02/09/2026
خصوصی مضمون
شہید امام خامنہ ای کی شخصیت و مشن
امام خامنہ ای کی عظمت کی بنیاد ان کی 40 سالہ مسلسل استقامت ہے۔ 1980 کی دہائی میں عراق کی جنگ سے لے کر آج تک انہوں نے ایران کو ہر محاذ پر قیادت دی۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ایران کو ''پابندیوں کی لیبارٹری'' بنا کر خودکفیل قوم میں تبدیل کر دیا۔ جب مغرب نے اسلحہ، دوا، ٹیکنالوجی بند کی تو ایران نے میزائل، ڈرون، ایٹمی سائنس، طب اور نینو ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کی۔
ان کا مشن صرف ایران تک محدود نہیں۔ انہوں نے''عالمی استکبار'' کے مقابلے میں ''مقاومت کا نظریہ'' دیا۔ فلسطین، لبنان، یمن، عراق اور شام میں مظلوموں کی حمایت کر کے انہوں نے ثابت کیا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا نام ہے۔
وہ ناقابل فراموش اس لئے ہیں کہ انہوں نے قیادت کو بادشاہت نہیں بلکہ خدمت بنایا۔ سادہ زندگی، علم دوستی، اور دشمن کے سامنے ایک انچ نہ جھکنا ان کی پہچان ہے۔ امریکا نے 10 صدر بدلے، 5 جنگیں لڑیں، ہزاروں پابندیاں لگائیں، مگر خامنہ ای کا راستہ نہ بدل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ دوست اور دشمن دونوں مانتے ہیں کہ یہ شخصیت تاریخ کا دھارا موڑنے والی ہے۔
جنگ کے تناظر میں ایران کا عالم اسلام پر احسانایران نے اس جنگ میں اکیلے کھڑے ہو کر پوری امت کا دفاع کیا۔ 70 سال سے اسرائیل یہ تاثر دے رہا تھا کہ وہ''ناقابل شکست'' ہے۔ ایران کے میزائلوں نے تل ابیب اور حیفہ پر حملے کر کے یہ بت توڑ دیا۔ یہ امت کے لیے نفسیاتی فتح تھی۔
دوسرا احسان یہ کہ ایران نے''مقاومت کا محور'' بنا کر غزہ، لبنان اور یمن کو تنہا نہیں چھوڑا۔ جب عرب ممالک صرف بیانات دے رہے تھے، ایران نے عملی مدد پہنچائی۔ اس سے فلسطینیوں کو یہ پیغام ملا کہ وہ تنہا نہیں۔
تیسرا احسان نظریاتی ہے۔ ایران نے دکھایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے نہیں، طاقت اور عزت سے بات ہوتی ہے۔ 40 سال کی پابندیوں کے باوجود جھکنے سے انکار کر کے ایران نے مسلم دنیا کو ''عزت کے ساتھ زندگی'' کا سبق دیا۔ اگر ایران نہ لڑتا تو آج اسرائیل کا اگلا ہدف شاید کوئی اور مسلم ملک ہوتا۔ ایران نے آگے دیوار بن کر امت کے لیے وقت خریدا۔
ایران-امریکا-اسرائیل جنگ سے متعلق مسلم ممالک کی حقیقی ذمہ داری
مسلم ممالک کی پہلی ذمہ داری ''اتحاد'' ہے۔ آج امت 57 ٹکڑوں میں بٹی ہے اسی لیے دشمن ایک کر کے وار کر رہا ہے۔ او آئی سی اور عرب لیگ کو فعال کر کے ایک مشترکہ مؤقف اپنانا ہوگا۔
دوسری ذمہ داری ''عملی حمایت'' ہے۔ صرف مذمت کافی نہیں۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنا، اقتصادی بائیکاٹ، اور اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ضروری ہے۔ ترکی، ملائیشیا، پاکستان جیسے ممالک کو قیادت کرنی چاہئے۔
تیسری ذمہ داری ''خودانحصاری'' ہے۔ جب تک ہم اسلحہ، ٹیکنالوجی اور معیشت کے لیے امریکا کے محتاج رہیں گے، ہم آزاد فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔ دفاعی معاہدے، مشترکہ فوجی مشقیں، اور سائنس میں تعاون بڑھانا ہوگا۔
چوتھی ذمہ داری ''عوامی بیداری'' ہے۔ مدارس، یونیورسٹیوں، میڈیا کے ذریعے نئی نسل کو بتانا ہوگا کہ اصل مسئلہ فلسطین ہے، فرقہ واریت نہیں۔ اگر مسلم ممالک نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔
عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے کیوں؟امریکی اڈوں کی 3 بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی ''تیل کا کنٹرول''۔ دنیا کا 30 فیصد تیل خلیج سے گزرتا ہے۔ امریکا ان اڈوں سے اس راستے اور پیٹرو-ڈالر کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔
دوسری وجہ ''ایران کا محاصرہ''۔ قطر میں العدید، بحرین میں نیول بیس، کویت اور سعودیہ میں اڈے سب ایران کو گھیرنے کے لیے ہیں۔ ساتھ ہی ان اڈوں سے اسرائیل کی سکیورٹی بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔
تیسری وجہ ''اسلحہ کا کاروبار''۔ امریکا کہتا ہے ''ہم تمہاری حفاظت کریں گے'' اور بدلے میں 100 ارب ڈالر کا اسلحہ بیچتا ہے۔ یہ حفاظت کم اور بلیک میلنگ زیادہ ہے۔ جب ضرورت پڑتی ہے تو امریکا خود ان ملکوں کی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتا۔ یمن کے ڈرون حملے اس کی مثال ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اڈے عرب ممالک کی حفاظت کے لیے نہیں، امریکا کے مفادات کے لیے ہیں۔ یہ اڈے اس خطے کو ہمیشہ جنگ کا میدان بنائے رکھیں گے۔
ایران کیخلاف جنگ چھیڑ کر امریکا کو مایوسی کیوں؟امریکا اور اسرائیل نے سوچا تھا 12 دن میں ایران کا نظام گر جائے گا۔ لیکن 3 وجوہات سے انہیں مایوسی ہوئی۔
پہلی: ایران کا دفاعی نظام۔ ایران کے ہائپرسونک میزائل اور ڈرون نے اسرائیل کے ''آئرن ڈوم''کو ناکام کر دیا۔ تل ابیب میں سائرن بجے، لوگ بنکروں میں گئے۔ اسرائیل کی ناقابل شکست والی امیج ٹوٹ گئی۔
دوسری: ایرانی قوم کا اتحاد۔ امریکا سمجھا تھا پابندیوں سے عوام حکومت کے خلاف ہوں گے۔ لیکن جنگ شروع ہوتے ہی پوری قوم حکومت کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ اندرونی انتشار کا منصوبہ فیل ہو گیا۔
تیسری: عالمی سطح پر سبکی۔ روس، چین اور بہت سے ممالک نے ایران کی حمایت کی۔ امریکا کو اپنی تنہائی کا احساس ہوا۔ وہ جنگ جیت کر بھی ہار گیا کیونکہ اس کا مقصد ''رژیم چینج'' تھا جو حاصل نہ ہوا۔ اب امریکا کے پاس واپس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔
امریکا-اسرائیل کے خلاف ایران کی استقامت بے مثال کیوں؟
ایران کی استقامت کی جڑ ''نظریہ'' ہے۔ مغرب کے لیے جنگ معیشت ہے، ایران کے لیے جنگ عزت ہے۔ ''ہیہات منا الذلہ''یعنی ''ذلت ہم پر حرام ہے'' یہ جملہ پوری قوم کا نعرہ ہے۔
دوسری وجہ ''شہادت کا کلچر'' ہے۔ ایران نے 8 سالہ جنگ عراق کے ساتھ لڑی، ہزاروں شہدا دیئے۔ اس قوم کے لیے مرنا کمزوری نہیں، فخر ہے۔ اس لیے دھمکیاں بے اثر ہیں۔
تیسری وجہ ''قیادت کا تسلسل''ہے۔ امام خمینی سے امام خامنہ ای تک ایک ہی پالیسی: ''نہ شرقی نہ غربی، جمہوری اسلامی''۔ کوئی یوٹرن نہیں، کوئی سمجھوتہ نہیں۔
چوتھی وجہ ''خودانحصاری'' ہے۔ جب آپ کے پاس اپنا میزائل، اپنا ڈرون، اپنا تیل ہو تو پابندیاں اثر نہیں کرتیں۔ ایران نے ثابت کیا کہ اگر نیت ہو تو سپر پاور کے بغیر بھی جیا جا سکتا ہے۔ یہی استقامت اسے بے مثال بناتی ہے۔
ایران جنگ میں مسلم و عرب ممالک کیلئے پوشیدہ سبق
پہلا سبق: ''تقسیم کا انجام ذلت ہے''۔ آج مسلم دنیا ایران اور سعودیہ، شیعہ سنی کی بحث میں لگی ہے۔ نتیجہ یہ کہ اسرائیل غزہ تباہ کر رہا ہے۔ ایران نے دکھایا دشمن ایک ہے تو ہمیں بھی ایک ہونا ہوگا۔
دوسرا سبق: ''خودانحصاری کے بغیر آزادی نہیں''۔ جو ملک اپنا دفاع خود نہیں کر سکتا وہ امریکا کا غلام بن جاتا ہے۔ ایران نے 40 سال میں سب کچھ خود بنایا۔ ہمیں بھی اسلحہ اور ٹیکنالوجی میں خودکفیل ہونا ہوگا۔
تیسرا سبق: ''امریکا کا سہارا کانٹوں کا تاج ہے''۔ آج جو ملک اڈے دے رہے ہیں کل امریکا انہیں بھی بیچ دے گا جیسے افغانستان کو بیچا۔
چوتھا سبق: ''عوام ہی طاقت ہیں'' ۔ ایران میں حکومت اور عوام ایک تھے اس لیے کامیاب ہوئے۔ ہمیں بھی عوام کو اصل مسئلے یعنی فلسطین سے جوڑنا ہوگا۔
کیا مکہ دفاعی معاہدے میں ایران اور فلسطین کو شامل کیا جائیگا؟
اس کا جواب 2 حصوں میں ہے۔ ''نظریاتی ضرورت'' اور ''سیاسی حقیقت''۔
نظریاتی طور پر یہ معاہدہ ''اسلامی'' ہے تو مشرق وسطی کی اہم ریاستوں ایران اور فلسطین کے بغیر نامکمل ہے۔ کیونکہ آج سب سے زیادہ قربانی فلسطین دے رہا ہے اور سب سے زیادہ مزاحمت ایران کر رہا ہے۔
سیاسی حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل نہیں چاہیں گے کہ ایران اس اتحاد میں آئے۔ سعودیہ اور دیگر عرب ممالک پر امریکا کا دبا ہے۔ وہ ایران کو ''خطرہ'' کہہ کر باہر رکھنا چاہتے ہیں۔
لیکن خطے کے حالات بدل رہے ہیں۔ ایران-سعودیہ تعلقات بحال ہو چکے۔ اگر عرب ممالک واقعی آزاد فیصلہ کریں تو انہیں ایران کو شامل کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ معاہدہ کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جائے گا اور امت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایران ترکی اور پاکستان تینوں پہلے ہی آر سی ڈی اور ایکو کا تجربہ کر چکے ہیں اور ان کے درمیان باہمی اشتراک و تعاون کی یہ تنظیم موجود ہے ایکو+ مکہ ڈیفینس پیکٹ+ خلیجی تعاون کونسل مل کر ایک وسیع معاشی اوردفاعی اتحاد بنانے کی اور پر امن بقائے باہمی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور آپس کے تنازعات بھی حل ہوسکتے ہیں اور امریکہ پر انحصار ختم ہو جانے کی صورت میں اور اسرائیل کی دہشت گردی سے بھی نجات ممکن ہے ۔
امریکا ایک ناقابل اعتبار ملک کیوں؟
امریکا کی تاریخ دھوکے کی تاریخ ہے۔ عراق صدام کو کیمیائی ہتھیار دیے، پھر اسی بہانے عراق تباہ کر دیا
افغانستان 20 سال لڑایا، پھر طالبان سے معاہدہ کر کے راتوں رات نکل گیا
کرد داعش کے خلاف استعمال کیا، پھر ترکی کے حوالے کر دیاشاہ ایران
37سال سپورٹ کیا، انقلاب آتے ہی ساتھ چھوڑ دیا
امریکا کا اصول: ''ہمارا کوئی مستقل دوست نہیں، صرف مستقل مفاد ہے''۔ جب تک آپ کا تیل اور پیسہ ہے، امریکا آپ کا دوست ہے۔ جس دن ضرورت ختم، آپ اکیلے۔
کیا سبق ملے گا؟ ملنا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ پیسے اور کرسی کی محبت اتنی ہے کہ اکثر ممالک یہ سبق بھول جاتے ہیں۔ جب تک مسلم ممالک امریکا پر انحصار ختم نہیں کریں گے، یہ دھوکے کا سلسلہ چلتا رہے گا۔
امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے مسلم و عرب ممالک کی ذمہ داری
عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں ان ممالک پر 3 بڑی ذمہ داریاں ہیں۔
پہلی: ''غیر جانبداری''۔ اپنے ملک کو کسی کی جنگ کا اڈہ نہ بنائیں۔ اگر آپ کے اڈے سے ایران پر حملہ ہوا تو کل ایران کا جواب بھی آپ کے ملک پر آئے گا۔ آپ میدان جنگ بن جائیں گے۔
دوسری: ''امت کا مفاد''۔ یاد رکھیں امریکا آپ کا محافظ نہیں، کاروباری ہے۔ وہ اسرائیل کی حفاظت کے لیے آپ کے اڈے استعمال کر رہا ہے۔ کیا آپ فلسطینی بچوں کے خون میں شریک ہونا چاہتے ہیں؟
تیسری: ''متبادل تلاش کرنا''۔ چین، روس، پاکستان، ترکی کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعاون بڑھائیں۔ اپنی علاقائی سکیورٹی خود سنبھالیں۔''خلیج کی سکیورٹی خلیجیوں کے ہاتھ میں'' کا نعرہ عملی کریں۔
اگر اب بھی آنکھیں بند رہیں تو آنے والی نسلیں سوال کریں گی کہ جب امت جل رہی تھی تو آپ نے دشمن کو اپنے گھر میں جگہ کیوں دی تھی۔