13/08/2026
وطنِ پاکستان کی آزادی اور ہمارے نوجوان
تحریر: کاشف نظامی
14 اگست صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ یہ ہمارے لیے آزادی، قربانی اور قومی عزم کی علامت ہے۔ پاکستان ایک طویل جدوجہد، بے شمار قربانیوں اور لاکھوں لوگوں کی ہجرت کے بعد معرضِ وجود میں آیا۔ آج جب ہم آزاد وطن میں سانس لیتے ہیں تو ہمیں یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم نے اس آزادی کی قدر کتنی کی؟
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اس ملک کا حال بھی ہیں اور مستقبل بھی۔ آج کا طالب علم، ہنر مند، مزدور، کاروباری نوجوان، صحافی، استاد اور سرکاری و نجی اداروں میں کام کرنے والا نوجوان ہی کل پاکستان کی قیادت کرے گا۔
لیکن افسوس کہ ہمارے بہت سے نوجوان تعلیم، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کے بجائے بے روزگاری، مایوسی، منفی سیاسی تقسیم اور سوشل میڈیا کی غیر ضروری بحثوں میں الجھ رہے ہیں۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف آزادی کے دن جھنڈے اٹھانے تک محدود نہیں کرنا، بلکہ انہیں ملک کی تعمیر میں عملی کردار ادا کرنے کا موقع دینا ہوگا۔
آزادی کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے قانون کا احترام کریں، ایمانداری سے اپنا کام کریں، ٹیکس ادا کریں، تعلیم حاصل کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، جھوٹ اور کرپشن سے دور رہیں اور اپنے وطن کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں۔
نوجوان اگر کتاب سے دوستی کریں، جدید علوم اور ٹیکنالوجی سیکھیں، تحقیق اور ہنر کو اپنائیں اور اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں تو پاکستان کو دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شامل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ہمیں اپنے نوجوانوں سے صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ’’پاکستان ہمارا ہے‘‘ بلکہ انہیں یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ پاکستان کی تعمیر کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔
آج آزادی کے دن ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم نفرت نہیں، شعور پھیلائیں گے؛ مایوسی نہیں، امید پیدا کریں گے؛ قانون شکنی نہیں، قانون کی پاسداری کریں گے اور شکایت کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کی ذمہ داری بھی ادا کریں گے۔
پاکستان ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے، لیکن اس کی حفاظت اور ترقی ہماری آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے۔
آئیے اس یومِ آزادی پر صرف جشن نہ منائیں، بلکہ اپنے کردار سے ثابت کریں کہ ہم واقعی اس آزاد وطن کے ذمہ دار شہری ہیں۔
پاکستان زندہ باد!