24/06/2026
*اہلِ خیر کی تین باتیں!!*
حضرت سفیان بن عُیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں اہلِ خیر یعنی اللہ والے آپس میں ایک دوسرے کو درج ذیل تین باتیں لکھا کرتے تھے اور یہ تینوں باتیں آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں:
🔘 پہلی بات: جو شخص اپنی خلوت کو سنوار لیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اس کی جلوت کو بھی سدھار دیتے ہیں۔
🔘 دوسری بات: جو شخص اپنے اور اپنے پروردگار کے مابین تعلقات کو دیانتداری کے ساتھ درست کرلیتا ہے تو اللہ رب العزت اس کے اور لوگوں کے درمیان تعلقات کو ٹھیک فرما دیتے ہیں۔
🔘 تیسری بات: جو شخص آخرت کی تیاری میں لگا رہتا ہے تو اللہ ذوالجلال اس کے دنیوی معاملات میں کفایت فرماتے ہیں، یعنی اس کو دنیوی ہموم و غموم سے آزاد فرما دیتے ہیں۔
*افادات: شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف افشانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ*سبحان اللہ، کیا بات کہی حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے۔ تینوں باتیں واقعی آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔
*خلاصہ دل کے قریب*
1. *خلوت سنوارو*: جب تنہائی میں اللہ سے تعلق ٹھیک ہو جائے تو محفل میں عزت خود بہ خود آ جاتی ہے۔ لوگوں کے سامنے بننا نہیں پڑتا۔
2. *اللہ سے معاملہ صاف رکھو*: نیت، صدق، دیانت۔ بندوں کے ساتھ رشتے پھر اللہ خود سنبھال دیتا ہے۔ دل صاف ہو تو سامنے والا بھی مان جاتا ہے۔
3. *آخرت کی فکر کرو*: دنیا کی بھاگ دوڑ کم نہیں ہوتی، لیکن غم ہلکے ہو جاتے ہیں۔ جو آخرت کی تیاری میں لگ گیا، دنیا اس کے پیچھے لگ جاتی ہے۔
تیسری بات آج کے زمانے میں سب سے زیادہ سکون دیتی ہے۔ ہم ساری فکر دنیا کی کر لیتے ہیں، اور آخرت کا معاملہ "بعد میں دیکھ لیں گے" پر ڈال دیتے ہیں۔
ان تین میں سے آپ کو فی الحال کون سی بات دل پر لگ رہی ہے؟