25/04/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا"
(صحیح بخاری)
صحابہ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی کیسے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تَحْجُزُهُ عَنِ الظُّلْمِ"
ترجمہ:
ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔
ایک شخص نے ظالم کی تعریف کی تو دوسرے شخص نے اس پر تنقید کی، جس کے بعد مخالفین نے اپنے ردِعمل میں سخت الفاظ اور القابات استعمال کیے، اور سوشل و فکری سطح پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی۔ حالانکہ اسلامی تاریخ میں خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی منبر پر سوالات اور احتساب کا سلسلہ موجود رہا ہے دوسری بات شیخ الحدیث کو چاہیے کہ وہ اس حدیث پر عمل کریں ظالم کو ظلم سے روکھے مگر وہ اس کے برعکس اس ظالم کی تعریف کر رہا ہے
آج بھی ایک انسان جو دینی احادیث پڑھانے اور بیان کرنے سے وابستہ ہے، مگر وہ جرت نہیں کرتا کہ وہ احادیث بیان کریں جو اس وقت ان احادیث پر عمل کرنے کی سخت ضرورت پیش آئی ہیں حالانکہ موجودہ دور میں ظلم کے واقعات کو لے کر معاشرے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے والے افراد کم نظر آتے ہیں۔
اس تناظر میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ دینی رہنماؤں کو موجودہ حالات کو سمجھتے ہوئے انصاف، عدل اور ظلم کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی ظالم کی حمایت بالواسطہ طور پر اس کے ظلم کی تائید کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔
مختلف علاقوں، خصوصاً پشتونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے مختلف نوعیت کے واقعات اور آپریشنز کے بارے میں عوامی سطح پر تحفظات اور شکایات پائی جاتی ہیں، جن میں عام لوگوں کو مشکلات، نقل و حرکت میں رکاوٹ اور جانی نقصان جیسے مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اسی طرح یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر کوئی دینی رہنما یا شخصیت کسی ظالم طاقتور حاکم یا ادارے کی تعریف کرے تو کیا وہ ان پہلوؤں کو نہیں سمجھ سکتا جن پر عوامی سطح پر تنقید اور سوالات موجود ہیں؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کوئی شخص ظالم کی عملی حمایت نہ بھی کر سکے تو کم از کم ظلم کے ساتھ کھڑا نہ ہو، اور انصاف و حق کا راستہ اختیار کرے۔
کچھ افراد کا مؤقف ہے کہ وہ لوگ جو حق اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، وہ دراصل ان احادیث پر عمل کی کوشش کرتے ہیں جو موجودہ حالات میں زیادہ رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
جیسے ایک حدیث روایت ہیں:
"انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا"
صحابہ نے عرض کیا: مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، ظالم کی کیسے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تَحْجُزُهُ عَنِ الظُّلْمِ"
(صحیح بخاری)
ترجمہ:
اپنے بھائی کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔
پھر ایک حدیث مبارکہ ہے:
"إِنَّ اللَّهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ:
اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔
اس دور میں چاہے کوئی ظالم ہو یا اس کا سہولت کار، اگر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آ گیا تو دنیا و آخرت میں رسوائی اس کا مقدر بن سکتی ہے، کیونکہ اللہ کی گرفت میں تاخیر ہو سکتی ہے مگر اندھیر نہیں۔
ایک اور حدیث نبوی ہیں:
"يَا عِبَادِي، إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا"
(صحیح مسلم)
ترجمہ:
اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، لہٰذا آپس میں ظلم نہ کرو۔
ایک اور جگہ فرمایا:
"اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ:
ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔
پھر ایک اور جگہ فرمایا:
"اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ"
(صحیح بخاری)
ترجمہ:
مظلوم کی دعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
آخر میں یہی بات سمجھائی جاتی ہے کہ اگر کوئی شخص مظلوم کے بجائے ظالم یا اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو اسے بھی اپنے عمل کے نتائج پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ اسلام میں ظلم کی حمایت سختی سے منع ہے اور مظلوم کی بددعا سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے
اور ان لوگوں کو بھی آپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ ہم انبیاء کے وارث ہیں مگر وہ مسجد کی ممبر پر بیٹھ کر غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں گالیاں دیتے ہیں ایسے اعمال اسلامی تعلیمات سخت خلاف ہیں