News24

News24 Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from News24, Media/News Company, Islamabad, Karachi.

ماریہ طاھر اوراس کا خاوند عبداللہ اشرف ولد عنائت علی ساکن سنگڑھ اوراس کا گروہ راجہ مقبول، اسحاق، عباس وغیرہ نوسر باز ہیں...
17/05/2020

ماریہ طاھر اوراس کا خاوند عبداللہ اشرف ولد عنائت علی ساکن سنگڑھ اوراس کا گروہ راجہ مقبول، اسحاق، عباس وغیرہ نوسر باز ہیں. میرپور سے نوسر بازوں کو نکال دیا جائے ان نوسربازوں نےبہت سارے لوگوں کو لوٹا ہے. جس میں بیلی ٹانگ کے حاجی صاحب سولر سسٹم حال مقیم جی الیون اسلام آباد ایک کروڑ کے لگ بگ اور بنوں سےہارون خان چپس رگڑائی والے کا 38لاکھ اور کوہاٹ کے سامعین خان کا 34 لاکھ. جب کے مانسہرہ کے عمران ہری پور کا 28 لاکھ، بالاکوٹ سےدل پذیر، حاجی رفیق بالاکوٹ جو گاڑی کی بکنگ کے لیے میرپور میں آئے اور ان نوسربازوں نے لوٹ لیا ان سب کے دن گنے جا چکے ھیں بہت جلد میرپور میں بندروں کی طرح ناچیں گے.میرپور میں جن لوگوں کے مکانوں میں لا لا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹا گیا ہے وہ مکان مالک بھی زیر تفتیش آئیں گے.
نوسرباز اپنا نام تبدیل کر کے عباس ولد محبوب عرف ملک طارق فیصل آباد بتاتا تھا، عبداللہ اشرف ولد عنائت علی سکنہ سنگڑھ اپنا نام کبھی چوہدری یاسر اور کھبی چوہدری اقبال اور کھبی ناصر بتاتا تھا. اوراسحاق ولد محبوب حیسن ساکن دموٹ سنگڑھ عرف خالد اپنا نام چوہدری ثاقب بتاتا تھا اور ماریہ طاھر اپنا نام عروج بتاتی تھی. ایسے یہ لوگ اپنے اصل ناموں کی جگہ کوڈ نام رکھتے تھے. کچھ نے تو دو دو قومی شناختی کارڈ بھی بنوا رکھے ہیں.جیسے عباس کے خلاف بھمبر میں دو شناختی کارڈ کی ایف آئی آر بھی درج ہے.
شروع میں تو ان کو مظلوم سمھجا گیا لیکن ان کا جھوٹ سامنےآنے لگا.چند دن بعد ہی اس گروہ نے پھر مھجے جھوٹی گواہی دینےکا کہااور ساتھ میں پچاس ہزار کی افر کی جب میں نے انکار کیا تو ان لوگوں نےمیرے ساتھ رنگ برنگے ڈرامے بنانے شروع کر دیے پھر کچھ دن کے بعد میرپور میں عباس راجہ مقبول اور ان کے ساتھی جعلی کرنسی کے چکر میں پکڑے گئے وہ بھی الزام میرے اوپر لگایا گیا جبکہ حقیقت یہ تھی کے ماریہ طاھر اور اس کا خاوند عبداللہ اشرف اور راجہ مقبول کے بیٹے حسن شہزاد وغیرہ نے مل کر پکڑانے میں اھم رول تھا کیونکہ عباس ولد محبوب عرف ملک طارق فیصل آباد حال مقیم نیو سٹی میرپور ان سے الگ اپنا گروہ بنانے کے چکر میں تھا. تواس کو ساتھ ملانے کے لیے اور راجہ مقبول کے بیٹے نےبولا چحچی ماریہ میرے ابو مجھے پیسے نہیں دیتا میں نے باھر جانا تھا اس کو بھی ساتھ پکڑاتے ھیں تو بعد کو ضمانتیں کرا لیں گے تو عباس وغیرہ بھی آپ کے نیچے لگ جائیں گے تو ماریہ طاھر کے خاوند عبداللہ اشرف نے اس کو بیس 20000دینا کیا کے بس جلدی کرنا ھے.

مظفر آباد(ارشد وارثی) پاکستان میں زیادتی کا شکار ہونے والی مختارہ مائی جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہسائی او...
24/04/2020

مظفر آباد(ارشد وارثی) پاکستان میں زیادتی کا شکار ہونے والی مختارہ مائی جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہسائی اور بدنامی ہوئی اور بہت بڑا اسکینڈل بنا۔ اس اسکینڈل۔سے متاثر ہو کر آزاد کشمیر کے علاقے میرپور کی ایک عورت خود کو زبردستی ریپ کا الزام لگانی والی اسکینڈل کوین ماریہ طاہر جو کہ دن رات ایک کر کہ خود کو مختارہ مائی بنانا چاہتی ہے جس میں اس کا مقصد انٹرنیشنل این جی اوز کا سہارہ لے کر پاکستان کو بدنام کرنا ہے ۔تفصیلات کے مطابق اسکینڈل کوین ماریہ طاہر اور اس کی ماں نے اس سے قبل بھی ان بد بختوں نے ایسا ہی ڈرامہ پاکستان میں بھی لگایا تھا جو کہ کامیاب نہ ہو سکا ۔ اس خاتوں کے پنجاب بھر میں بیشتر اسکینڈل روزانا کی بنیاد پر نشر ہونے لگے تو اس کے نہایت ہی شریف النفس بزرگ والد کے گوش و گزار ہوئے تو والد محترم مستری اصغر نے اس خاتون ماریہ طاہر کی سرزنش کرنے کی کوشش کی تو اس کی والدہ کشور سلطانہ جو خود بھی اپنے زمانے کی اسکینڈل کوین رہ چکی ہے وہ آئی اور اپنے شریف النفس شوہر کو زلیل و رسوا کر کہ گھر سے نکال دیا ۔ جس کی نعش چند روز بعد کسی ویران جگہ سے ملی جو کہ زیر تصویر دیکھی جا سکتی ہے ۔ ان دونوں ماں بیٹی نے اپنی جسمانی تسکین اور مال کے لیے ایک شوہر اور والد کی جان لے لی ۔ اس ظلم و ستم کے بعد اہل محلہ نے ان دونوں ماں بیٹی کو شہر بدر اور ضلع بدر کروا دیا ۔ اس کے بعد یہ لوگ آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر میں رہائش پزیر ہو گے جہاں پر یہ لوگ اپنی فطرت کے عین مطابق کاروایاں کرنے لگے ۔ جوں ہی اہل علاقہ بلخصوص سنئیر وزیر چوہدری طارق فاروق صاحب کو ان بد کردار فیملی کا علم ہوا تو محترم چوہدری طارق فاروق صاحب نے بروقت کاروائی کرواتے ہوئے انہیں ضلع بدر کروا دیا تاکہ ضلع بھمبر ایسی بد کردار خواتین کے شر سے بچ سکیں ۔مگر یہ گروپ اس وقت بھمبر کے چند شریف شہریوں کے ساتھ ساتھ سنئیر وزیر چوہدری طارق فاروق صاحب کی عزت اور شہرت پر بھی انگلی اٹھا رہی ہے جس کو بھمبر کے شہریوں میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ اس وقت یہ خاتوں میرپور کے سیکٹر نیو سٹی میں بیٹھ کر اپنا نیٹ ورک چلا رہی ہے انتظامیہ اور قانون نافظ کرنے والے اداروں سے کاروائی کا مطالبہ

ماریہ طاہر۔۔۔۔۔۔۔۔کے بارے میں چند اہم انکشافات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!ماریہ طاہر کون ہے؟ماریہ طاہر کہاں سے ہے۔؟ماریہ طاہر کا کرد...
16/04/2020

ماریہ طاہر۔۔۔۔۔۔۔۔کے بارے میں چند اہم انکشافات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
ماریہ طاہر کون ہے؟ماریہ طاہر کہاں سے ہے۔؟ماریہ طاہر کا کردار کیسا ہے؟ماریہ طاہر کے لگاے گئے الزامات کیا ہیں؟ماریہ طاہر کا کردار سابقہ کیا ہے؟ماریہ طاہر کی شہرت عام معاشرے میں کیسی ہے؟ماریہ طاہر نے جن لوگوں پر الزامات لگائے ان کا کردار معاشرے میں کیسا ہے۔؟ماریہ طاہر کون سے گروہ میں سے ہے؟ماریہ طاہر بار بار چوھدری طارق فاروق پر تنقید کیوں کرتی ہے؟ماریہ طاہر کا گروہ کون کون سی کارروائیوں میں ملوث ہے؟ماریہ طاہر کے اپنے کہنے پر آنے والے 24نیوز چینل کے مشہور و معروف اینکر مکرم کلیم کے پروگرام انکشاف میں بری طرح ناکام اور اپنے لگائے گئے الزامات میں کیوں ناکام رہی؟بلکہ جھوٹی ثابت ہوئی۔ماریہ طاہر کی تفتیش پولیس کے مختلف آفیسران نے کی۔کچھ پر عدم اعتماد بھی کیا لیکن تمام کی تمام تفتیش میں کیوں جھوٹی ثابت ہوئی؟کیا تمام آفیسران ہی کرپٹ تھے؟
عدلیہ میں اپنا مقدمہ کیوں نہ ثابت کر سکی؟بھمبر کی سول سوسائٹی میں سے کیوں نہ کوئی جاندار آواز اس کے لیے اٹھی؟کیا بھمبر میں لوگوں نے سچ بولنا اور سننا چھوڑ دیا ہے؟
----------------------------++++++--------------------------------
ان سب سوالوں کے جوابات کے بارے میں میری چند گذارشات۔میں نے کچھ حقائق جاننے کی کوشش کی اور کوشش کی کہ حق اور سچ کی آواز آپ تک پہنچا سکوں۔
بھمبرمیں کون ماریہ طاہر کے نام سے واقف نہیں ہے۔لیکن درحقیقت یہ خاتون ملتان کی ہے۔ملتان التمش روڈ نزد مسجد ٹین سازان مکان نمبر 25/6محلہ گجر کھڈو نزد جی پی او ملتان میں یکم جون 1989 کو مستری محمد طاہر ولد نتھو کے گھر پیدا ہوئی۔محمد طاہر المونیم اور شیشے کا کام کرتا تھا اور باعزت روزی روٹی کمانے میں مصروف تھا۔ماریہ کے دو بھائی قیصر اور عثمان ہیں اور 6 بہنیں ہیں جن کے نام بالترتیب روبینہ۔تہمینہ۔بشری۔مریم۔روزینہ اور عائشہ ہیں سب لوگ خاندان میں اور معاشرے میں اچھی عزت کے حامل تھے کہ ماریہ طاہر نے ان کی عزت کو تار تار کرتے ہوئے اپنے کالج سے جہاں ماریہ طاہر ایف ایس سی کی طالبہ تھی اپنے آشنا جس کا نام مزمل بتایاگیاہے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی۔ کیا گھر سے بھاگنے والی لڑکیاں معاشرے میں کوئی اچھا مقام بنا سکتیں ہیں۔ایسا تو ممکن ہی نہیں۔ جس نے گھر والوں سے وفا نہ کی اس نے آشنا مزمل سے بھی وفا نہ کی۔پھر اس نے آشنا مزمل کے4 ساتھیوں پر ریپ کا الزام لگایا اور ہسپتال میں ایڈمٹ ہو گئی۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی اس نے اسی ہسپتال کے ڈاکٹر حبیب اللہ ولد محمد اسحاق جو کہ ساکن وتحصیل جام پور راجن پورہ کا رہنے والا تھا اس سے پیار کی پینگیں بڑھانے کے بعد اس سے 23جولائی 2010 کو اس کے ساتھ نکاح کر لیا لیکن یہ چال باز عورت رکی یہاں بھی نہیں اس نے 25 مارچ 2011 کو ڈاکٹر حبیب اللہ سے طلاق لی اورپھر اس نے وہاں پڑوس میں موجود عبداللہ اشرف ولد محمد عنایت سکنہ نکہ سنگڑہ سے پینگیں بڑھانا شروع کیں۔جو کہ وہاں جعلی کرنسی کی مشین کا دعوہ کر کہ بندوں کو لوٹتا تھا۔ عبداللہ اشرف نے اس کے ساتھ فرضی نکاح 7جولائی2011کو جہلم میں کیا جس میں نکاح کا گواہ شبیر ملنگ اور راجہ مقبول تھا جو کہ خود بہت سے کریمنل کاموں میں ملوث ہیں اور سوسائٹی میں کوئی اچھی شہرت کے حامل نہیں ہیں۔
عبداللہ اشرف نے ماریہ کو کچھ عرصہ میرپور میں رکھا اور اپنے نوسر باز گروہ میں شامل کر لیا۔اس میں شامل اہم کردار..
1 عبداللہ اشرف سکنہ نکہ سنگڑھ
2 عباس راجہ دموٹ سنگڑھ
3 راجہ مقبول سکنہ بن خرماں
4 راجہ محمد ابرار سکنہ نکہ سنگڑھ۔
ان صاحبان کی معاشرے میں شہرت اچھی نہیں ہے بلکہ یہ لوگ ڈبل شناختی کارڈز رکھنے،قتل کی وارداتوں میں سزا یافتہ ہونے اور منشیات کے جرائم میں ملوث ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر بھمبر میرپور کے مختلف تھانوں میں درج ہیں بلکہ یہ لوگ جعلی کرنسی بنانے اور انسانی سمگلنگ کے کاروبار میں بھی ملوث ہیں انتہائی بدکردار اور نوسرباز ہیں ان کے خلاف لوگوں کے باس کافی آڈیو ویڈیو ثبوت موجود ہیں بلکہ ان کے آپس کے اختلاف کی وجہ سے ان کے خلاف ان کے اپنے گروپ کے کچھ لوگوں نے پریس کانفرنس کر رکھی ہیں۔
عبداللہ اشرف اور اس نوسر باز حسینہ نے میرپور کا سادہ لوح لوگوں کو خوب لوٹا آئے روز نیا شکار گھیر لیا کرتے تھے کسی کو انگلینڈ بھجوانے کے بہانے لوٹا تو کسی کو ٹاور لگوا کر دینے کے لیے لوٹا کسی کو جعلی کرنسی بنانے اور راتوں رات امیر ھونے کے خواب دکھائے۔ جب ادھر شہرت عام ھوئی نوسر بازوں کی تو میرپور سے بھمبر کا رخ کیا۔
بھمبر میں مکہال میں پناہ لی اور یہاں بھی اس نوسر باز حسینہ نے اپنی زندگی کے عشق کی لازوال داستانیں رقم کیں پھر کوٹھی موڑ۔پھر سیرلہ پھر شیر جنگ کالونی۔اور مزہ کی بات یہ کہ کسی جگہ بھی عرصہ قیام چھ ماہ سے زیادہ نہیں۔اس دوران بہت سے لوگوں کو اس نوسر باز گروہ اور چال باز حسینہ نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔آخر کیا وجہ تھی کہ یہ خاتون 6 ماہ۔ سے زیادہ کسی جگہ قیام نہ کر سکی وہ اس کے خاوند اور اس کے خود کے کالے کرتوت تھے جن سے چھپنے کے لیے یہ لوگ۔ مکان تبدیل کرتے رہے۔اس دوران اس نے اپنا رخ ژانگ فرنچائز کے مالک ہارون الرشید کی طرف کیا۔
ہارون الرشید سے پیار کی پینگیں بڑھانے کے دوران اسے اپنے جال میں پھنسایا اور اس سے ہمدردی سمیٹنا شروع کی کہ میرا میاں مجھ پر بہت ظلم کرتا ہے مجھے اس کے مظالم سے چھٹکارا دلانے میں میری مدد کرو نہیں تو میں خود کشی کر لوں گی۔اس بات کے ثبوت آڈیو کال کی صورت میں موجود ہیں۔ اس دوران ہارون الرشید سے بھی پیار کی پینگیں بڑھائیں اور نوسربازی میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ہارون الرشید مالی طور پر مستحکم اور شریف النفس آدمی تھا وہ اس طرف مائل نہ ہوا تو اس چال باز حسینہ نے بتایا کہ میرے خاوند کو پتہ چل گیا ہے تو اسے کچھ پیسے دے کر چپ کرا دو نہیں تو وہ مجھے طلاق دہ دے گا یا پھر مجھے بھگا کر لے جاؤ ان باتوں کے بھی آڈیو موجود ہیں۔جب ہر طرف سے ناکام ہوئے تو اس نوسرباز گروہ نے اپنی طرف سے بھاری رقم کا مطالبہ کر دیا جو کہ چالیس لاکھ تھی۔جب ہارون الرشید نے دینے سے انکار کیا تو انہوں نے اس پر جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی۔ہارون الرشید جو کہ پھنس چکا تھا اس نے اپنی فیملی اور خاندان کے اکابرین کو سارا قصہ سنایا اور ان کو اعتماد میں لیا اور اپنی پریشانی سے آگاہ کیا کہ وہ کس طرح اس چالباز حسینہ اور اس کے نوسر باز گروہ کے ہاتھوں بلیک میل ہورہا ہے۔خاندان کے اکابرین نے ہارون الرشید کی حوصلہ افزائی کی اورہر طرح کی جائز سپورٹ کا یقین دلایا۔اس حوصلہ افزائی پر ہارون الرشید نے ڈٹ کر اس نوسر باز گروہ کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔
جھوٹی ایف آئی آر جو درج کرائی گئی تھی۔اس کی ابتدائی تفتیش ایڈیشنل ایس ایچ او طارق سلہریا نے کی۔ جس میں جھوٹے ثابت ہونے پر اس نوسر باز گروہ نے اس ایس ایچ او پر عدم اعتماد کیا تو تفتیش ایس ایچ او سٹی بھمبر حاجی سکندر اعظم کو سونپی گئی۔وہاں سے بھی جھوٹے الزامات میں جھوٹا ثابت ہونے پر تفتیش پر پھر عدم اعتماد کیا گیا۔پھر تفتیش ڈی ایس پی بھمبر چوھدری محمد امین اور ایس پی بھمبر چوھدری محمد منیر نے کی ادھر سے بھی جھوٹے ثابت ہونے پر تفتیش پر عدم اعتماد کیا گیا پھر اس کی تفتیش مایہ ناز اور گولڈ میڈلسٹ پولیس آفیسر ایس ایس پی میرپور راجہ عرفان سلیم کو سونپی گئی انہوں نے اس کیس کی جدید سائنسی طریقہ کار سے تحقیق کی لیکن کہیں بھی سچائی کا عنصر نمایاں نہ ہوا تو انہوں نے اس ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے اس کی اختتامی کے احکامات صادر فرمائے۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جملہ تمام آفیسران سارے ہی کرپٹ تھے کسی ایک نے بھی حق سچ کا ساتھ نہیں دیا نہیں نہیں بلکہ یہ نوسر باز گروہ اور نوسرباز حسینہ مستند جھوٹے تھے۔ پولیس میں یہ لوگ جھوٹے ثابت ہوئے۔میڈیا کے پروگرام انکشاف میں یہ لوگ جھوٹے ثابت ہوئے۔عدلیہ میں یہ لوگ جھوٹے ثابت ہوئے۔پنجائت میں یہ لوگ جھوٹے ثابت ہوئے۔اب بھی ماریہ طاہر کا مقدمہ کورٹ میں ہونے کے باوجود یہ عدلیہ چیف جسٹس اور مقتدر اداروں پر الزامات لگاتی ہے سچائی پر جو بھی بولے اس کو ملزم نظر آتا ہے۔ اس کی ہزاروں کالز کا ریکارڈ ہے۔ جس میں یہ اس پر ڈورے ڈال رہی ہے اس کے خاوند کی کالز ہیں جس میں وہ ہارون الرشید کو ڈرا دھمکا رہا ہے لیکن دونوں ماننے سے انکاری ہیں تو کیوں نہیں یہ لوگ ان کالز کا فرانزک لیب سے کیوں نہیں کرواتے۔ملتان والے ریپ کے ملزمان کدھر ہیں اور مقدمہ کی پیروی کیوں نہیں کی؟گھر سے ماریہ بھاگی کیوں تھی؟ماریہ طاہر کے گھر والوں نے اسے عاق کیوں کیا؟
بلکہ اس نے میرپور میں ہونے کا فاہدہ اٹھاتے ہوئے کئی دفعہ ہارون الرشید کو ڈرایا دھمکایا اور جان لیوا حملہ تک میرپور کچہری میں کیا اور پھر وہ حملہ کر کے اس حملے کے شادیانے اپنی فیس بک کی آئی ڈی۔ پر بھی شئیر کیے۔ اور اس سب کے ساتھ ساتھ ہارون الرشید پر جھوٹے مقدمات بھی درج کرائے جوکہ مقامی پولیس نے ان نوسر بازوں سے بخوبی آگاہ ہونے کی وجہ سے اور تفتیش کے دوران ان کے جھوٹے ثابت ہونے پر ایف آئی آرز کو خارج کر دیا۔اب جب یہ جھوٹے الزامات لگانے والے نوسرباز گروہ کو کچھ ہاتھ نہیں آیا اور میرپور میں انتظامیہ اور لوگوں کے سامنے پول کھلنا شروع ھوے تو انہوں نے میرپور سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے اس نوسرباز حسینہ کو مختاراں مائی کے طور پر پیش کر کے اس کو غیر ملکی این جی اوز اور غیر ملکی ایجنسیوں سے روابط قائم کرلئے اور یہ عورت آئے روز سوشل میڈیا پر بکواسات کی بھرمار کر رہی ہے شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے کے ساتھ ساتھ اعلی عدلیہ متعدد حلقوں چیف جسٹس آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر حکومت کے سنئیر وزیر۔ چوہدری طارق فاروق کے خلاف انگنت الزامات لگا رہی ہے بلکہ ان دنوں تو یہ اپنے ملزمان کو چھوڑ کر بس چوہدری طارق فاروق۔ اعلیٰ عدلیہ پر بکواسات کر رہی ہے۔ براؤن سوٹ لے کر دے یہ اور الزامات شرفاء پر اور پیار کی پینگیں بڑھائے یہ اور الزامات شرفاء پر۔خودکشی کے ڈرامے کرے یہ اور الزامات شرفاء پر۔چوھدری طارق فاروق کا اس کیس سے دور دور تک کا تعلق نہیں لیکن ان پر بھی الزامات کی بوچھاڑ کر رکھی ہے۔اس نوسر باز گروہ کے خلاف جونہی کوئی مقدمہ درج ہوتاہے کوئی تحقیقات کا آغاز ہوتا ہے یہ لوگ عورت کارڈ کھیل کر صاف بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس نوسرباز گروہ۔ میں یہ لوگ جن جرائم میں ملوث ہیں ان کی تفصیلات یوں ہیں۔ڈبل شناختی کارڈ رکھنے کے جرائم کی ایف آئی آر ان پر درج ہیں۔یہ نوسر باز گروہ منشیات کے مقدمات میں ملوث ہے۔قتل کی وارداتوں میں سزا یافتہ ہے۔
یہ گروہ انسانی سمگلروں سے رابطے میں ہے اور انسانی سمگلنگ میں ملوث ہے لوگوں کو یورپ کے سہانے خواب دکھا کر لوٹتا ہے۔لوگوں کو ٹاور لگا کر دینے کا جھانسا دے کر لوٹتا ہے۔
جعلی کرنسی کی مشین ہونے کا کہہ کر لوگوں سے اس ضمن میں لاکھوں ہڑپ کر چکے ہیں۔یاد رہے کہ عبداللہ اشرف کا والد شادیوں میں پانی بھرتا تھا اور ماریہ طاہر کا والد مستری تھا آج ان کے اکاؤنٹس میں کروڑوں کا لین دین ہے۔ ماریہ طاہر کے اکاؤنٹس میں ہر ماہ لاکھوں روپے کون سے فرشتے ڈال جاتے ہیں پیسہ آتا کہاں سے ہے کون من و سلویٰ کی طرح عطا کرتا ہے۔ان کے پاس تین منزلہ کوٹھی کہاں سے آئی ہے۔ جس کو اکاؤنٹ کی تفصیلات چاہیے میں ثبوت مہیا کر دوں گا یہ لوگ صرف لاکھوں روپے کے زرائع آمدن بتا دیں بلکہ اب یہ لوگ کچھ سیانے ہو گئے ہیں اب اپنے پیسے دوسروں کے نام پر رکھتے ہیں جیسے ان کا کافی سارا پیسہ ان کے مشترکہ دوست زولفقار کے نام پر بھی جمع ہے۔ ان دنوں بھی یہ گروہ چترپڑی نیو سٹی میرپور اور میرپور کے پوش علاقوں میں کرائے کے مکانات لے کر منشیات کے مکروہ دھندے اور جعلی کرنسی کے گھناؤنے کاروبار میں مصروف ہے جہاں لوگوں کو اور پولیس کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں جب کبھی پکڑا جانے کا خوف ہوتو عورت کارڈ سوشل میڈیا پر کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔اور پولیس بھی چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر کارروائی کرنے سے قاصر ہے حالانکہ ان کے خلاف لوگوں نے بیشمار مقدمات درج کراے ہوئے ہیں۔ ان پر سنگین الزامات اور مقدمات ہیں لیکن زبان دراز حسینہ نے ان کو محفوظ رکھا ہواہے۔سوشل میڈیا پر مختاراں مائی کا روپ دہارے یہ حسینہ درحقیقت کالی چرن اور سلطانہ ڈاکو رانی ہے جو کہ سوشل۔ میڈیا پر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے۔ان کے گروہ نے مانسہرہ۔ایبٹ آباد۔بلی ٹانگ۔کوھاٹ۔گلگت بلتستان بھمبر میرپور۔چکوال۔مردان۔پشاور۔ اور بنوں کے لوگوں کو لوٹ رکھا ہے غرض یہ کہ یہ۔ لوگ پورے پاکستان کو چونا لگا چکے ہیں ان شہروں کے لوگوں نے تو ان کے خلاف مقدمات کروا رکھے ہیں جن کے ثبوت مہیا کیے جا سکتے ہیں گمنام نہ جانے کتنے ہیں ان لوگوں نے متعدد بار ان کو گرفتار کروایا لیکن یہ لوگ عدالت سے چکما دہ کر راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔
میری دھرتی کے لوگوں کو چکمہ دینے والی چال باز حسینہ اور نوسر باز گروہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔اور یہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والی حسینہ میرے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہی ہے اور چور بھی کہے چور چور کی ضرب المثل کو سچ ثابت کر رہی ہے۔ خود لوگوں کو لوٹ کر خود ھی ناانصافی کا شور بھی ڈال رہی ہے۔ اللّٰہ تعالٰی میرے کشمیر کے سادہ لوح نوجوانوں اور عام لوگوں کو ان کر شر سے محفوظ رکھے۔اور کشمیر کا نام بدنام ہونے سے بچائے۔ یہ عورت درحقیقت خواتین کے ساتھ ساتھ کشمیر کے ایمیج کو بھی سوشل میڈیا پر بدنام کر رہی ہے۔ یہ خاتون بلکہ تحریک آزادی کشمیر کو بھی بدنام کر رہی ہے لوگ کیا سوچتے ہوں گے کہ کیا کشمیری ایسے ہوتے ہیں جبکہ تحریک کشمیر بڑے نازک دور سے گزر رہی ہے۔
اس خاتون سے سوشل میڈیا پر اوپن پیغام ہے کہ بھمبر میں آئے اور عام سول سوسائٹی کے سامنے اپنے الزامات کو دھرائے۔یا پھر بھمبر میں انتظامیہ کے سامنے اپنے مقدمہ کے ثبوت پیش کرے۔یاپھربھمبر میڈیا انوسٹیگیشن کا سامنا کرے۔کچھ نہیں کر سکتی تو کشمیر کے نام کو خراب نہ کرے۔بھمبر کی دھرتی شہیدوں غازیوں کی دھرتی ہے۔اللہ ہمیں اس نوسر بازوں کے شر سے محفوظ رکھے اور چال باز حسینہ کی قاتل اداؤں سے بچائے۔تاکہ مزید گھر اجڑنے سے بچ جائیں۔

15/04/2020

Address

Islamabad
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News24 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share