29/12/2025
صدر آل ہوٹل ایسو سیشن سندھ جعفر شاہ آغاہ
کچھ روز قبل ہم نے پریس کلب میں احتجاج کیا تھا
گرین بیلٹ پر بات ہوئی ہم نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا
عملدرآمد کرتے صفائی کردی گئی ہے
ہوٹلوں کے باہر اب گرین بیلٹ پر پنچر اور کیبن کے ٹھئیے لگا دئے گئے ہیں
ڈی ایم سی، کے ایم سی اور پولیس کے بیٹر بھتہ لے رہے ہیں
سر سید تھانے سمیت مختلف تھانوں کے اگے یہ سب چل رہا ہے
اس شہر میں سرکاری اداروں کرو بھتہ نہ دینے پر کمشنر کراچی کو غلط رپورٹ دی جاتی ہے
ہمارے ہوٹلوں پر 10,12 لوگ کام کرتے ہیں
ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ کمیٹی میں رینجرز کا ڈی ایس ار شامل ہو
بھتہ لینے والوں کی تفصیلات رینجرز کو دیں گے تاکہ انکوائری کی جائے
ہم نمائیش چورنگی پر احتجاج کریں گے
شہر کے ہر تھانے کی حدود میں گھٹکا ماوا بنایا جا رہا ہے
یہاں گھٹکا ماوا بنانے والے کی عزت ہے پراٹھا بنانے والے کی عزت نہیں
سب کو سب پتا ہے کہاں کیا چل رہا ہے
ہماری ایک ہی یونین ہے جو ہمارے ساتھ ہیں
ایک ہفتہ میں ہوٹل کھولنے پر 5 ہزار اور جلدی کھلوانے پر 20,25 ہزار روپے رشوت لی جاتی ہے
کاروباری حضرات کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے
شہر میں گھٹکا ماوا جو کینسر پھیلا رہا ہے وہ بند نہیں ہورہا