MUM Media

MUM Media مختلف مکاتب فکر کے اعتدال پسند صلح جو علماء مشائخ کا نمائندہ Founded By Molana Ameen Ansari

پاک افغان حالیہ کشیدگی پر متحدہ علماء محاذ کا مشاورتی اجلاس عالم اسلام کے جلیل القدر علماء مشائخ قائدین و غیور حکمران پا...
15/10/2025

پاک افغان حالیہ کشیدگی پر متحدہ علماء محاذ کا مشاورتی اجلاس
عالم اسلام کے جلیل القدر علماء مشائخ قائدین و غیور حکمران پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کیلئے حکم قرآنی صلح کیلئے اپنا موثر کردار اداکریں
ملکی امن و سلامتی و دفاع ہمیں ہر چیز پر مقدم اور اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے، آنچ نہیں آنے دیں گے
امارات اسلامیہ افغانستان قیادت پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کو سمجھیں،پاک افغان عوامی رشتہ مضبوط وقدیمی ہے
متحدہ علماء محاذ و دفاع افواج پاکستان کے بانی سربراہ مولانا محمد امین انصاری و دیگر علماء کا مشاورتی اجلاس سے خطاب
اجلاس میں افغان بستی میں افغانیوں کے نام پر ہزاروں پاکستانی قدیمی رہائش پذیر خصوصا جامع مسجد زکریا مدرسہ منبع العلوم اور انسداد منشیات مرکز کی بجلی منقطع کئے جانے کے ظالمانہ اشتعال انگیز اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے KE کے افسران بالا سے بجلی کی بلاتعطل فوری بحالی کا پرزور مطالبہ کیاگیا اور مسجد و مدرسہ و انسدادمنشیات مرکز کے بانی سربراہ شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد دائود سمیت دیگر متاثرین پاکستانی رہائش پذیر محب وطن شہریوں سے اپنی ہمدردی اور مکمل تعاون کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں علامہ عبدالخالق فریدی سلفی، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد دائود ، مولانا منظرالحق تھانوی ،مولانا حافظ محمد ابراہیم چترالی، علامہ سید سجاد شبیر رضوی، علامہ عبدالماجد فاروقی، مولانا مفتی علی المرتضیٰ ، مولانا مفتی وجیہہ الدین،مولانا اسد الحق چترالی،قاری عبدالہادی چترالی ،حافظ ظہیراللہ و دیگر نے شرکت کی
کراچی(راہ انصار نیوز 15اکتوبر25)متحدہ علماء محاذ و دفاع افواج پاکستان کے بانی سربراہ مولانا محمد امین انصاری نے مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں منعقدہ علماء کے خصوصی مشاورتی اجلاس سے خطاب میں افغانستان پاکستان حالیہ کشیدگی پر حکومت و عوام کی جانب سے دو متضاد رائے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی عدل و انصاف کی نظر میں رنگ و نسل ،مذہب و مسلک کی کوئی اہمیت و فوقیت نہیںہے۔ اسلام ہمیشہ مظلوم کا حامی اور ظالم کا بلاامتیاز مخالف رہا ہے ، افواج پاکستان اپنے ملک و ملت کے تحفظ و دفاع میں افغانستان کی سرحد سے کی جانے والی جارحیت و ظلم کے خلاف لڑ رہی ہے۔ دوسری جانب پڑوسی اسلامی ملک افغانستان کی سرحدوں سے مسلسل جارحیت کے نتیجے میں پاکستان کے بے گناہ مسلمان و فوجی جوان شہید ہورہے ہیں۔ پیغمبر اسلام خاتم النیینۖنے ظالم کفریہ و استعماری قوتوں کیخلاف جہاد کا راستہ اختیار کیا، نواسہ رسول سیدنا امام حسین بھی ظالم یزیدیت کیخلاف میدان کربلا میں جہاد کیلئے نکلے اور اسلام کا یہ حکم بھی واضح ہے کہ دو مسلمان اشخاص و گروہوں میںمصالحت کرادیں، بناء برایںخلیفہ راشد پنجم نواسہ رسول صلح کل سیدنا امام حسننے مسلمانوں کے درمیان قیامت خیز خونریزی کو روکنے کیلئے اور کفریہ طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اسلام و مسلمانوں کے عظیم مفاد میں اپنی خلافت حقہ سے دستبردار ہوگئے۔ پاکستان و افغانستان کی موجودہ سنگین صورتحال میں عالم اسلام کے جلیل القدر علماء مشائخ قائدین و غیور حکمران پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کیلئے حکم قرآنی صلح کیلئے اپنا موثر کردار اداکریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں آنی جانی فانی شے ہیںلیکن پاک افغان عوامی رشتہ مضبوط وقدیمی ہے۔ امارات اسلامیہ افغانستان قیادت پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کو سمجھیں۔مولانا انصاری نے کہا کہ ملکی امن و سلامتی و دفاع ہمیں ہر چیز پر مقدم اور اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے، ملکی امن و سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔افوا ج پاکستان ہمارا فخر و اعزاز اور عظیم سرمایہ ہے ۔مشاورتی اجلاس میں فلسطین کشمیر و افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا گیااور پاکستان کی موجودہ سنگین صورتحال میں امن و اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اور مسجد و مدرسہ و انسدادمنشیات مرکز کے بانی سربراہ شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد دائود سمیت دیگر متاثرین پاکستانی رہائش پذیر محب وطن شہریوں سے اپنی ہمدردی اور مکمل تعاون کا اظہار کیا گیا۔

دارالعلوم دیوبند متفقہ طور پردنیا بھر کے ہم مسلک مسلمانوں کاروحانی و فکری مرکز ہے، مولانا محمدامین انصاری دارالعلوم دیو ...
11/10/2025

دارالعلوم دیوبند متفقہ طور پردنیا بھر کے ہم مسلک مسلمانوں کاروحانی و فکری مرکز ہے، مولانا محمدامین انصاری
دارالعلوم دیو بند اور پاکستان کے اکابر علمائے دیوبند پاک افغان حالیہ کشیدگی کے خاتمے باہمی امن و صلح و خوشگوار بااعتماد پائیدار مستحکم تعلقات کے قیام کیلئے یقینی طور پر موثر کردار اداکرسکتے ہیں
کراچی(راہ انصار نیوز11اکتوبر25)متحدہ علماء محاذ پاکستان ،عالمی جمعیت فضلاء جامعہ علامہ بنوری ٹائون کے بانی سربراہ مولانا محمدامین انصاری نے افغانستان کے وزیر خارجہ کے دارالعلوم دیو بند کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ عالم اسلام کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند،پاکستان ، افغانستان ، ایران ، بنگلہ دیش، سعودی عرب ودیگر ممالک کے اپنے ہم مسلک علماء و عوام کیلئے متفقہ طور پر روحانی مرکز رہبر و رہنما کی حیثیت رکھتاہے، جس کا بیرونی ممالک خصوصا افغانستان ،پاکستان کے مابین تنازعات و سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ جس کا اظہار دارالعلوم دیوبند کے مہتمم نے بھی واضح طور پر کردیاہے۔ دارالعلوم دیو بند اور پاکستان کے اکابر علمائے دیوبند پاک افغان حالیہ کشیدگی کے خاتمے باہمی امن و صلح و خوشگوار بااعتماد پائیدار مستحکم تعلقات کے قیام کیلئے یقینی طور پر موثر کردار اداکرسکتے ہیں۔پاکستان و افغانستان کی دو پڑوسی مسلم حکومتوں کو اس مخلصانہ تجویزپر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہئے۔آج بھی اسلام کے ازلی دشمن یہودی ذریت جنگ صفین،جنگ جمل اور کربلا جیسی سازشوں کے ذریعے مسلم ممالک کو باہم کشت و خون میں ڈال کر اسلام مسلمانوں کو کمزور ،منتشرکرکے اپنا محکوم بناناچاہتے ہیں۔

اجتماعات جمعہ سے علماء کا خطابپاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریگا،متحدہ علماء محاذ غزہ فلسطین امن معاہدہ خوش آئ...
10/10/2025

اجتماعات جمعہ سے علماء کا خطاب
پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریگا،متحدہ علماء محاذ
غزہ فلسطین امن معاہدہ خوش آئند اور حماس و فلسطینی مجاہدین و شہدائے مقاومت کی واضح فتح ہے
امیر اہلسنت گلگت بلتستان علامہ قاضی نثار احمدپر قاتلانہ حملے کی مذمت ،استعماری سازش کا حصہ قرار،دہشتگردوں کی گرفتاری کا مطالبہ
گلگت بلتستان کی پرامن فضاء میں شیعہ سنی خونی فسادات کروانے کی استعماری سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے
اورکزئی میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن میں لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت11فوجی جوان شہداء کو خراج عقیدت پیش کیاگیا
مولانا محمدامین انصاری والدہ کی صحت یابی اور بھتیجی کیلئے دعائے منغفرت کی گئی
کراچی(راہ انصار نیوز10اکتوبر25)متحدہ علماء محاذ پاکستان میں شامل مختلف مکاتب فکر کے 300سے زائد جید علماء مشائخ ،خطباء ،آئمہ مساجد نے اجتماعات جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے واضح دوٹوک اعلان کیاہے کہ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گااور ابراہیمی منصوبہ و گریٹر اسرائیل کا حصہ نہیں بنے گا۔ غزہ فلسطین امن معاہدہ خوش آئند اور حماس و فلسطینی مجاہدین و شہدائے مقاومت کی واضح فتح ہے۔ ہم فلسطین و حماس کے من پسند آزادانہ موقف و فیصلوں اور امیدوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔علماء نے امیراہلسنت گلگت بلتستان ،کوہستان، چترال علامہ قاضی نثار احمد پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملہ آور دہشت گردوں کی فوری گرفتاری اور پس پردہ حقائق و سازش کو منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ علامہ قاضی نثار احمد کی حب الوطنی ، امن پسندی، عدم تشدد ،صبر و تحمل اور وحدت امت کے عظیم کردار پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔گلگت بلتستان کی پرامن فضاء میں شیعہ سنی خونی فسادات کروانے کی استعماری سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔علماء نے اورکزئی میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت 11 فوجی جوان شہداء کو خراج عقیدت پیش کیااور ان کی ملک و ملت کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عظیم کردار و خدمات کو سراہتے ہوئے یکجہتی کا اظہارکیا۔علماء نے پاکستان میں روز بروز بڑھتی ہوئی بدامنی ، دہشت گردی کیخلاف امن و وحدت کی ضرورت پر زور دیا۔ علماء نے کہا کہ سیلاب متاثرین تاحال بے یار مددگار اور حکومتی امداد و نصرت کی امید میں بیمار،پریشان ،مفلوک الحال ،بے گھربیٹھے ہیں۔ حکومت ان کی جلد از جلد بحالی و آبادکاری کیلئے موثر اقدامات کرے۔ اجتماعات جمعہ سے خطاب کرنے والوں میں مولانا محمد امین انصاری، علامہ عبدالخالق فریدی سلفی،شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد دائود،مولانا منظرالحق تھانوی،مفسرقرآن علامہ مفتی روشن دین الرشیدی، مولانا حافظ محمد ابراہیم چترالی، علامہ عبدالماجد فاروقی، مفتی عبدالغفور اشرفی، علامہ مفتی علی المرتضیٰ، علامہ محمد حسین مسعودی، علامہ سید سجادشبیر رضوی، علامہ زاہد حسین ہاشمی مشہدی، علامہ شیخ سکندر حسین نوربخشی،علامہ مرتضیٰ خان رحمانی،مولانا اسدالحق چترالی و دیگر شامل ہیں۔

08/10/2025
Rah-e-Ansar 1 to 8 October   2025  Jild No 15 Shumara No 41
08/10/2025

Rah-e-Ansar 1 to 8 October 2025 Jild No 15 Shumara No 41

قاضی نثار پر قاتلانہ حملے کی مذمت سواد اعظم اہلسنت GBکے سابق صدر امیر اہلسنت گلگت بلتستان ،فاضل جامعہ علامہ بنوری ٹائون ...
08/10/2025

قاضی نثار پر قاتلانہ حملے کی مذمت
سواد اعظم اہلسنت GBکے سابق صدر امیر اہلسنت گلگت بلتستان ،فاضل جامعہ علامہ بنوری ٹائون شیخ القرآن والحدیث
علامہ قاضی نثار احمد پر قاتلانہ حملہ استعماری سازشوں کا حصہ ہے،مولانا محمدا مین انصاری
اسلام و ملک دشمن امریکہ ،اسرائیل ، بھارت ، قادیانی واستعماری قوتیں شیعہ سنی فسادات کے ذریعےGBکا امن تباہ کرنا چاہتی ہیں
گورنر، وزیراعلیٰGB حملہ آوردہشتگردوں کو بلاامتیاز مسلک فی الفور گرفتار کرکے قرار واقعی سزائیںدلوائیں
دہشتگردی کے سانحہ پر صبر و تحمل اور قیام امن پر علامہ قاضی نثار احمد اور انکے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،ابن قاضی مولانا عبداللہ سے گفتگو
کراچی(راہ انصار نیوز8اکتوبر25) متحدہ علماء محاذ پاکستان ، دفاع افواج پاکستان فورم، عالمی جمعیت فضلاء جامعہ علامہ بنوری ٹائون کے بانی سربراہ اور پاکستان مسلم لیگ فنکشنل علماء مشائخ ونگ سندھ کے صدر مولانا محمدامین انصاری نے گزشتہ دنوں جامعہ نصرت العلوم گلگت بلتستان کے بانی سربراہ و شیخ الحدیث امیر اہلسنت ،جامعہ علامہ بنوری ٹائون کے قدیمی فاضل سواد اعظم اہلسنت گلگت بلتستان کے سابق صدر ممتاز عالم دین علامہ قاضی نثار احمد پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے استعماری سازشوں کا حصہ قرار دیاہے اور گلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ ،وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سے مطالبہ کیاہے کہ وہ حملہ آوردہشتگردوں کو بلاامتیاز مسلک فی الفور گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزائیں دلوانے کیلئے موثر کارروائی عمل میں لائیں۔اسلام و ملک دشمن امریکہ ،اسرائیل ، بھارت ، قادیانی واستعماری قوتیں شیعہ سنی فسادات کے ذریعے GBکا امن تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ مولانا محمد امین انصاری نے دہشت گردی کے المناک سانحہ پر صبر و تحمل اور قیام امن پر علامہ قاضی نثار احمد اور ان کے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔مولانا انصاری نے علامہ قاضی نثار احمد کے صاحبزادے مولانا عبداللہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے قاتلانہ حملے کی مذمت اور اپنی ہمدردی کا اظہار کیااور ان سے ان کے والدگرامی کی خیریت دریافت کی، ان کی جلد صحت یابی ،سلامتی ، درازی عمر کیلئے دعا کی ۔مولانا انصاری نے مزید کہا کہ موجودہ سنگین نازک صورتحال میں پاکستان کسی طوربھی شیعہ سنی فسادات اور استعماری فرقہ وارانہ سازشوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔گلگت بلتستان میںقیام امن اور وحدت امت کیلئے سرکاری و عوامی سطح پر مشترکہ مخلصانہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی مسلک نہیں بلکہ وہ اسلام و ملک کے باغی و دشمن اور استعماری قوتوں کے پالتو ایجنٹ ہیں۔

پاکستان، امت اور آزادِ خارجہ پالیسی: آج کے خطرات میں عملی یکجہتی کی اشد ضرورتخصوصی تحریر:  مولانا محمدامین انصاری :   با...
03/10/2025

پاکستان، امت اور آزادِ خارجہ پالیسی: آج کے خطرات میں عملی یکجہتی کی اشد ضرورت
خصوصی تحریر: مولانا محمدامین انصاری :
بانی سربراہ: متحدہ علما محاذ پاکستان صدر، فنکشنل لیگ علما، مشائخ ونگ، سندھ
امتِ مسلمہ کے دفاع و بقا کے لیے فوری عملی راستہ
آج کا عالمی منظرنامہ مسلمانوں کے لیے نہایت خطرناک اور پیچیدہ ہے۔ امریکہ، اسرائیل، بھارت اور دیگر قدامت پسند و استعماری قوتوں کی سازشیں، خطے کے استحکام اور امتِ مسلمہ کی عزت و خودمختاری کو ہدف بنا چکی ہیں۔ فلسطین، قطر، ایران، یمن، لبنان، سعودی عرب اور پاکستان کی موجودہ حالات بتاتی ہیں کہ اب کلام و احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی، مربوط اور متحدہ سیاسی و معاشی حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں امتِ واحدہ کا عملی مظاہرہ کرنا اسی بقا کی کلید ہے۔
خطرات اور چیلنجز صورتِ حال کا خلاصہ
موجودہ عالمی کھیل میں مسلمان ریاستیں باہمی اختلافاتغ، خارجہ دباو اور معاشی دبائو کا شکار ہیں۔ اس میں سب سے بڑا نقصان عوام کے ایمان و معاشی وقار کو پہنچتا ہے۔ عالمی طاقتیں جب اپنے اہداف کے حصول کے لیے علاقائی تقسیم اور کمزور معاشی بندوبست کو فروغ دیتی ہیں تو مسلمانوں کو ایک مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے اس چکر کو توڑنا ہوگا۔
عملی تجاویز فوری اور قابلِ عمل اقدامات
1. ۔ مشترکہ اسلامی دفاعی فورس: امت کے دفاع کا انفرادی ماڈل ناکافی ہے۔ ایک مشترکہ دفاعی مکمل اسٹکچر جس میں رکن ریاستیں برابر شراکت دار ہوں، تربیت، لاجسٹکس اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی مشترکہ ہو خطے میں بیرونی مداخلت کو محدود کرے گا اور مقامی سلامتی کے امور میں خودمختاری لائے گا۔
2۔ اسلامی کرنسی کا قیام: تجارت اور معاشی خودمختاری کے لیے ایک مشترکہ کرنسی یا پیمانہ ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی دبائو اور غیرملکی کرنسیوں کے زریعے اقتصادِ امت کا استحصال کم ہو۔ اس کی ابتدا تجارتی بلاک اور باہمی تجارتی شراکت سے کی جاسکتی ہے۔
3۔ مشترکہ تجارتی منڈی: ایک وسیع تجارتی منڈی قائم کریں جہاں رکنِ ممالک خام مال، صنعتی مصنوعات اور خدمات باہمی طور پر سستے اور باعزت طریقے سے تبادلے کر سکیں بیرونی مارکیٹوں پر انحصار کم ہوگا اور مقامی روزگار بڑھے گا۔
4۔ ا زادانہ داخلی و خارجہ پالیسیاں: حکومتِ پاکستان سمیت مسلم ریاستیں قائدِ اعظم کے نظریات اور اپنے عوامی جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے غیرجانبدار اور آزاد خارجہ پالیسیاں اپنائیں؛ جو کسی بھی غیرمنصفانہ عالمی دبائو کو یکسر رد کریں۔
5۔ قومی وحدت اور عوامی حمایت: حکومتیں جب یہ اقدامات اٹھائیں تو پوری قوم، ریاست اور افواج پاکستان ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں گی مگر اس کے لیے شفافیت، عوامی مشاورت اور ایک واضح قومی نظریہ ضروری ہے۔
6۔ قرآنی و اسلامی اصولوں کا اطلاق: تمام پالیسیاں قرآن و سنت کے اخلاقی و عدالتی اصولوں کے مطابق ہونی چاہئیں، تاکہ نئی معاشی اور دفاعی ڈھانچے امت کے عمومی مفاد کے عین مطابق ہوں۔
نفاذ کا طریقہ کار (خلاصہ)
فوری طور پر رکنِ ممالک کا اجلاس بلایا جائے جس میں دفاع، کرنسی اور تجارت پر مفصل روڈ میپ طے کیا جائے۔
ایک عبوری مشاورتی کونسل بنائی جائے جس میں علمائے کرام، ماہرینِ معیشت، دفاعی مشیراور سول قیادت شامل ہوں۔
مرحلہ وار نفاذ: پہلے تجارتی بلاک، پھر مالی پیمانہ، اور بعد ازاں دفاعی اشتراک کو مربوط کیا جائے تاکہ خطے کا استحکام متاثر نہ ہو۔
عوامی آگاہی مہم اور قومی یکجہتی کی سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے تاکہ عوامی جذبات ریاست کے ساتھ مربوط رہیں۔
نتیجہ ایک تاریخی ذمہ داری
امتِ مسلمہ اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر ہم نے باہمی اختلافات، بیرونی سازشوں اور اقتصادی انحصار کو دور کرنے کے لیے متحدہ، عملی اور قرآنی طریقے اپنائے تو نہ صرف ہماری بقا ممکن ہے بلکہ ایک طاقتور، خودمختار اور باعزت مسلم امت کا قیام بھی یقینی بن سکتا ہے۔ حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان اور غیور عوام جب ایک مضبوط عزم اور واضح روڈ میپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو ہر مشکل کو شکست دی جا سکتی ہے ان شا اللہ۔
مولانا محمد امین انصاری

ٹرمپ منصوبہ برائے مسئلہ فلسطین: ایک نیا ملغوبہ اور پرانی سازش؟خصوصی تحریر : مولانا محمدامین انصاری  (بانی سیکریٹری جنرل ...
01/10/2025

ٹرمپ منصوبہ برائے مسئلہ فلسطین: ایک نیا ملغوبہ اور پرانی سازش؟
خصوصی تحریر : مولانا محمدامین انصاری (بانی سیکریٹری جنرل متحدہ علماء محاذ پاکستان ، صدر فنکشنل علماء مشائخ ونگ سندھ
مقدمہ
فلسطین کا مسئلہ صدیوں سے عالمی سیاست کا محور رہا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانوی استعمار کی پالیسیوں، 1948 میں اسرائیل کے قیام اور عرب ممالک کی کمزوریوں نے مل کر ایک ایسا بحران پیدا کیا جس کا خمیازہ آج تک فلسطینی عوام بھگت رہے ہیں۔ ہر امریکی صدر نے اپنے دور میں "امن منصوبہ" کے نام پر کوئی نہ کوئی تجویز پیش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام منصوبے فلسطینی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اسرائیل کے قبضے کو قانونی جواز دینے کی کوشش ثابت ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے خود فلسطینی قیادت نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
منصوبے کا خلاصہ
ٹرمپ انتظامیہ نے اسے "ڈیل آف دی سنچری" کا نام دیا۔ بظاہر اس منصوبے کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان "دائمی امن" قائم کرنا ہے، مگر اس کے بنیادی نکات اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں:
مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا ابدی دارالحکومت تسلیم کرنا۔
فلسطینی ریاست کا کوئی واضح اور خودمختار تصور پیش نہ کرنا۔
یہودی بستیوں کو برقرار رکھنا اور قانونی حیثیت دینا۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو کلی طور پر نظرانداز کرنا۔
معاشی مراعات کے بدلے فلسطینیوں سے سیاسی حق چھین لینا۔
یہ نکات واضح کرتے ہیں کہ منصوبہ فلسطینی عوام کی امنگوں کا نہیں بلکہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا عکاس ہے۔
مسلم ممالک کا ردعمل
پاکستان نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "اس میں مسلم ممالک کی تمام تجاویز کو شامل ہی نہیں کیا گیا"۔ پاکستان کا مقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ فلسطینی عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق خودمختاری ملنی چاہیے اور القدس شریف فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔
قطر نے کہا کہ "منصوبے کی وضاحت اور تشریح کی ضرورت ہے"، گویا وہ کھل کر مخالفت نہیں کر پایا لیکن تحفظات ضرور ظاہر کیے۔ کئی عرب ممالک نے خاموش یا نیم گرم ردعمل دیا، جو ان کے اندرونی سیاسی و معاشی انحصارات کو عیاں کرتا ہے۔
نیتن یاہو کا انکار
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس منصوبے کو ''امن منصوبہ''کہا جا رہا ہے، اس پر خود اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی فلسطینی ریاست کے قیام پر متفق نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ صرف محدود خود انتظامی حقوق دیے جا سکتے ہیں۔ اس اعتراف سے واضح ہوتا ہے کہ منصوبہ اصل میں امن کے لیے نہیں بلکہ فلسطینیوں کو مزید دبا میں لانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
تاریخی تناظر
1917 کا بالفور اعلامیہ: برطانیہ نے یہودیوں کو فلسطین میں "قومی وطن" دینے کا اعلان کیا۔
1948: اسرائیل کا قیام اور لاکھوں فلسطینیوں کی بے دخلی۔
1967: چھ روزہ جنگ میں باقی ماندہ فلسطینی علاقے بھی اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے۔
اوسلو معاہدہ 1993: امن کے وعدے ہوئے مگر زمین پر اسرائیل کی توسیع جاری رہی۔
اب ٹرمپ منصوبہ: یہ تمام سابقہ معاہدات سے بھی پیچھے ہٹ کر صرف اسرائیل کو فوقیت دیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر منصوبے نے فلسطینیوں کو مزید کمزور اور اسرائیل کو مزید طاقتور بنایا۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بد نیتی
1۔ ٹرمپ کا سیاسی فائدہ: امریکی انتخابات میں یہودی لابی کی حمایت حاصل کرنا اور امریکی قدامت پسند عیسائیوں کو خوش کرنا۔
2۔ نیتن یاہو کا مقصد: کرپشن کیسز اور داخلی دبا سے بچنے کے لیے قومی سطح پر ایک "فتح" دکھانا۔
3۔ فلسطینیوں کا استحصال: معاشی ترقی اور امداد کے لالچ میں ان کے بنیادی سیاسی و انسانی حقوق کو غصب کرنا۔
یہ منصوبہ امن کے بجائے بد نیتی کی ایک چال ہے، جس میں فلسطینی عوام کے زخموں کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نتیجہ
ٹرمپ کا منصوبہ دراصل ایک ''ملغوبہ''ہے جس میں نہ فلسطینی ریاست کی واضح گارنٹی ہے، نہ حقِ واپسی کا ذکر، نہ بیت المقدس کی حیثیت کا احترام۔ مسلم دنیا کی اکثریت نے اسے رد کیا، مگر تقسیم اور کمزوری نے فلسطینی عوام کو تنہا کر دیا ہے۔
فلسطین کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک عالمی برادری انصاف پر مبنی فیصلہ نہ کرے اور مسلم ممالک اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کریں۔ ٹرمپ کا منصوبہ تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا، جیسے اس سے پہلے کئی "امن منصوبے" ناکام ہوئے، کیونکہ ظلم پر مبنی امن کبھی قائم نہیں ہو سکتا۔

Rah-e-Ansar 17 to 30 September  2025  Jild No 15 Shumara No 39-40
30/09/2025

Rah-e-Ansar 17 to 30 September 2025 Jild No 15 Shumara No 39-40

Address

Karachi

Telephone

+923002128709

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MUM Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to MUM Media:

Share