06/07/2026
غربت مار دیتی ہے: وہ تڑپ تڑپ کر اس دنیا سے چلی گئی
آج مسجد میں اعلان ہوا تو ایک خاموشی سی چھا گئی۔ ایک اور جیتی جاگتی روح اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ وہ ہمارے دور کے رشتہ دار تھے، اگرچہ ہم سے میل جول زیادہ نہ تھا، مگر خبر سن کر شوہر اور ساس تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے۔ وہاں جو منظر دیکھا، وہ روح کو جھنجھوڑ دینے والا تھا۔
وہ بیچاری عورت... بیماری کی شدت اور غربت کی چکی میں پس کر، تڑپ تڑپ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ پتا چلا کہ آخری سانسوں تک وہ اپنی ماں، بہنوں اور بھائیوں کو آوازیں دیتی رہی۔ وہ ان سب کو پکارتی رہی، مگر کسی کو اس کی پکار سنائی نہ دی۔ وہ تنہا اپنی تکلیفوں سے لڑتی رہی اور آخرکار ہار مان گئی۔
**عجیب تماشا ہے یہ دنیا!**
اس کے دم توڑنے کے بعد وہی ماں، وہی بہنیں اور وہی بھائی جنازے پر ایسے پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے، جیسے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی ان کا اپنا نہ ہو۔ مگر میرا دل یہ پوچھنے پر مجبور ہے کہ یہ رونا اب کس کے لیے ہے؟
جب وہ زندہ تھی، جب اسے ایک نوالے، ایک دوا، اور صرف اپنوں کے دو بولوں کی ضرورت تھی، تب آپ کہاں تھے؟ کیا آپ کو کبھی خیال نہیں آیا کہ آپ کا بھائی یا بہن کس حال میں ہے؟ کیا آپ اپنی زندگی کے مزوں میں اتنے مگن تھے کہ اپنوں کی تڑپ نظر نہیں آئی؟
**ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں:**
خون کے رشتے کبھی ختم نہیں ہوتے، چاہے کتنی ہی ناراضگی کیوں نہ ہو۔ آج آپ پیٹ بھر کر کھانا کھا رہے ہیں، کیا کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کی بہن یا بھائی بھوکا تو نہیں؟ آج آپ کی زندگی کا پہیہ چل رہا ہے، لیکن یاد رکھیں وقت بہت بے رحم ہے۔ آج آپ کا دور ہے، کل کسی اور کا ہوگا۔ جس طرح وہ تڑپ کر گئی ہے، کل آپ بھی اسی حالت میں ہو سکتے ہیں۔
خدارا! اپنی آنکھیں کھولیں اور دلوں کو پتھر نہ بنائیں۔ اپنی حیثیت کے مطابق اپنوں کی مدد کریں۔ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ کل وہاں سب سے پہلے اپنے ان رشتوں کا حساب دینا ہوگا۔ آج ہی اپنی انا کو ماریں اور اپنوں کی خبر رکھیں۔ مرنے کے بعد رونا نہیں، جیتے جی ساتھ دینا اصل نیکی ہے
۔