Ibe Ashraf official

Ibe Ashraf official Ibne Ashraf a teacher

*اہلِ خیر کی تین باتیں!!*حضرت سفیان بن عُیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں اہلِ خیر یعنی اللہ والے آپس میں ای...
24/06/2026

*اہلِ خیر کی تین باتیں!!*

حضرت سفیان بن عُیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں اہلِ خیر یعنی اللہ والے آپس میں ایک دوسرے کو درج ذیل تین باتیں لکھا کرتے تھے اور یہ تینوں باتیں آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں:

🔘 پہلی بات: جو شخص اپنی خلوت کو سنوار لیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اس کی جلوت کو بھی سدھار دیتے ہیں۔

🔘 دوسری بات: جو شخص اپنے اور اپنے پروردگار کے مابین تعلقات کو دیانتداری کے ساتھ درست کرلیتا ہے تو اللہ رب العزت اس کے اور لوگوں کے درمیان تعلقات کو ٹھیک فرما دیتے ہیں۔

🔘 تیسری بات: جو شخص آخرت کی تیاری میں لگا رہتا ہے تو اللہ ذوالجلال اس کے دنیوی معاملات میں کفایت فرماتے ہیں، یعنی اس کو دنیوی ہموم و غموم سے آزاد فرما دیتے ہیں۔

*افادات: شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف افشانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ*سبحان اللہ، کیا بات کہی حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے۔ تینوں باتیں واقعی آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

*خلاصہ دل کے قریب*
1. *خلوت سنوارو*: جب تنہائی میں اللہ سے تعلق ٹھیک ہو جائے تو محفل میں عزت خود بہ خود آ جاتی ہے۔ لوگوں کے سامنے بننا نہیں پڑتا۔
2. *اللہ سے معاملہ صاف رکھو*: نیت، صدق، دیانت۔ بندوں کے ساتھ رشتے پھر اللہ خود سنبھال دیتا ہے۔ دل صاف ہو تو سامنے والا بھی مان جاتا ہے۔
3. *آخرت کی فکر کرو*: دنیا کی بھاگ دوڑ کم نہیں ہوتی، لیکن غم ہلکے ہو جاتے ہیں۔ جو آخرت کی تیاری میں لگ گیا، دنیا اس کے پیچھے لگ جاتی ہے۔

تیسری بات آج کے زمانے میں سب سے زیادہ سکون دیتی ہے۔ ہم ساری فکر دنیا کی کر لیتے ہیں، اور آخرت کا معاملہ "بعد میں دیکھ لیں گے" پر ڈال دیتے ہیں۔

ان تین میں سے آپ کو فی الحال کون سی بات دل پر لگ رہی ہے؟

ایک آدمی بہت بے سکون تھا۔گھر تھا، روزگار تھا، مگر دل کو سکون نہیں ملتا تھا۔وہ ایک دانا شخص کے پاس گیا اور بولا: "میرے پا...
24/06/2026

ایک آدمی بہت بے سکون تھا۔
گھر تھا، روزگار تھا، مگر دل کو سکون نہیں ملتا تھا۔

وہ ایک دانا شخص کے پاس گیا اور بولا: "میرے پاس سب کچھ ہے،
پھر بھی دل خالی خالی کیوں لگتا ہے؟"

دانا شخص اسے باغ میں لے گیا۔
وہاں ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے کہا "یہ درخت دیکھو۔
یہ زمین سے جڑا ہوا ہے،
اس لیے مضبوط بھی ہے اور سرسبز بھی۔"

پھر اس نے کہا "انسان بھی جب اپنے رب سے جڑا رہتا ہے
تو اس کے دل میں سکون آتا ہے۔
اور جب انسان صرف دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے تو دل خالی رہ جاتا ہے۔"

وہ آدمی خاموش ہو گیا۔
اسے سمجھ آیا کہ سکون چیزوں میں نہیں، رب سے تعلق میں ہوتا ہے

*القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل**آیت نمبر 72*أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الر...
24/06/2026

*القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل*
*آیت نمبر 72*

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَـكُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِكُمۡ بَنِيۡنَ وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ‌ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ يُؤۡمِنُوۡنَ وَبِنِعۡمَتِ اللّٰهِ هُمۡ يَكۡفُرُوۡنَۙ‏ ۞

*ترجمہ:*
اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائی ہیں، اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے ہیں، اور تمہیں اچھی اچھی چیزوں میں سے رزق فراہم کیا ہے۔ کیا پھر بھی یہ لوگ بےبنیاد باتوں پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ؟

*آسان ترجمۂ قرآن*
*مفسر: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب*

منجانب: *عالمی مجلس مفتیانِ کرام رجسٹرڈ لاہور کے زیر اہتمام جامعہ دارالعلوم کالا شاہ کاکو انٹرچینج نزد موٹروے ٹول پلازہ لاہور*

*القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل**آیت نمبر 76*أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الر...
24/06/2026

*القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل*
*آیت نمبر 76*

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً رَّجُلَيۡنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبۡكَمُ لَا يَقۡدِرُ عَلٰى شَىۡءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوۡلٰٮهُۙ اَيۡنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَاۡتِ بِخَيۡرٍ‌ؕ هَلۡ يَسۡتَوِىۡ هُوَۙ وَمَنۡ يَّاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ‌ۙ وَهُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ  ۞

*ترجمہ:*
اور اللہ ایک اور مثال دیتا ہے کہ دو آدمی ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے جو کوئی کام نہیں کرسکتا، اور اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہ اسے جہاں کہیں بھیجتا ہے، وہ کوئی ڈھنگ کا کام کر کے نہیں لاتا، کیا ایسا شخص اس دوسرے آدمی کے برابر ہوسکتا ہے جو دوسروں کو بھی اعتدال کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے ؟ ؏

*آسان ترجمۂ قرآن*
*مفسر: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب*

منجانب: *عالمی مجلس مفتیانِ کرام رجسٹرڈ لاہور کے زیر اہتمام جامعہ دارالعلوم کالا شاہ کاکو انٹرچینج نزد موٹروے ٹول پلازہ لاہور*
Www.ammkmedia.com

*القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل**آیت نمبر 78*أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الر...
24/06/2026

*القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل*
*آیت نمبر 78*

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ اَخۡرَجَكُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّهٰتِكُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ شَيۡــئًا ۙ وَّ جَعَلَ لَـكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصٰرَ وَالۡاَفۡئِدَةَ‌ ۙ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ۞

*ترجمہ:*
اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے، اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے، تاکہ تم شکر ادا کرو۔

*آسان ترجمۂ قرآن*
*مفسر: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب*

منجانب: *عالمی مجلس مفتیانِ کرام رجسٹرڈ لاہور کے زیر اہتمام جامعہ دارالعلوم کالا شاہ کاکو انٹرچینج نزد موٹروے

*والدین سے پانی مانگنا* سوالبعض حضرات کہتے ہیں کہ پانی پلانے کا ثواب بہت زیادہ ہے،انسان اپنے والدین سے بھی پانی مانگ سکت...
22/06/2026

*والدین سے پانی مانگنا*

سوال
بعض حضرات کہتے ہیں کہ پانی پلانے کا ثواب بہت زیادہ ہے،انسان اپنے والدین سے بھی پانی مانگ سکتا ہے،والدین سےپانی مانگناکیساہے جبکہ بندہ خودتندرست ہو ؟
جواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کا ادب واحترام کرنا انسان کی بنیادی ذمہ داری ہےاوروالدین کے ساتھ خدام جیسا سلوک اوررویہ حرام اورناجائزہے،رسول اللہﷺ نےقیامت کی نشانیوں میں سےایک نشانی یہ بیان کی ہے کہ ' أن تلدالأمة ربتها '(والدہ سے خادمہ جیسا سلوک ہو)،تاہم معاشرتی طور پراگراولاداور والدین میں ایسا تعلق ہوکہ اسکی بنیاد پراولاد کاان سے کوئی چیزطلب کرنا والدین محبت کا مظہر سمجھتے ہوں تو ایسی صورت میں ان سے پانی مانگنےکی گنجائش ہے،البتہ جہاں اس کو بےادبی سمجھاجائے یا والدین بوڑھےاور کمزورہوں تو پھران سے پانی طلب کرنا مناسب نہیں۔



قال الله تعالی:﴿ وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَافَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾ (سورة بنی اسرائیل: 23)

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌من ‌أصبح ‌مطيعا في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا قال الرجل وإن ظلماه؟، قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه.(شعب الایمان:ج:10،ص:308)

شیئر کریں:

دار الافتاء:
دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

*عشاء کی نماز کا آخری وقت* سوالبعض لوگ کہتے ہیں اگر عشاء کی اذان سے پیشتر سو جاؤ پھر عشاء کا وقت باقی ہو، تب آنکھ کھلے، ...
22/06/2026

*عشاء کی نماز کا آخری وقت*

سوال

بعض لوگ کہتے ہیں اگر عشاء کی اذان سے پیشتر سو جاؤ پھر عشاء کا وقت باقی ہو، تب آنکھ کھلے، تو بھی عشاء بہرحال قضا ہوگئی، کیونکہ سو کر اٹھنے کے بعد تہجد کا وقت شمار ہوگا؟،اور اب جو عشاء پڑھی تو وہ قضا ہی شمار ہوگی، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب
صورت مسئولہ میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عشاء کی اذان سے پیشتر کوئی سو جائے پھرجب آنکھ کھلے تو عشاء کا وقت اگرچہ باقی ہو لیکن اس کی عشاء کی نمازقضاء ہوگئی کیونکہ سوکر اٹھنے سے تہجدکا وقت شمارہوتا ہے تو ان لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ طلوعِ فجر تک عشاء کا آخری وقت باقی رہتا ہے اگر کسی شخص نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی اور سوگیا پھر طلوعِ فجر سے پہلے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لے تو وہ نمازادا شمارہوگی ،قضاء شمار نہیں ہوگی اس لیے کہ یہ عشاء کا آخری وقت ہے۔ البتہ آدھی رات سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے اس لیے آدھی رات سے پہلے عشاء کی نماز پڑھ لیا کرے تاکہ کراہت نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 143101200059

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

*لڑکی کا اپنے نکاح کے لیے نامحرم کو وکیل بنانا* سوال کیا ایک لڑکی اپنے نکاح کے وقت کسی نا محرم کو جو کہ اس کا ہونے والا ...
22/06/2026

*لڑکی کا اپنے نکاح کے لیے نامحرم کو وکیل بنانا*

سوال

کیا ایک لڑکی اپنے نکاح کے وقت کسی نا محرم کو جو کہ اس کا ہونے والا دیور ہے اپنا وکیل بنا سکتی ہے ؟

جواب
صورت مسئولہ میں لڑکی کی طرف سے نکاح کے وکیل کا محرم ہونا شرعًا ضروری نہیں، پس اگر وہ اپنے محارم کے علاوہ کسی اور کو اپنا وکیل (چاہے وہ وکیل لڑکی کا ہونے والادیور ہویا کوئی اورہو)مقرر کردے، اور وہ عقد نکاح کی مجلس میں گواہوں کے سامنے لڑکی کی طرف سے ایجاب و قبول کرے تو نکاح شرعًا درست ہوجائے گا، البتہ لڑکی کا وکیل محرم ہو تو بہتر ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."

(کتاب النکاح، فصل ولایۃ الندب والاستحباب فی النکاح، ج:2، ص:247، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا."

(کتاب النکاح، باب الولی، ج:3، ص:55، ط:دارالفکر)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"قال: وإذا ‌وكلت ‌المرأة رجلا أن يزوجها فزوجها من غير كفؤ لها لم يجز قيل: هذا قولهما وهو قياس رواية الحسن عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى في أن المرأة لا تملك أن تزوج نفسها من غير كفؤ وأما على ظاهر الرواية فينبغي أن يجوز نكاح الوكيل عنده؛ لأنها لو زوجت نفسها من غير كفؤ كان جائزا وإن كان للأولياء حق الاعتراض عليها والأصح قولهم جميعا؛ لأنها ممنوعة من أن تزوج نفسها من غير كفؤ، ومطلق التوكيل ينصرف إلى ما يجوز للموكل أن يفعله بنفسه شرعا دون ما يكون ممنوعا عنده فيقيد مطلق التوكيل بهذا الدليل ولأن مقصودها لم يتم بالتزويج من غير كفؤ؛ لأن للأولياء حق الاعتراض عليها وإنما ينصرف مطلق التوكيل إلى عقد يتم لها به مقصود النكاح وإن كان كفئا لها غير أنه أعمى أو مقعد أو صبي فهو جائز؛ لأن مقصود النكاح يتم لها بما صنعه الوكيل، وكذلك إن كان عنينا أو خصيا فالنكاح جائز ويؤجل."

(كتاب الوكالة، باب الوكالة في النكاح، ج:19، ص:123، ط:دار المعرفة بيروت)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144601102426

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

*حرم میں مقتدی کا امام سے آگے ہونا* سوالجب جماعت ہوتی ہے تو امام کے آگے صف بنانے کی اجازت نہیں ہوتی، نہ امام سے آگے ب...
22/06/2026

*حرم میں مقتدی کا امام سے آگے ہونا*

سوال
جب جماعت ہوتی ہے تو امام کے آگے صف بنانے کی اجازت نہیں ہوتی، نہ امام سے آگے بڑھنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ خانہ کعبہ میں جب کوئی جماعت ہوتی ہے تو امام صاحب تو برآمدے میں کھڑے ہوتے ہیں اور خانہ کعبہ کے پاس جو لوگ صفیں بناتے ہیں بعض اوقات وہ کچھ فاصلہ امام کے آگے کا چھوڑ دیتے ہیں،مگر بعض اوقات مکمل طور پر صف بنائی جاتی ہے، یعنی وہ صفیں امام کے آگے ہوتی ہیں ،ان کے بارے میں ہمیں سمجھائیں ،اسلام میں کیا حکم ہے؟

جواب
واضح رہے کہ مسجدِ حرام میں امام چار جہتوں میں سے جس جہت میں کھڑا ہو کر نماز پڑھا رہا ہے، اس جہت میں اگر کوئی مقتدی امام سے اتنی مقدار آگے بڑھتا ہے کہ اس کی ایڑھی امام کی ایڑھی سے آگے ہوجائے اور وہ کعبہ سے امام کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوجائے تو ایسے مقتدی کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔اور وہ مقتدی جو امام کی جہت میں نہ ہوں، بلکہ دوسری جہات کی طرف ہوں، ان میں سے اگر کوئی مقتدی امام کی بہ نسبت کعبہ سے زیادہ قریب ہو تو ایسے مقتدی کی نماز صحیح اور درست ہے۔

آج کل بعض ائمہ، حرمِ مکی میں بیت اللہ سے کافی فاصلے پر برآمدے میں مخصوص جگہ میں نماز کی امامت کرتے ہیں؛ اور زائرین سمجھتے ہیں کہ ازدحام وغیرہ کی وجہ سے بوجہ عذر امام کے آگے بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے، اس وجہ سے آج کل کچھ کوتاہی دیکھنے میں آرہی ہے، مسجدِ حرام میں نماز ادا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اس بات کا اہتمام کرے کہ جس جہت میں امام کھڑا ہو اس جہت میں امام سے آگے نہ ہو، ورنہ نماز (خواہ پنج وقتہ ہو یا نمازِ جنازہ) ادا نہیں ہوگی، ازدحام وغیرہ کی وجہ سے بھی احناف کے نزدیک امام کی جانب آگے بڑھ کر نماز ادا کرنے سے نماز نہیں ہو گی۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

’’وإذا صلی الإمام في المسجد الحرام تحلق الناس حول الکعبة وصلوا صلاة الإمام، فمن کان منهم أقرب إلى الکعبة من الإمام جازت صلاته إذا لم یکن في جانب الإمام، کذا في الهدایة‘‘.

(ومما یتصل بذلك الصلاة في الکعبة، ج:1، ص:65، طبع: رشیدیه)

فتاویٰ شامی میں ہے:

’’(قوله: إن لم یکن في جانبه) أما إذا کان أقرب إلیها الإمام فإن کان متقدماً على الإمام بحذائه فیکون ظهره إلى وجه الإمام ... أو کان على یمین الإمام أو یساره متقدماً علیه من تلك الجهة ویکون ظهره إلى الصف الأول الذي مع الإمام ووجهه إلى الکعبة، فلایصح اقتداءه؛ لأنه إذا کان متقدمًا علیه لایکون تابعًا له‘‘.

(الصلاة في الکعبة، ج:2، ص:555، طبع: سعید)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144502101655

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

🌾   🌼  *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ* 🌷 *آج کا کیلینڈر* 🥀  *6 محرم الحرام 1448ھ* 🌸  *8 ھاڑ 2083 بکرمی* 🪷 *22 ج...
22/06/2026

🌾 🌼 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

🌷 *آج کا کیلینڈر*

🥀 *6 محرم الحرام 1448ھ*

🌸 *8 ھاڑ 2083 بکرمی*

🪷 *22 جون* *2026ء*

*بروز پیر*

💦 *اہل جنت کے جوانوں کے سردار*

*عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ* .

*حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسن ؓ اور حسین ؓ اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں* ۔

*جامع ترمذی 3768*

🍁 *اسلامک معلومات عامہ*

Address

Federal B Area
Karachi
74000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ibe Ashraf official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share