi Town & Saadi Garden*

*Property Consultant & Construction Services*

*Ali Hassan Saroya Jutt*
*0312-2765403*

Address

Scout Colony Scheem 33
Karachi
75300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Signature Property & Construction posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share